اسلام آباد پر چڑھائی کا کلچر ختم ہونا چاہیے

تحریر: عامر خاکوانی

بشکریہ: وی نیوز

ہمارے ہاں ستمبر کے مہینے کو ستم گر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اس بار بھی ستمبر کا آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے اور دل دھک دھک کرنا شروع ہوگیا ہے۔

احتجاج کی کالز دی جا رہی ہے، ستمبر کے آخری دنوں میں اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان ہوچکا ہے۔ ملک میں وہی جانی پہچانی بے چینی پھر سے محسوس ہونے لگی ہے۔ ادھر انتظامیہ کنٹینر اکٹھے کر رہی ہے، دوسرے صوبوں سے پولیس کی نفری منگوائی جا رہی ہے۔ عدالتیں اس معاملے کو سن رہی ہیں، اپوزیشن کی بیٹھکیں ہو رہی ہیں اور عام آدمی سوچ رہا ہے کہ اس بار موٹروے کتنے دن بند رہے گی اور موبائل انٹرنیٹ کب جائے گا؟ سچی بات یہ ہے کہ اگر اسلام آباد، پنڈی کے رہائشیوں سے رائے لی جائے تو 90 فیصد سے زیادہ لوگ یہی کہیں گے کہ ان کے شہروں میں دھرنے، احتجاج، مارچ ہرگز نہ کیے جائیں۔

2 سال قبل اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کسی کام کی غرض سے گیا اور پھر وہاں پر 3 دنوں تک محصور رہنا پڑا۔ وجہ یہی احتجاج تھا۔ راستے بند ہوگئے اور خود اسلام آباد کے اندر ہی موومنٹ کرنا بہت مشکل ہوگیا۔ مجھے یاد ہے کہ پیارے صحافی دوست احمد اعجاز کو میری میزبانی کرنا پڑی کیونکہ کوئی اور آپشن ہی نہیں بچا تھا۔ ایک دن عصر کے وقت فلٹر پلانٹ سے پانی لینے ہم دونوں گئے تو وہاں پر بارش سے بھیگے ، نڈھال 4-3 کارکنوں سے ملاقات ہوئی جو پولیس سے چھپتے چھپاتے پھر رہے تھے۔ بے چاروں کے پاس کوئی رہنے کی جگہ تھی نہ کھانے پینے کا آسرا۔ ایک ادھیڑ عمر شخص بھی تھا، بتانے لگا کہ وہ موٹرسائیکل پر فیصل آباد سے سفر کر کے آیا ہے اور اب بھاگ دوڑ سے اس کی طبیعت خراب ہوچکی۔ ان کارکنوں پر ترس آیا جن کا کوئی والی وارث ہی نہیں تھا، بے چارے اپنی پارٹی کی خاطر آ کر خجل خوار ہو رہے تھے اور پارٹی لیڈروں کو پروا ہی نہیں تھی۔

میں اس کالم میں کسی ایک جماعت کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کرنا چاہتا۔ سچ پوچھیں تو اس حمام میں سب ایک جیسے ہیں۔ آج جو جماعت مارچ کر رہی ہے، کل وہ حکومت میں تھی اور تب انہیں احتجاج برا لگتا تھا۔ آج جو حکومت میں ہیں، وہ کل خود لانگ مارچ اور احتجاج کو جائز اور درست سمجھتے ۔ اس لیے بات جماعت کی نہیں، اس طریقہ کار کی ہے جسے ہم نے پچھلی کئی دہائیوں میں سیاست کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔

ہماری تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ 1977 میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک چلی۔ سڑکوں پر ہنگامے ہوئے، شہر بند ہوئے، جانیں گئیں۔ انجام کیا نکلا؟ جنرل ضیا الحق کا مارشل لا، جو 11 برس چلا اور جس کی قیمت ہم آج تک ادا کر رہے ہیں۔ جو لوگ سڑکوں پر جمہوریت مانگ رہے تھے، انہیں جمہوریت کی شکل دیکھنے کے لیے ایک دہائی سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

