ایران: ماضی اور حال

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
آج ایران آبنائے ہرمز کو اپنی دفاعی استعداد کیلئے استعمال کرکے امریکہ کو جس طرح تگنی کا ناچ نچا رہا ہے ،اسکاکریڈٹ دراصل شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو جاتا ہے۔ معروف مورخ محمد حسین ہیکل اپنی تصنیف The Return of Ayatollah میں لکھتے ہیں کہ شاہ ایران اپنی فوجوں کو جدید ترین بنا رہا تھا ۔برطانوی اور پاکستانی افسروں نے ایرانی فوج کی تربیت کی تھی۔شاہ ایران پورے علاقے پر چھا جانا چاہتا تھا۔وہ اپنے آپ کو عالمی سطح کا رہنما سمجھنے لگا تھا۔
شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے اپنی خود نوشتAnswer to Historyمیں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا ذکر کرتے ہوئے نہایت فخریہ انداز میں لکھا ہے کہ’’ 1973ء میں عمان کے سلطان کی درخواست پر انہوں نے فوجی امداد بھجوائی کیونکہ تب عمان کی سلامتی کو جنوبی یمن،چین اور کمیونسٹوں کے حمایت یافتہ باغیوں سے خطرات لاحق تھے۔ہماری فوج نے عمان میںنہایت زوردار انداز میں مداخلت کی یہاںتک کہ عمان کے سلطان قابوس جو میرے دوست ہیںانہوں نے صورتحال پر قابو پالیا‘‘۔
شاہ ایران نے1972ء میں سوویت یونین کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کئی عشروں پر محیط سرد جنگ ختم ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ جب اوریانہ فلاشی نے محمد رضا شاہ پہلوی سے یہ پوچھا کہ ان کا بدترین ہمسایہ ملک کونسا ہے تو شاہ ایران نے روس کے بجائے عراق کا نام لیا۔ اوریانہ فلاشی کی تصنیف ’’Interview With History‘‘میں دستیاب تفصیلات کے مطابق شاہ ایران نے کہا کہ سوویت یونین کے ساتھ ہمارے بہترین سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ہم سوویت یونین کو گیس فروخت کرتے ہیں اور گیس پائپ لائن بچھا رکھی ہے۔سر د جنگ ختم ہوچکی ہے۔اسی انٹرویو کے دوران اوریانہ فلاشی نے پوچھا کہ ایران کے پاس بہت طاقتو ر فوج ہے تو شاہ ایران نے کہا ،ہاں ایرانی فوج بہت طاقتورہے مگراتنی نہیں کہ روسی حملے کی صورت میں مزاحمت کرسکے۔
مثال کے طور پر ہمارے پاس ایٹم بم نہیں ہےلیکن اگر تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی تو ہم اتنے مضبوط ہیں کہ مزاحمت کرسکیں ۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تیسری عالمی جنگ بحیرہ روم کے حوالے سے ہوسکتی ہے مگر میرا خیال ہے تھرڈ ورلڈ وار ایران کے معاملے پر باآسانی شروع ہوسکتی ہے۔کیونکہ ہم دنیا کے توانائی کے ذرائع کو کنٹرول کرتے ہیں۔دنیا بھر میں تیل بحیرہ روم کے ذریعے نہیں پہنچتا ،یہ بحر ہند اور خلیج فارس کے ذریعے جاتا ہے۔لہٰذا سوویت یونین حملہ کرئیگاتو ہم مزاحمت کریں گے اور اس صورت میں نان کمیونسٹ ممالک ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھے رہیں گے۔وہ مداخلت کریں گے اور تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے گی۔
ایران نے اپنی عسکری قوت کے اظہار کے طور پر یکم نومبر 1971ء کومتحدہ عرب امارات کی تشکیل سے محض دو دن پہلے آبنائے ہرمز کے قریب ان تین جزیروں پر قبضہ کرلیا جن کے نام ابو موسیٰ ،تنب خورد اور تنب کلاں تھے ۔تنب خورد اور تنب کلاں کو Greater TunbاورLesser Tunb بھی کہا جاتا ہے۔یہ جزائر شارجہ اور راس الخیمہ کے قبضے میں تھے اورانکے حصول سے ایران کو آبنائے ہرمز پر فیصلہ کن کنٹرول حاصل ہوگیا۔شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے 1974ء میں معروف صحافی محمد حسین ہیکل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایرانی فضائیہ کو اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ وہ خلیج سے لیکربحیرہ جاپان تک تمام علاقوں کی حفاظت کرسکے۔بھارت ٹوٹنے والا ہے،بھارت اور پاکستان دونوں ایرانی صنعتی منصوبوں کیلئے قدرتی منڈیاں بن جائیں گےلیکن مجھے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حفاظت کرنا ہوگی۔بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان مزید تقسیم ہو لیکن میں ایسا نہیں چاہتا۔
شاہ ایران نےخطے میں بالادستی قائم کرنے کی غرض سے عراق میں مداخلت شروع کردی ۔عراقی کردوں کو اسلحہ فراہم کرکے اور مالی امداد دے کرحکومت کے خلاف اُکسایاگیا ۔1975ء میں جب عراقی حکومت نے شاہ ایران کی شرائط پر ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیئے تو کردوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا گیا۔ محمد حسین ہیکل اپنی تصنیفThe Return of Ayatollahمیں دعویٰ کرتے ہیں کہ شاہ ایران کی نخوت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے کسی فرد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،اب ہم آقا ہیں۔ہمارے سابق آقا اب ہمارے غلام بن چکے ہیں اور ہر روز ہمارے دروازے پر بھیک مانگنے آتے ہیں ۔
شاہ ایران کے اس بڑے بول کا پس منظر یہ تھاکہ امریکی صدر نکسن نے جب دوسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو ان کی انتخابی مہم کیلئے ایران نے بھی درپردہ پیسہ فراہم کیا۔شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے اب خود کو امریکہ کا حصہ دار سمجھنا شروع کردیا ۔23دسمبر 1973ء کو تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر ایسی باتیں کہہ ڈالیں جو انکے اتحادیوں کو ناگوار گزریں۔شاہ ایران نے کہا ،مغرب اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلائے۔اسے چاہئے کہ تیل کے علاوہ توانائی کے دیگر ذرائع تلاش کرے ۔اگر اہل مغرب ہپی پیدا کرنا چاہتے ہیںتو شوق سے کریں،اگر ان کا جھکائوبائیں بازو کی طرف ہوتا ہے تو چشم ماروشن دل ماشاد۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ وہ ایسا اپنے خرچ پر کر سکتے ہیں۔کسی اور ملک بالخصوص ایران کے خرچ پر نہیں۔
محمدرضا شاہ پہلوی کی لیبیا کے فرماں روا کرنل معمرقذافی کے ساتھ ذاتی مخاصمت تھی یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی تو شاہ ایران نے شریک ہونے سے انکار کردیا۔شاہ ایران کی جاہ پسندی اور خبط عظمت کا یہ عالم تھا کہ وہ اب خود کو سرزمین فارس کے قدیم شہنشاہوں کی فہرست میں شمار کرنے لگےاوراپنا تعلق سائرس اعظم کیساتھ جوڑتے ہوئے شہنشاہیت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن منانے کا اعلان کردیا۔
دیکھنا یہ ہےکہ آج ایران کی حکومت شاہ کی حکمت عملی پر چل رہی ہے یا اس نے مختلف سوچ اپنا لی ہے۔
