حکومت پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے احتجاج کو کیسے روکے گی؟

27 ستمبر کا دن ملکی سیاست میں ایک اہم دن ثابت ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے واضح کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی قسم کے انتشار، تشدد یا فائرنگ کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کریں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی مسلسل یہ مؤقف دہرا رہی ہے کہ اس کا احتجاج پرامن ہوگا۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف اس احتجاج کو وسیع اپوزیشن تحریک میں تبدیل کر پائے گی، اور کیا مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی اس میں کسی مرحلے پر اس کا ساتھ دیں گے؟
سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان جاری رابطوں کا مقصد احتجاجی صورتحال کو قابو میں رکھنا اور ممکنہ دھرنے کے خاتمے کی راہ نکالنا تھا، تاہم ان رابطوں سے ابھی تک کوئی ایسا نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے 27 ستمبر کی کال ختم یا مؤخر ہوتی دکھائی دے۔ دوسری طرف حکومت نے احتجاج کے حوالے سے سخت انتظامی مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ محسن نقوی نے بھی واضح کیا ہے کہ فائرنگ کی صورت میں فورسز کو جوابی کارروائی کے لیے قواعد دیے گئے ہیں۔
تحریک انصاف کی کوشش صرف اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی خواہاں ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے جاری ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات کرکے 27 ستمبر کے احتجاج اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف اپنے احتجاج کو وسیع تر اپوزیشن تعاون کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سب سے زیادہ اہم سوال مولانا فضل الرحمن کے ممکنہ کردار کا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کو 27 ستمبر کے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی جا چکی ہے، لیکن فی الحال ایسی کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی کہ مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی طرح حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ملیں گے، تاہم یہ سیاسی دعویٰ ہے اور اسے مولانا کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمن کے معاملے میں اصل اہمیت ان کے سیاسی مؤقف کی ہے۔ اگر جمعیت علمائے اسلام پارلیمانی سطح پر مشترکہ اپوزیشن کا ساتھ دینے تک محدود رہتی ہے تو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں براہ راست شرکت ایک الگ معاملہ ہوگا۔ دوسری طرف اگر مولانا کسی مشترکہ احتجاجی حکمت عملی کا حصہ بنتے ہیں تو اپوزیشن کے سیاسی تعاون کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس وقت دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر ان کی 27 ستمبر کے مارچ میں شرکت کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
جماعت اسلامی کا معاملہ بھی اسی قدر اہم ہے۔ پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ جماعت اسلامی کی اپنی تحریک کا بنیادی مرکز پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور عوامی معاشی مسائل ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مناسب پیش رفت کرتی ہے تو احتجاجی حکمت عملی میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی کا فیصلہ بھی اس کے اپنے مطالبات اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی سمت سے جڑا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا سیاسی سوال صرف یہ نہیں کہ 27 ستمبر کو کتنے کارکن اسلام آباد پہنچتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا مختلف اپوزیشن جماعتیں اپنے الگ الگ مطالبات کے باوجود ایک مشترکہ احتجاجی حکمت عملی پر متفق ہوسکتی ہیں۔ تحریک انصاف کا مرکزی سیاسی ایجنڈا عمران خان اور اس سے جڑے سیاسی و قانونی معاملات ہیں، جبکہ جماعت اسلامی عوامی معاشی مسائل کو اپنی احتجاجی سیاست کا محور بنا رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی اپنی سیاسی ترجیحات ہیں۔ ان مختلف نکات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ایک الگ سیاسی مرحلہ ہوگا۔
دوسری طرف حکومت کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ ایک ہی عرصے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیوں نے اسلام آباد کے انتظامی اور سکیورٹی معاملات کو حساس بنا دیا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے ہیں اور مختلف داخلی راستوں پر رکاوٹوں اور اضافی نفری کے انتظامات کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
اسی دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات کی، جس میں 27 ستمبر کے احتجاج اور عمران خان سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی۔ محسن نقوی کی جانب سے احتجاج کی کال واپس لینے کی بات بھی سامنے آئی، جبکہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہونا ضروری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف احتجاجی محاذ موجود ہے تو دوسری جانب سیاسی رابطوں کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
تحریک انصاف کے اندر بھی احتجاج کی حکمت عملی پر مختلف آراء کی بات سامنے آ رہی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے سیاسی اور پارلیمانی راستوں کو استعمال کیا جائے، جبکہ دوسری سوچ احتجاج کو سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس اختلاف کا عملی اظہار 27 ستمبر کی حکمت عملی میں کس انداز سے ہوتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
ایک اور بنیادی سوال احتجاج کے پرامن رہنے کا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ احتجاج پرامن ہوگا اور کسی قسم کے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت احتجاج کے دوران فائرنگ یا قانون شکنی کی صورت میں سخت کارروائی کا انتباہ دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں احتجاج کی قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں دونوں کے لیے نظم و ضبط برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
یوں 27 ستمبر کا معاملہ محض ایک لانگ مارچ کی کال تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ حکومت، تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی حکمت عملی کا امتحان بن چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ شرکت، جماعت اسلامی کا مؤقف، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی حمایت، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پسِ پردہ رابطے اور احتجاج کے پرامن رہنے کی یقین دہانیاں، یہ سب عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
فی الحال مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں شرکت کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ جماعت اسلامی بھی اپنی الگ احتجاجی حکمت عملی اور مطالبات کے ساتھ موجود ہے۔ اس لیے اصل تصویر آنے والے چند دنوں میں ہونے والے سیاسی رابطوں، مذاکرات اور جماعتوں کے باضابطہ فیصلوں سے واضح ہوگی۔ اگر اپوزیشن جماعتیں مشترکہ نکات پر اتفاق کرلیتی ہیں تو 27 ستمبر کی سیاسی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے، لیکن اگر ہر جماعت اپنے الگ ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو تحریک انصاف کو اپنے احتجاج کی ذمہ داری بڑی حد تک خود ہی اٹھانا ہوگی۔
