کیا پی ٹی آئی 27ستمبر کو ایک اور 9مئی برپا کرنے والی ہے؟

27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے پرتسدد احتجاج کی تیاریوں اور بلندوبانگ دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف ایک بار پھر اسلام آباد کو میدانِ جنگ بنانے جارہی ہے؟ کیا 27 ستمبر کا لانگ مارچ محض سیاسی احتجاج ہوگا یا اس کے پردے میں ایک ایسا تصادم جنم لینے والا ہے جو 9 مئی اور 26 نومبر کی تلخ یادیں تازہ کردے؟ حکومت نے تو ابھی سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف مسلح جتھوں کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کررہی ہے، ریاستی اداروں نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری مکمل کرلی ہے اور کسی بھی قسم کے فساد یا تشدد کو سختی سے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی مسلسل اپنے احتجاج کو پرامن اور آئینی قرار دے رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ پرامن ہے تو پھر حکومت اتنی بڑی سکیورٹی تیاری کیوں کررہی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی آچکا ہے، ریڈ زون کی سکیورٹی سخت کی جارہی ہے اور دارالحکومت میں ریاستی مشینری کو کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رکھا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس تمام صورتحال نے 27 ستمبر کے احتجاج کو ایک عام سیاسی مارچ کے بجائے ایک بڑے سکیورٹی اور سیاسی امتحان میں تبدیل کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے تحریک انصاف کے ممکنہ عزائم کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات حاصل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آئینی حق استعمال کررہی ہے۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں صرف سیاسی نعرے گونجیں گے یا ایک بار پھر سڑکوں پر طاقت کا مقابلہ ہوگا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے سخت بیانات، اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے اور دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی انتظامات نے آنے والے احتجاج کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جو ماضی کے بڑے سیاسی تصادم کی یاد تازہ کردیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہوکر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان خراب کرنے کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ 27 ستمبر کو کسی گروہ کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت مارچ کو روکنے کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کرے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ بھی اس سے قبل تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سخت انتباہ دے چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی مسلح جتھوں کی صورت میں اسلام آباد آنے کی تیاری کررہی ہے اور حکومت کو ان کے عزائم کے بارے میں معلومات حاصل ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر تحریک انصاف میں اب بھی سیاسی سوجھ بوجھ موجود ہے تو اسے ایسا لانگ مارچ نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم پی ٹی آئی کی قیادت ان حکومتی خدشات کے برعکس مسلسل اپنے مارچ کو پرامن اور آئینی احتجاج قرار دے رہی ہے۔
ادھر تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں مشترکہ سیاسی، عوامی اور میڈیا حکمت عملی بنانے اور جمہوری قوتوں سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کی جدوجہد پرامن، آئینی اور جمہوری ہوگی۔
لیکن حکومت کے لیے سب سے بڑا سہارا اب اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بن گیا ہے۔ عدالت نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی مارچ سے متعلق 37 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت کو ایسی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں جس سے شہریوں کی نقل و حرکت یا ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی متاثر ہو۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ احتجاج کا آئینی حق موجود ہے، لیکن اس حق کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں کیے جاسکتے۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کسی سیاسی مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر ریاستی وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔ عدالت کے مطابق اگر کسی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو یہ آئینی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتا ہے اور ذمہ دار افراد کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے موجودہ صورتحال کو اس سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، لیکن تحریک انصاف بار بار وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرکے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کررہی ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی ہر احتجاج کو پرامن قرار دیتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں اس کے لانگ مارچ اور احتجاج کس حد تک پرامن رہے ہیں؟