1992 میں بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ کیا۔ 2009 میں میاں نواز شریف ججوں کی بحالی کے لیے لاہور سے نکلے اور ابھی گوجرانوالہ ہی پہنچے تھے کہ بحالی کا اعلان ہو گیا۔ 2013 میں طاہر القادری صاحب اسلام آباد کے بلیو ایریا میں آ بیٹھے۔ پھر 2014 کا وہ طویل دھرنا آیا جو 126 چلا، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی تک معاملہ جا پہنچا اور چینی صدر کا دورہ ملتوی ہو گیا۔ 2017 میں فیض آباد کا دھرنا ہوا جس نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو کئی ہفتے مفلوج رکھا۔ 2019 میں مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ لے کر آئے۔ اس کے بعد تحریک ’ل ب یک‘ کے مارچ، پھر 2022 اور 2024 کے مارچ۔

آپ نے غور کیا؟ اس فہرست میں دائیں بازو والے بھی ہیں، بائیں والے بھی، مذہبی جماعتیں بھی اور لبرل بھی۔ یعنی یہ کسی ایک کا مرض نہیں، پوری سیاسی کلاس کو یہ عادت پڑ چکی ہے کہ مطالبہ منوانا ہو تو دارالحکومت کا گھیراؤ کر لو۔

اصل سوال یہی ہے۔ جب اسلام آباد کی طرف مارچ ہوتا ہے تو صرف اسلام آباد بند نہیں ہوتا۔ جی ٹی روڈ پر کنٹینر لگتے ہیں، موٹروے بند ہوتی ہے، اٹک کا پل اور دریائے سندھ کے راستے روک دیے جاتے ہیں۔ پشاور سے لاہور تک ہر وہ شخص پھنس جاتا ہے جس کا اس سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ذرا اس ٹرک ڈرائیور کا سوچیں جس کے ٹرک میں کراچی کی بندرگاہ سے آیا مال لدا ہے اور وہ 3 دن سڑک کنارے کھڑا ہے۔ اس دیہاڑی دار مزدور کا سوچیں جو راولپنڈی کی کسی منڈی میں کام کرتا ہے اور شہر بند ہونے سے اس کے گھر چولہا نہیں جلتا۔ اس مریض کا سوچیں جسے پمز یا شفا اسپتال پہنچنا تھا اور ایمبولینس کنٹینروں کے درمیان پھنسی رہی۔ ان طالب علموں کا سوچیں جن کے امتحان ملتوی ہوئے، اور ان والدین کا جو بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے ڈرتے رہے۔

موبائل انٹرنیٹ بند ہوتا ہے تو آن لائن کام کرنے والے ہزاروں نوجوان فری لانسر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جن کی روزی رائیڈ کی ایپ یا فوڈ ڈیلیوری سے جڑی ہے، وہ بھی بے کار ہو جاتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ ہر بڑے مارچ کی خبر پر لڑکھڑاتی ہے اور وہ غیر ملکی سرمایہ کار جو ویسے ہی پاکستان آنے سے پہلے 10 بار سوچتا ہے، ٹی وی پر آنسو گیس کے بادل اور جلتی گاڑیاں دیکھ کر اپنا فیصلہ بدل لیتا ہے۔ ہم ایک طرف دنیا سے کہتے ہیں کہ یہاں سرمایہ لگائیں، دوسری طرف ہر چند ماہ بعد انہیں یہ تماشا دکھاتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس خرابی کی ذمہ داری صرف احتجاج کرنے والوں پر نہیں۔ حکومتیں بھی آدھا ملک کنٹینروں سے بند کر دیتی ہیں، پورے ملک کا انٹرنیٹ کاٹ دیتی ہیں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف اندھا دھند پکڑ دھکڑ کرتی ہیں۔ یہ طریقہ بھی غلط ہے اور اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ سیاسی ٹینشن گھٹائی جائے، اپوزیشن کو اکاموڈیٹ کرنا چاہیے اور مل جل کر سیاسی نظام چلایا جائے۔

