اسلام آباد میں سکیورٹی کانفرنس خود سکیورٹی خدشات کی نذرکیسے ہوئی؟

اسلام آباد میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال، علاقائی امن اور بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست پر ہونے والی ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس خود سکیورٹی خدشات کی وجہ سے منسوخ ہوگئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز یعنی پپس کی جانب سے 20 اور 21 ستمبر کو منعقد ہونے والا ’’پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026‘‘ اس وقت ملتوی کرنا پڑا جب متعدد غیر ملکی مندوبین کے ویزے منسوخ ہوگئے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل نے بھی سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کانفرنس سے متعلق بکنگز ختم کردیں۔ تاہم یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ جس کانفرنس کا بنیادی مقصد ہی پاکستان اور خطے کو درپیش سکیورٹی خطرات پر کھلی، سنجیدہ اور پالیسی سطح کی گفتگو کرنا تھا، وہی تقریب ان خدشات کے باعث منعقد نہ ہوسکی۔ کانفرنس میں چین، امریکہ، بنگلہ دیش، یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور خطے کے دیگر حصوں سے ماہرین اور مندوبین کی شرکت متوقع تھی۔ پاکستانی حکومت کے اہم وزرا، سیاسی رہنما، سابق حکام، سفارت کار اور سکیورٹی ماہرین بھی مختلف نشستوں میں شریک ہونے والے تھے۔

پپس کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد صرف پاکستان کی داخلی سکیورٹی تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا بھی اس کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ روس یوکرین جنگ کے اثرات، افغانستان اور پاکستان کا سکیورٹی منظرنامہ، وسطی ایشیا اور شنگھائی تعاون تنظیم، ایران کے ساتھ پیدا ہونے والی نئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، مغربی ایشیا اور بحر ہند کے حالات، داخلی سلامتی اور سی پیک و معاشی ترقی کے درمیان تعلق جیسے اہم موضوعات پر گفتگو ہونا تھی۔

کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع تھی۔ غیر ملکی ماہرین اور سفارت کار بھی ان مباحث میں شامل ہونے والے تھے۔ بھارتی مندوب کی براہ راست شرکت متوقع نہیں تھی، تاہم سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے سابق تقریری معاون اور تجزیہ کار سدھیندرا کلکرنی کو آن لائن خطاب کرنا تھا۔

کانفرنس کی منسوخی کا معاملہ اس لیے بھی اہم بن گیا ہے کہ بعض غیر ملکی شرکا مبینہ طور پر پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ پپس کے مطابق ایونٹ کے میزبان مقام سرینا ہوٹل نے اچانک تمام ہالز اور مہمانوں کے کمروں کی بکنگ منسوخ کردی۔ ہوٹل انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حالات میں مہمانوں کے لیے مناسب انتظامات کرنا ممکن نہیں تھا، تاہم انتظامیہ کے مطابق یہ محض ہوٹل کا یک طرفہ فیصلہ نہیں تھا۔ دوسری جانب پپس کا کہنا ہے کہ متعدد غیر ملکی مندوبین کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے۔

یہیں سے اصل سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر سکیورٹی صورتحال ایسی تھی کہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں رہا تو کیا اس خطرے کا اندازہ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے نہیں کیا گیا تھا؟ غیر ملکی مندوبین کے ویزے جاری ہونے کے بعد منسوخ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ہوٹل کو بکنگ منسوخ کرنے کی ہدایت کب دی گئی؟ اور کیا منتظمین کو اس صورتحال کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا؟

ان سوالات کا جواب اس لیے بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کئی ماہ پہلے سے سکیورٹی، ویزا، سفری سہولیات، ہوٹل، آمدورفت اور دیگر انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں آخری مرحلے پر غیر ملکی مندوبین کے ویزے منسوخ ہونا اور مرکزی مقام کی بکنگ ختم ہوجانا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس سے ریاستی اداروں، منتظمین اور سکیورٹی پلاننگ کے درمیان رابطہ کاری کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو اسلام آباد کی موجودہ سکیورٹی صورتحال ہے۔ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جبکہ جماعت اسلامی بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہی ہے۔ حکومت نے ان احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کر رکھے ہیں اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز اور اضافی نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے قانون و امن برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے اور مختلف مقامات پر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ کی منسوخی کو دیکھا جائے تو دارالحکومت کے مجموعی ماحول کا اثر بین الاقوامی سرگرمیوں پر پڑنا ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ کانفرنس صرف سیاسی احتجاج کے باعث منسوخ ہوئی، فی الحال ثابت شدہ بات نہیں۔ پپس اور ہوٹل انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا ہے، مگر ان خدشات کی مخصوص نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلی سرکاری تحریری وضاحت سامنے نہیں آئی۔