آصف ہارون نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے احتجاجی ریکارڈ میں پرتشدد واقعات موجود ہیں اور ان کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی یہ خدشہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کو محض سیاسی احتجاج تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ریاستی اداروں اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے پیچھے بیرونی ہاتھ نظر آرہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوجی طاقت اور جوہری صلاحیت کے باعث بیرونی قوتیں براہِ راست حملے کے بجائے پراکسی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں اور سیاسی قوتوں کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی مبینہ فنڈنگ اور حالیہ اسلحہ برآمدگی کے واقعات کو بھی اپنے خدشات کے ساتھ جوڑا۔
تاہم بیرونی ہاتھ اور کسی مخصوص سیاسی جماعت کو غیر ملکی قوتوں کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق یہ باتیں آصف ہارون کا تجزیہ اور دعویٰ ہیں۔ ان دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے۔ اسی طرح کسی مبینہ اسلحہ برآمدگی کو براہِ راست 27 ستمبر کے مارچ سے جوڑنے کے لیے بھی مزید شواہد ضروری ہیں۔ البتہ حکومت کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے اظہار اور دارالحکومت میں کیے جانے والے انتظامات سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے احتجاج کے ممکنہ سکیورٹی پہلو کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
آصف ہارون کا کہنا ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کے ممکنہ عزائم کے حوالے سے اپنی انٹیلی جنس معلومات جمع کرلی ہیں اور ریاستی ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت کو واقعی یہ معلومات حاصل ہیں کہ احتجاج میں مسلح افراد یا شرپسند عناصر شامل ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں تو پھر ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ پرامن سیاسی کارکنوں اور ممکنہ مسلح یا قانون شکن عناصر کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
ادھر اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سخت کیے جارہے ہیں۔ ریڈ زون کے داخلی راستوں کو کنٹینرز کے ذریعے بند کرنے اور سکیورٹی بڑھانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ ستمبر کے دوسرے احتجاجی مارچوں کے ساتھ 27 ستمبر کا پی ٹی آئی مارچ بھی دارالحکومت کے لیے غیر معمولی سکیورٹی چیلنج بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنی قیادت بھی بار بار یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پرامن ہوگا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اسے ’’انصاف مارچ‘‘ قرار دیتے ہوئے عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کسی تصادم کی خواہش نہیں رکھتی اور احتجاج آئینی دائرے میں ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 27 ستمبر کے احتجاج کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر تحریک انصاف واقعی پرامن احتجاج کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں کو قانون کی پابندی، سرکاری املاک کے تحفظ اور شہریوں کے راستے کھلے رکھنے کی واضح ہدایات پر عمل کرانا ہوگا۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی امتحان کم نہیں۔ ریاستی اداروں کو امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پرامن احتجاج کے آئینی حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
کیونکہ اگر صورتحال احتجاج سے آگے بڑھ کر تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو نقصان صرف تحریک انصاف یا حکومت کا نہیں ہوگا۔ اسلام آباد کے شہری، کاروبار، تعلیمی ادارے، مریض، مسافر اور عام شہری سب اس کی قیمت ادا کریں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں بنیادی حقوق اور شہری زندگی کے معمولات کو سیاسی احتجاج سے متاثر نہ ہونے دینے پر زور دیا ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں کیا ہوگا؟ کیا تحریک انصاف اپنے اعلان کے مطابق ایک پرامن اور آئینی احتجاج کرے گی؟ کیا حکومت اسے سیاسی احتجاج کی حدود میں رہنے دے گی؟ یا پھر حکومتی سکیورٹی خدشات اور پی ٹی آئی کی سیاسی مزاحمت ایک ایسے تصادم میں تبدیل ہوجائے گی جس کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں؟
9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کے بعد 27 ستمبر کی تاریخ محض ایک اور سیاسی احتجاج کی تاریخ نہیں رہی۔ حکومت اسے سکیورٹی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے، پی ٹی آئی اسے آئینی اور سیاسی جدوجہد کہہ رہی ہے، جبکہ عدالت نے احتجاج کے حق کے ساتھ اس کی قانونی حدود بھی واضح کردی ہیں۔ اب فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ 27 ستمبر کو ہونے والے عملی واقعات سے ہوگا کہ یہ احتجاج سیاسی اختلاف کے اظہار تک محدود رہتا ہے یا ایک بار پھر اسلام آباد سیاسی تصادم کا مرکز بن جاتا ہے۔
