پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈبل ہونے کا خطرہ کیوں؟

دنیا پہلے ہی جنگ، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے سے گزر رہی تھی کہ اب توانائی کے عالمی بحران نے ایک اور خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں محدود ہوتی بحری نقل و حرکت، خلیجی تنصیبات پر حملے، سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل اور بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو شدید بے یقینی سے دوچار کردیا ہے۔ سوال اب صرف یہ نہیں کہ خام تیل کتنے ڈالر فی بیرل تک پہنچے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ بحران مزید طول پکڑ گیا تو پاکستان سمیت دنیا کے ان ممالک کا کیا ہوگا جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی راستوں پر بھاری انحصار کرتے ہیں؟

معاشی ماہرین کے مطابق دنیا ایک بار پھر ایسے عالمی توانائی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے اثرات صرف تیل کی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان سمیت 25 سے زائد ممالک کی معیشتوں، پٹرولیم قیمتوں، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں شدید رکاوٹ، باب المندب اور بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی، خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں اور سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل نے عالمی تیل سپلائی کے مستقبل پر بڑے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکی ہیں اور اگر بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو 130 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا منظرنامہ عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے، کیونکہ عالمی قیمت، سمندری فریٹ، جنگی خطرے کی انشورنس اور روپے کی قدر میں دباؤ مل کر پٹرول کی قیمت کو 450 سے 500 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی زیادہ کی طرف دھکیل سکتے ہیں، اگرچہ یہ مختلف ممکنہ منظرنامے ہیں، حتمی پیش گوئی نہیں۔

بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس راستے سے عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گزرتا ہے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کی ایل این جی برآمدات بھی بڑی حد تک اسی راستے سے وابستہ ہیں۔ اگر ہرمز کی بندش یا محدود بحری نقل و حرکت طویل ہوگئی تو صرف خام تیل نہیں بلکہ ایل این جی، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ آئی ای اے کے مطابق ہرمز بحران کے دوران فزیکل خام تیل کی قیمتیں تقریباً 150 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی تھیں اور سپلائی میں مزید رکاوٹ عالمی قیمتوں پر دوبارہ شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بحران اس لیے بھی سنگین ہے کہ ملک کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ خلیجی خطے سے سمندری راستوں کے ذریعے آتا ہے۔ عالمی تیل مہنگا ہونے کے ساتھ اگر آئل ٹینکرز کے فریٹ اور جنگی خطرے کی انشورنس میں اضافہ ہوا تو پاکستان کا درآمدی بل مزید بڑھے گا، زرمبادلہ پر دباؤ آئے گا اور پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگا۔ اگر خام تیل 130 ڈالر یا اس سے اوپر کی سطح پر برقرار رہتا ہے تو پٹرول کی قیمت 450 روپے سے تجاوز کرنے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انتہائی خراب صورتحال میں 500 روپے فی لیٹر کی سطح بھی زیر بحث آسکتی ہے۔

یہ بحران صرف پٹرول تک محدود نہیں۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری اور اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوگی، جبکہ ایل این جی کی قیمت اور دستیابی میں تبدیلی بجلی اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھا سکتی ہے۔ یوں عالمی توانائی بحران کا اثر پٹرول پمپ سے نکل کر عام آدمی کے کچن، بجلی کے بل، سفری اخراجات اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

بحران صرف ہرمز تک محدود نہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی نے متبادل سمندری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل نے یہ دکھا دیا ہے کہ خلیجی تیل کی ترسیل کے متبادل راستے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ سعودی عرب نے ہرمز سے بچنے کے لیے عمان کے صحار بندرگاہ کے ذریعے متبادل برآمدی انتظامات بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن آئی ای اے کے مطابق یہ متبادل راستے ہرمز سے گزرنے والے تمام تیل کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں۔

دوسری طرف امریکی انتظامیہ کی توانائی پالیسی بھی شدید بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بعض امریکی میڈیا اور تجزیہ کار موجودہ بحران میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم یہ کہنا کہ پورے عالمی توانائی بحران کی واحد ذمہ دار امریکی انتظامیہ ہے، ایک سیاسی و تجزیاتی دعویٰ ہے۔ موجودہ بحران میں جنگ، ہرمز اور باب المندب میں بحری رکاوٹیں، خلیجی تنصیبات پر حملے اور عالمی سپلائی کے دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔

اسی دوران وائٹ ہاؤس اور بڑے امریکی میڈیا اداروں کے درمیان کشیدگی بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ 19 ستمبر کو ان اداروں کے صحافیوں کو عملاً وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا۔ متعلقہ میڈیا اداروں نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانونی چیلنج کا عندیہ دیا ہے۔

سی این این سمیت امریکی میڈیا میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی بحران پر شدید بحث جاری ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کی جانب سے عائد پابندی کو براہِ راست صرف تیل بحران کی رپورٹنگ کا ردعمل قرار دینا ثابت شدہ بات نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی طرف سے ان اداروں کی مجموعی رپورٹنگ کو پابندی کی وجہ قرار دیا ہے۔

اب آنے والے ہفتے عالمی توانائی منڈی کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں نقل و حرکت بحال ہوتی ہے، متبادل راستے مؤثر رہتے ہیں اور خلیجی برآمدات میں اضافہ جاری رہتا ہے تو قیمتوں کا دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر بحران مزید پھیلتا ہے تو خام تیل، ڈیزل، ایل این جی، شپنگ اور انشورنس سب مہنگے ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ اگر عالمی تیل کی قیمت دوبارہ 150 ڈالر کے قریب پہنچ گئی تو حکومت پٹرول کی قیمتوں، زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی بل پر دباؤ کیسے برداشت کرے گی؟ کیونکہ اس بحران کا خطرہ صرف پٹرول مہنگا ہونے تک محدود نہیں، بلکہ یہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت اور عام آدمی کے پورے گھریلو بجٹ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Back to top button