کانفرنس کی منسوخی پر سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی موجودہ صورتحال پر سوال اٹھایا اور کہا کہ تھنک ٹینکس، کانفرنسیں، غیر ملکی مہمان اور کھلا مکالمہ ایک متحرک معاشرے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر سکیورٹی پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس ہی سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہ ہوسکے تو پاکستان کے بین الاقوامی علمی اور سفارتی روابط کے لیے اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔

تاہم دوسری طرف سکیورٹی اداروں اور حکومت کے لیے غیر ملکی مندوبین کی حفاظت بنیادی ذمہ داری ہے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی، علاقائی کشیدگی اور متعدد داخلی و خارجی سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کسی بین الاقوامی اجتماع کے انعقاد سے شرکا کی حفاظت پر کوئی غیر معمولی خطرہ تو پیدا نہیں ہوگا۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی نوعیت واضح کی جائے تاکہ قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر صورتحال کو سمجھا جاسکے۔

پپس کے لیے یہ منسوخی ایک بڑا دھچکا بھی ہے۔ ادارہ 2006 میں اپنے قیام کے بعد سے پاکستان اور خطے کی سلامتی، دہشت گردی، انتہاپسندی، امن اور جغرافیائی سیاست پر متعدد قومی و بین الاقوامی مکالمے منعقد کرتا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد بھی شواہد اور تحقیق پر مبنی پالیسی بحث کو فروغ دینا اور مختلف ممالک کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا۔ ادارے کے مطابق کانفرنس کی تیاری میں طویل عرصہ لگا اور اس کی منسوخی سے مالی نقصان کے ساتھ تنظیمی محنت بھی متاثر ہوئی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کانفرنس کے منتظمین نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایجنڈے اور مندوبین کی تعداد میں پہلے ہی کچھ تبدیلیاں کی تھیں، لیکن اس کے باوجود تقریب کو مکمل طور پر منسوخ کرنا پڑا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف پروگرام کے معمولی ردوبدل تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ منتظمین کے لیے کانفرنس کا انعقاد ہی ممکن نہیں رہا۔

اس صورتحال کا ایک وسیع تر سوال پاکستان کے بین الاقوامی تشخص سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان مستقبل میں عالمی، علاقائی اور سفارتی نوعیت کی بڑی تقریبات کی میزبانی کرنا چاہتا ہے تو غیر ملکی مہمانوں کے لیے سکیورٹی اور انتظامی ماحول کا قابل اعتماد ہونا اہم ہوگا۔ اس لیے پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ کی منسوخی کا معاملہ صرف ایک دو روزہ کانفرنس کے ختم ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ بین الاقوامی تقریبات کے لیے سکیورٹی پلاننگ، ویزا نظام اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کتنی اہم ہے۔

فی الحال سب سے زیادہ ضرورت قیاس آرائی کے بجائے واضح معلومات کی ہے۔ اگر متعلقہ سرکاری ادارے یہ بتا دیں کہ غیر ملکی مندوبین کے ویزے کیوں منسوخ کیے گئے، سرینا ہوٹل کی بکنگ کس سکیورٹی خدشے کے باعث ختم ہوئی اور منتظمین کو یہ فیصلہ کب بتایا گیا تو معاملے کی اصل تصویر سامنے آسکتی ہے۔ اس وضاحت کے بغیر سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں جاری رہیں گی۔

یوں پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 کی منسوخی ایک ایسی غیر معمولی صورتحال بن گئی ہے جس میں سکیورٹی پر گفتگو کرنے کے لیے جمع ہونے والے ماہرین خود سکیورٹی سے متعلق وجوہات کے باعث ایک جگہ جمع نہ ہوسکے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کانفرنس منسوخ ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کیا تھے، ان کا اندازہ کب ہوا اور آئندہ ایسی بین الاقوامی تقریبات کے لیے پاکستان کیا انتظامی اور سکیورٹی طریقہ کار اختیار کرے گا؟ ان سوالات کے واضح جواب ہی اس واقعے سے پیدا ہونے والی بے یقینی کو ختم کرسکتے ہیں۔

Back to top button