مریم نواز صاحبہ کو نورتن کی ضرورت

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ملتان میں لندن تک جہاز کے اخراجات پر دی گئی وضاحت پر مجھے خیال آیا کہ کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے ان کے پاس بھی اکبر بادشاہ کی طرح سمجھدار وزیر یا درباری ہونے چاہئیں جن کے ساتھ وہ ریاستی امور پر عوام اور میڈیا سے بات کرنے سے پہلے مشورہ کریں خصوصا ًجو حساس اور متنازع معاملات ہوں یا جن میں ان کی اپنی ذات کا سوال پیدا ہورہا ہو؟ بے شک آپ اُن کی بات نہ مانیں لیکن کم از کم سن تو لیں‘ بعض دفعہ آپ کا ذہن ان باتوں کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوتا جو طاقت کے زعم میں آپ نظر انداز کر جاتے ہیں اور اس کے نتائج اچھے نہیں نکلتے اور بعد میں آپ پچھتاتے رہتے ہیں کہ ایسا کیوں کہا۔ یہ لمحہ ہم سب پر آتا ہے جب ہم اپنی باتیں خود سنتے ہیں تو خیال آتا ہے بہتر تھا کہ اس موقع پر چپ ہی رہا جاتا تو۔ لیکن بعض دفعہ ہماری انا ہم پر حاوی ہو جاتی ہے اور ہم فوراً اس کا ری ایکشن دیتے ہیں اور اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ میں خود اس کا شکار رہا ہوں اور کافی مشکلات دیکھی ہیں۔ عمر کے اس حصے میں جا کر اب میں نے دھیرے دھیرے بہت سے ایشوز کو نظر انداز کرنا شروع کیا ہے۔ کبھی ٹوئٹر یا فیس بک پر کسی نے کوئی منفی کمنٹ کیا تو فورا ًاس کا منہ توڑ جواب دیتا تھا لیکن اب جا کر احساس ہوا ہے کہ ہر بات پر ردعمل یا جواب دینا کوئی سمجھداری نہیں ۔ اگر آپ فوراً جواب نہ دیں کچھ ٹھہر کر دیں تو نتیجہ بہتر نکلے گا۔ وقتی ابال جب ٹھنڈا ہوتا ہے اور دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو آپ کے ذہن میں بہتر خیالات اور جوابات آتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ ہوتا ہے آپ جواب ہی نہیں دیتے کہ چھوڑو یار۔ لیکن یہ سب باتیں آپ کو عمر اور تجربے سے آتی ہیں اور شاید یہی زندگی کی خوبصورتی بھی ہے۔ مجھے نہیں پتہ مریم صاحبہ کو کس نے مشورہ دیا‘ کہ جب آپ کہہ چکی ہیں کہ جہاز کے سارے اخراجات آپ دے رہی ہیں تو پھر اتنی لمبی تقریر کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کا یہی جواب کافی تھا کہ آپ نے اخراجات ادا کر دیے ہیں۔ اس کے بعد بحث تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن مریم صاحبہ نے سوچا کہ ابھی انہیں مخالفین کو منہ توڑ جواب بھی دینا ہے۔ اکبر بادشاہ کے نورتن والی باتیں ملتان میں وزیر اعلیٰ صاحبہ کی تقریر سے یاد آرہی ہیں جو انہوں نے پنجاب حکومت کے جہاز پر لندن کا سفر کیا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر واپس آئیں۔
یہ بات ہمارے حکمران نہیں سمجھ پائے کہ پبلک لائف بہت مشکل ہے۔ اس کے ساتھ بہت سی آسانیاں ہیں تو ساتھ میں مشکلات بھی بہت ہیں۔ آپ دن رات سکروٹنی میں رہتے ہیں۔آپ کیا کھاتے پیتے ہیں‘ کیا پہنتے ہیں‘ چھٹیاں کہاں مناتے ہیں‘کس سے ملنا جلنا ہے‘ بچوں کی شادیاں کس خاندان میں ہورہی ہیں‘ سفر کس کلاس میں کرتے ہیں۔ حتی کہ کسی کو ٹپ کتنی دیتے ہیں‘ سادہ لباس ہے یا چمکیلا‘ آپ کی کلائی پر گھڑی یا گلے میں پہنا ہار‘ ہاتھ میں پکڑا بیگ کس برانڈ کا ہے ۔ اس طرح کی ہزاروں باتیں آپ کی نوٹ ہورہی ہوتی ہیں اور وہی عوام یہ سوال کر تے ہیں جن کے ووٹ کی طاقت سے آپ کو پبلک لائف نصیب ہوتی ہے۔ ابھی ایک بھارتی وزیر کا وڈیو کلپ دیکھ رہا تھا جس میں وہ گاڑی میں بیٹھے گائوں کے لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک بندہ کہتا ہے ہمارے گائوں کی سڑک بنوا دیں ورنہ ہم آپ کو اگلی دفعہ ووٹ نہیں دیں گے۔ اس پر وہ نوجوان وزیر بھڑک گیا اور کہا‘ آپ مجھ سے ریکویسٹ کریں اور اس لہجے میں بات آئندہ نہ کرنا کہ ووٹ نہیں دیں گے۔ اس پر اس وزیر کی پورے انڈیا میں سوشل میڈیا پر مت ماری جارہی ہے۔ اگر وہ وزیر اس وقت ہنس کر کہتا سرکار آپ کی سڑک بھی بنوائیں گے اور ووٹ بھی لیں گے یا آپ کی سڑک بنوا دیں گے بے شک ووٹ نہ دینا یا آپ کا پیسہ ہے اس سے سڑک بنے گی ووٹ دینا نہ دینا آپ کی مرضی‘ تو اندازہ کریں اس وزیر کی کیا بلے بلے ہوتی۔ ہوسکتا ہے دس بیس سال کے بعد یہ نوجوان کسی دن یہی جواب دے گا اور ہنس کر دے گا لیکن وہی بات کہ سمجھ دیر سے آتی ہے۔