میں احتجاج کے حق کا مخالف نہیں۔ جمہوریت میں اختلاف کی آواز دبانا زیادتی ہے اور آئین پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی یہی بات کہی کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، مگر اس کی آڑ میں سڑکیں بند کرنا، تشدد کرنا اور شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کرنا قابل قبول نہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی صوبائی حکومت کا وفاق کے خلاف جارحانہ مارچ آئینی حدود سے باہر ہے۔ یہ بات کسی بھی صوبے اور کسی بھی جماعت پر یکساں لاگو ہونی چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ احتجاج اور چڑھائی میں فرق کیا ہے؟ میرے نزدیک فرق نیت اور طریقے کا ہے۔ احتجاج اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے۔ چڑھائی کا مطلب ہے کہ ہم ریاست کو گھٹنوں پر لا کر اپنی بات منوائیں گے، چاہے اس کے لیے پورا نظام معطل ہو جائے۔ پہلی چیز جمہوری ہے، دوسری دباؤ کی سیاست، اور دباؤ کی سیاست کا آخری سرا ہمیشہ کسی غیر جمہوری قوت کے ہاتھ میں جا نکلتا ہے۔ 1977 کا سبق یہی ہے، 2014 کا بھی کم و بیش یہی۔

دنیا کی جمہوریتوں میں بھی دارالحکومتوں میں مظاہرے ہوتے ہیں۔ واشنگٹن میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں، لندن میں بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں۔ مگر وہاں پہلے سے طے شدہ راستہ ہوتا ہے، اجازت نامہ ہوتا ہے، اور شام کو لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ کوئی یہ اعلان نہیں کرتا کہ جب تک حکومت نہیں گرے گی یا مطالبہ نہیں مانا جائے گا، ہم دارالحکومت نہیں چھوڑیں گے۔

تو پھر کیا کیا جائے؟ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر یہ طے کر لینا چاہیے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی سیاست اب ختم۔ کوئی جماعت، چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، وفاقی دارالحکومت کا گھیراؤ نہیں کرے گی۔

احتجاج کرنا ہے تو اپنے صوبے، اپنے شہر میں کریں۔ پشاور والے پشاور میں بڑا جلسہ کریں، لاہور والے انتظآمیہ سے اجازت لے کر اپنا شو شہر سے باہر کسی پرسکون جگہ پر کریں ۔ یہی باقی شہروں والے کر سکتے ہیں۔ اگر کسی جماعت کے پاس واقعی عوامی حمایت ہے تو وہ چاروں صوبوں کے بڑے شہروں میں ایک ہی دن بڑے اجتماع کر کے دکھا دے۔ یہ پیغام اسلام آباد کے گھیراؤ سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا اور اس سے ملک بھی مفلوج نہیں ہوگا۔ ٹی وی کیمرے وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں اور سوشل میڈیا تو اب ہر جگہ ہے۔ بات پہنچانی ہے تو پہنچ جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جلسے کی اجازت دینے میں بخل نہ کریں، سیاسی مخالفین کے لیے بات کرنے کے دروازے کھلے رکھیں۔ جب مذاکرات کا راستہ بند کر دیا جائے تو لوگ سڑکوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ دونوں طرف کی ذمہ داری ہے۔

27 ستمبر کو کیا ہوتا ہے، یہ چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔ دعا ہے کہ اس بار کوئی ماں اپنا بیٹا نہ کھوئے، کوئی مریض راستے میں دم نہ توڑے اور ہمارے سیاستدان یہ سمجھ لیں کہ ملک کا پہیہ روک کر کسی کو کچھ نہیں ملتا۔ اللہ اس ملک کو استحکام دے اور ہمیں اپنے اختلافات سلیقے سے نمٹانے کی توفیق دے۔ آمین۔

Back to top button