میں کیوں نہیں ٹوٹا؟

تحریر: حامد میر
بشکریہ: روزنامہ جنگ
یہ ایک ایسے سیاستدان کی کہانی ہے جس کے گھر سے تین شہیدوں کے جنازے اٹھے اور خود ان پر بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ اپنے سگے بیٹے، بھائی اور بھتیجے کی شہادت کے بعد اس بہادر سیاستدان کی کمر تو جھک گئی لیکن وہ آج بھی پاکستانی سیاست میں جرات اور ثابت قدمی کا نشان ہے۔ حاجی غلام احمد بلور کی سوانح عمری کا نام ”میں کیوں نہیں ٹوٹا؟ “رکھا گیا لیکن یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی کہانی ہے جس پر بار بار حملہ ہوا۔ آج اس جمہوریت کی بھی کمر جھک چکی ہے لیکن یہ جمہوریت بیساکھیوں کے سہارے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حاجی بلور صاحب پچھلی نصف صدی کے اہم واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے خان عبدالغفار خان، ولی خان، میر غوث بخش بزنجو اور خیر بخش مری سمیت پاکستانی سیاست کے اہم کرداروں کیساتھ جیل میں وقت گزارا ۔ کئی سیاسی راز انکے سینے میں دفن ہیں جن میں سے کچھ اس کتاب میں سامنے آ گئے ۔ ڈاکٹر محمد سہیل خان دو سال تک ان کی یادیں ریکارڈ کرتے رہے اور 36 گھنٹے کی ریکارڈنگ کے بعد انہوں نے اس کتاب کا مسودہ ترتیب دیا۔ اس کتاب کے مطالعے کے دوران بار بار احساس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور ریاستی اداروں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

وہ آج بھی اپنی غلطیاں دہرانا قومی مفاد کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ سیاسی انتقام اور طاقت کے استعمال سے مزید انتقام جنم لیتا ہے اور حالات پہلے سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں ۔ حاجی غلام احمد بلور کے والد بلور دین پشاور کی ایک معروف کاروباری شخصیت تھے۔ معروف بھارتی فلم ایکٹر شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان اور ان کے بھائی غلام محمد گاما کی بلور دین سے بہت دوستی تھی۔ ان بھائیوں کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس اور خان عبدالغفار خان کی خدائی خدمت گار تحریک سے تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد ایک کشمیری مہاجر خان عبدالقیوم خان صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ خان قیوم مسلم لیگی بننے سے قبل کانگریس میں تھے ۔ انہوں نے”گولڈ اینڈ گنز“ کے نام سے مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح کیخلاف ایک کتاب بھی لکھی۔ 1946ء میں ہوا کا رُخ دیکھ کر وہ کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے اور پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے اپنی کتاب پر خود ہی پابندی لگا دی اور خان عبدالغفار خان کے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ خان قیوم نے پشاور میں دفعہ 144 نافذ کروا دی ۔ 1948ء میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے بابڑا میں فائرنگ کر کے بہت سے لوگ مار دیئے ۔ خدائی خدمت گاروں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں ۔ تاج محمد خان کی گرفتاری کیلئے بار بار چھاپے مارے گئے تو وہ اپنے خاندان سمیت پشاور چھوڑ کر دہلی چلا گیا۔ بھارت پہنچنے کے بعد تاج محمد خان کا حاجی بلور سے رابطہ رہا اور ایک دفعہ وہ اپنے خاندان سمیت حاجی بلور کے گھر پشاور بھی آیا۔ حاجی بلور نے اپنی سوانح عمری کے آغاز میں کہا ہے کہ شاہ رخ خان کا باپ تاج محمد خان دراصل خان قیوم خان کے ظلم سے تنگ آکر پاکستان چھوڑ گیا کیونکہ اسے بار بار ناجائز گرفتار کیا جا رہا تھا۔ حاجی بلور اور ان کا خاندان ابتدا میں سیاست سے دور رہے۔ 1964ء میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا صدارتی امیدوار بنا لیا۔ نوجوان حاجی بلور مادرِ ملت فاطمہ جناح کے جلسوں میں لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے۔ پشاور کے جناح پارک میں فاطمہ جناح کے ایک جلسے میں ایک” غدار وطن “ولی خان کی مادر ملت کے حق میں تقریر سے متاثر ہو کر انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ۔ 1969ء میں وہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں باقاعدہ شامل ہو گئے ۔ 1970ء کے الیکشن میں نیپ کے پاس صوبے میں 15اور خان قیوم کی مسلم لیگ کے پاس 12 نشستیں تھیں۔

