کیا واقعی پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہونے والی ہے؟

پاکستان پہلے ہی مہنگے تیل، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے دباؤ میں ہے، لیکن اب بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات و ترسیلی نظام پر حملوں نے اسلام آباد کے لیے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ خطرے کو جنم دے دیا ہے۔ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل ہونے کے بعد سوال یہ نہیں رہا کہ عالمی منڈی پر اثر پڑے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ صورتحال چند ہفتے مزید جاری رہی تو پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات پوری کیسے کرے گا؟

پاکستان کے لیے مسئلہ اس لیے زیادہ حساس ہے کہ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی شدید رکاوٹ پیدا ہوچکی ہے اور سعودی عرب نے ہرمز کے متبادل کے طور پر اپنی مغربی ساحلی بندرگاہ ینبع اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اب اسی متبادل راستے کو بھی حوثیوں کے حملوں سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ 15 ستمبر کو سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل کی ترسیل معطل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ اس سے پہلے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ صورتحال صرف سعودی عرب یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں۔ باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اگر اس راستے میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کے علاوہ دیگر اشیا کی ترسیل، جہاز رانی کے اخراجات اور بیمہ کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے اس کا براہ راست اثر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی بل اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔

پاکستانی حکام بھی اس خطرے سے بے خبر نہیں۔ دفتر خارجہ نے باب المندب کی صورتحال کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ حوثی تنازع کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف پاکستان کے لیے فوری طور پر مکمل ایندھن بحران پیدا ہوجانے کی تصویر بھی ابھی سامنے نہیں آتی۔ آئل انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان نے کچھ عرصے کے لیے متبادل کارگوز اور دیگر ذرائع پر انحصار بڑھایا ہے۔ امریکہ اور مغربی افریقہ سے خام تیل کی درآمد بھی ایک متبادل راستہ ہے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے ساحلی شہر صحار کے ذریعے تیل کی ترسیل کا راستہ بھی زیر غور ہے۔ سعودی عرب نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے عمان کے صحار کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے اضافی خام تیل ایشیائی خریداروں تک پہنچانے کی کوششیں بھی کی ہیں۔

لیکن متبادل راستے کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ ختم ہوگیا۔ اگر پاکستان کو امریکہ، مغربی افریقہ یا کسی نسبتاً دور کے ذریعے سے زیادہ خام تیل منگوانا پڑا تو سفر کا فاصلہ بڑھے گا، شپنگ اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور بالآخر اس کا اثر ملکی پٹرولیم قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر بحیرۂ احمر سے گزرنے والے جہازوں کو افریقہ کے گرد ’’کیپ آف گڈ ہوپ‘‘ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑا تو سفر میں کئی اضافی دن لگ سکتے ہیں اور عالمی سطح پر فریٹ کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے اصل تشویش صرف پٹرول نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ملکی ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں، مال برداری اور خوراک کی سپلائی چین کا بڑا حصہ ڈیزل پر چلتا ہے۔ اگر ڈیزل کی قیمت یا دستیابی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی لاگت، بجلی پیدا کرنے کے بعض ذرائع اور بالآخر اشیائے خورونوش کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ خدشہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ 19 ستمبر سے پٹرول کی قیمت 389.14 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 424.04 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ حکومت نے قیمتوں میں معمولی کمی کی، لیکن عالمی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ ریلیف کتنی دیر برقرار رہتا ہے، اس کا انحصار آنے والے دنوں کی عالمی قیمتوں اور سپلائی صورتحال پر ہوگا۔

عالمی منڈی پہلے ہی اس خطرے کا ردعمل دے چکی ہے۔ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل ہونے کی اطلاعات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ بعد میں سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی کارگوز فراہم کرنے کی اطلاعات نے کچھ دباؤ کم کیا، لیکن ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مزید حملے یا سپلائی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ عالمی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جاسکتی ہے۔

پاکستان کے لیے ایک نسبتاً مثبت پہلو یہ ہے کہ فوری طور پر ملک میں پٹرول اور ڈیزل ختم ہونے کی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ صنعتی ذرائع کے مطابق کچھ کارگوز پہلے سے بک کیے جاچکے ہیں اور مقامی آئل کمپنیوں اور ریفائنریوں کے پاس بھی محدود ذخائر موجود ہیں۔ اس لیے اصل خطرہ فوری قلت سے زیادہ اس بات کا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی کئی ہفتوں تک جاری رہی تو نئے کارگوز کی بروقت اور مناسب قیمت پر دستیابی مشکل ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکتوبر کے بعد کا عرصہ زیادہ اہم بنتا جارہا ہے۔ اگر ینبع کی سپلائی بحال ہوگئی، ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مرمت مکمل ہوگئی اور باب المندب میں جہاز رانی معمول پر آگئی تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی حد تک سنبھل سکتی ہے۔ لیکن اگر بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز دونوں میں رکاوٹ برقرار رہی اور موسم سرما سے قبل عالمی سطح پر ایندھن کی طلب بھی بڑھ گئی تو پاکستان کو بیک وقت تین چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے: مہنگا تیل، زیادہ درآمدی بل اور پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو برقرار رکھنے کا دباؤ۔

اس بحران کا ایک معاشی پہلو زرمبادلہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جتنا مہنگا خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات درآمد کرے گا، اتنا ہی زیادہ ڈالر کا استعمال ہوگا۔ اگر عالمی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو درآمدی بل بڑھ سکتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہوگا۔ اس کے بعد مہنگائی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوسکتا ہے، کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے تقریباً ہر شعبے کی لاگت بڑھتی ہے۔

حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق صرف پٹرول کی کھپت کم کرنے سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔ اگر خام تیل کی درآمد متاثر ہوئی تو مقامی ریفائنریوں کو مسلسل خام مال کی ضرورت ہوگی، جبکہ ڈیزل کی طلب ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے باعث برقرار رہے گی۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب ینبع کی سپلائی کتنی جلد بحال کرسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے متبادل طور پر عمان کے صحار کے ذریعے ایشیائی خریداروں کو تیل فراہم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اگر یہ متبادل راستے مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو عالمی منڈی پر دباؤ کچھ کم ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر حوثیوں کی کارروائیاں بحیرۂ احمر تک محدود نہ رہیں اور سعودی عرب کی مزید توانائی تنصیبات، پائپ لائنوں یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ پہلے ہی عالمی منڈی میں یہ خدشہ موجود ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ عالمی قیمتوں کو مزید اوپر لے جاسکتی ہے۔

یوں پاکستان کے لیے اگلے چند ہفتے انتہائی اہم ہیں۔ فی الحال فوری طور پر ملک گیر پٹرول یا ڈیزل بحران کی حتمی پیش گوئی کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ متبادل سپلائی کے راستے موجود ہیں اور کچھ کارگوز پہلے ہی زیر انتظام ہیں۔ لیکن اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں میں کشیدگی برقرار رہتی ہے، ینبع سے ترسیل طویل عرصے تک معطل رہتی ہے اور عالمی تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دستیابی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اصل امتحان اب یہی ہے کہ پاکستان کتنی تیزی سے متبادل سپلائی محفوظ کرتا ہے، اپنے تیل کے ذخائر کو کس حد تک مضبوط رکھتا ہے اور سفارتی سطح پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا کردار ادا کرتا ہے۔ کیونکہ یہ بحران صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہ سکتا؛ اگر ایندھن کی سپلائی کا مسئلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ سے لے کر خوراک، صنعت، زراعت، مہنگائی اور ملکی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

Back to top button