اب جس لہجے اور لفظوں کا انتخاب مریم نواز صاحبہ نے کیا اس سے ان کا کیا بھلا ہوا ۔ کیا تنقید رک گئی یا ان کے دیے گئے جواب کو تسلیم کر لیا گیا ہے؟ انکساری‘ عاجزی اور اخلاق بہت بڑی طاقت ہیں جس سے ہم بہت کم آشنا ہیں۔ہمیں لگتا ہے جاہ و جلال اور منہ توڑ جواب دینے والے کی ہی دنیا عزت کرتی ہے۔ مریم نواز صاحبہ کے پاس اگر اکبر بادشاہ جیسے نورتن ہوتے تو وہ جہاز والے ایشو میں اس طرح پھنس کر اتنی تنقید اور ردِعمل کا سامنا نہ کررہی ہوتیں۔ پہلے تو وہ نورتنوں کے ساتھ چائے کافی پر بیٹھ کر یہ ڈسکس کرتیں کہ انہوں نے لندن جانا ہے بیٹی کی گریجویشن کی تقریب ہے‘ کیا مشورہ ہے؟ کسی ایک آدھ سیانے نے جرأت کر کے کہہ دینا تھا کہ آپ بہتر ہے کمرشل فلائٹ سے جائیں جیسے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے سفر کرتی تھیں۔ آپ کے سیاسی مخالف ہیں‘ جہاز لندن لے جا کر کسی کو جواز مت دیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا ہے۔ بس اپنی بزنس کلاس بک کرائیں۔ ساتھ میں اپنا ایک دو سٹاف بھی لے لیں۔ لندن میں بھائی حسن یا حسین کو کہہ کر گاڑی ڈرائیور منگوا لیں اور جا کر خاموشی سے تقریب میں شرکت کریں۔ ممکن ہے کسی نورتن کو خوف ہو کہ اگر ہم نے مزاج کے برعکس مشورہ دیا تو اگلی دفعہ وہ اس بیٹھک میں شریک نہیں ہوں گے۔ یہ پھر مریم صاحبہ پر ہے کہ نورتن کی ایسی بات سننے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ہم انسان عجیب مزاج کے ہیں کہ جو ہمارے مزاج کے برعکس بات کرے یا مشورہ دے تو ہم اس سے فاصلہ کر لیتے ہیں۔ تو پھر نقصان کس کا ہوتا ہے؟ اس معاملے میں مَیں نے نواز شریف صاحب کو بڑا قریب سے دیکھا ہے کہ وہ مشورے کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ اگرچہ کرتے اپنی مرضی ہیں لیکن پوچھتے سب سے ہیں۔ لندن کے دنوں میں اُن سے بڑی ملاقاتیں رہیں اور وہ ہر ایک سے مشورہ مانگتے تھے۔ان کے مقابلے پر شہباز شریف صاحب کو کبھی کسی سے پوچھتے نہ دیکھا۔ اور شاید ٹھیک ہی کرتے تھے کہ آج وہ دوسری دفعہ وزیراعظم ہیں۔ مجھے ایک دفعہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم ہاؤس بلایا تو باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ کوئی مشورہ دیں۔ میں نے کہا‘ میں اتنا ذہین ہوتا جس کا مشورہ مانا جاتا تو میں آج آپ کی جگہ بیٹھا ہوتا۔ مریم صاحبہ میں ایک احساسِ برتری ہے جو فطری طور پر اس وجہ سے آجاتا ہے کہ آپ کا باپ تین دفعہ وزیراعلیٰ‘پھر تین دفعہ وزیراعظم‘ پھر چچا تین دفعہ وزیراعلیٰ اور دوسری دفعہ وزیراعظم‘ کزن حمزہ وزیراعلیٰ اور اب وہ خود وزیراعلیٰ ہیں۔ اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ خود کو سنبھال لینا آسان کام نہیں۔ میں رومن جنرل سیزر پرAdrian Goldsworthy کی لکھی ایک نئی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس میں بھی ایک روایت کا ذکر ہے کہ جب رومن بادشاہ یا جنرل کسی رتھ میں کھڑے ہو کر عوام کی تالیوں کے گونج میں سے گزرتے تو ایک غلام ساتھ کھڑا ان کے کان میں کہتا رہتا تھا کہ تم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا رہتا کہ دنیا فانی ہے تاکہ اس کی انا اور تکبر اس کے قابو میں رہے خصوصاً جب وہ دیکھتے تھے کہ لوگ ان کی جنگی کامیابیوں کی وجہ سے ستائش کرتے تھے۔ مریم نواز صاحبہ کو بھی ایک آدھ نورتن چاہیے یا کم از کم رومن روایات کی طرح ایک ایسا غلام جو کان میں کہتا رہے: You are a mortal ۔