جے یو آئی کے پاس چار اور پیپلز پارٹی کے پاس تین نشستیں تھیں ۔ خان قیوم جے یو آئی کیساتھ ملکر حکومت بنانے کی کوشش میں تھا۔جے یو آئی صوبے کی وزارتِ خزانہ مانگ رہی تھی اور خان قیوم وزارت خزانہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ اس موقع پر نیپ نے خان قیوم کا راستہ روکنے کیلئے جے یو آئی کو وزارت اعلیٰ آفر کر دی۔ جے یو آئی راضی ہو گئی اور یوں مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ بن گئے۔ بلوچستان میں بھی نیپ نے جے یو آئی کی مدد سے عطاء اللہ مینگل کو وزیراعلیٰ بنو الیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کے علاج کیلئے خان عبدالقیوم خان کو مرکز میں وزیر داخلہ بنا دیا اور انکے بھائی عبدالحمید خان کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا ۔ دونوں بھائیوں کا تعلق بارہ مولا کے سواتی قبیلے سے تھا۔ حاجی بلور نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ بھٹو کیساتھ تمام تر اختلافات کے باوجود ہم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر 1973ء کا آئین بنایا لیکن خان قیوم جیسے لوگ انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ ہماری صوبائی حکومتوں نے اردو کو دفتری زبان بنانے کے حق میں فیصلے کیے لیکن ہماری حکومتوں کو ملک دشمن قرار دیکر برطرف کروا دیا گیا ۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں مشترکہ اپوزیشن کے جلسے پر فائرنگ کرائی گئی۔ بقول حاجی بلور ہم اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھا کر پشاور پہنچے مگر ہم نے پاکستان کے خلاف بات نہیں کی۔ اس واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کے وزیرحیات محمدخان شیر پاؤ کو پشاور یونیورسٹی میں بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ۔ بھٹوحکومت نے اس قتل کے الزام میں حاجی بلور اور ان کے دو بھائیوں سمیت نیپ کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا اور سپریم کورٹ کے ذریعے نیپ پر پابندی لگا دی۔ نیپ کے ایک سابق رہنما جمعہ خان صوفی کابل میں اجمل خٹک کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب” فریبِ ناتمام “میں شیر پاؤ کے قتل کا ذمہ دار انور اور امجدنامی دو افراد کو قرار دیا ہے جو بم دھماکہ کرنے کے بعد کابل پہنچ گئے تھے۔ انکی اس کتاب کو اے این پی جھوٹ کا پلندہ قرار دیتی ہے لیکن یہ طے ہے کہ شیر پاؤ کے قتل کا سب سے زیادہ نقصان نیپ کو ہوا جس پر پابندی لگ گئی۔ 1975ء میں حاجی بلور پہلی دفعہ سینیٹر بنے ۔ انہیں پانچ ووٹوں کی ضرورت تھی۔ ان کے اپنے کچھ ساتھی انہیں ووٹ دینے پر راضی نہ تھے لہٰذا وہ مولانا مفتی محمود کے پاس گئے اور مدد مانگی۔ درویش صفت مولانا مفتی محمودنے اپنی پارٹی کے دو ووٹ حاجی بلور کو دلوا کر انہیں سینیٹر بنوایا۔ حاجی بلور کہتے ہیں کہ جے یو آئی کے دونوں سینیٹروں نے مجھ سے چائے کے ایک کپ کا بھی تقاضا نہ کیا جس کا آج تصور محال ہے ۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء آنے کے بعد نیپ کی گرفتار قیادت کو رہائی مل گئی ۔ پھر جنرل ضیاء نے جنرل فضل حق کے ذریعے ولی خان کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی۔ ولی خان نے شرط رکھی کہ اگر جنرل ضیاء وردی اتار دیں اور چھ ماہ میں الیکشن کا وعدہ کریں تو میں وزیراعظم بن جاؤں گا ۔ جنرل ضیاء نے انکار کر دیا۔ پھر جنرل ضیا کچھ اسلام پسند قوتوں اور امریکا کی مدد سے گیارہ سال تک اقتدار پر قابض رہے ۔ حاجی بلور کہتے ہیں کہ اگر بھٹو نیپ کی صوبائی حکومت کو برطرف نہ کرتے تو نہ پھانسی پر لٹکتے نہ بار بار آئین ٹوٹتا۔ بھٹو صاحب ہمیں دو صوبوں میں برداشت کر کے 20سال تک پنجاب، سندھ اور وفاق میں حکومت کر سکتے تھے۔

 

Check Also
Close
Back to top button