پی ٹی آئی کا مولانا اور جماعت اسلامی کو ساتھ ملانا مشکل کیوں؟

ملکی موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں اپنی جگہ، لیکن مختلف جماعتوں کے سیاسی مقاصد، ترجیحات اور مطالبات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کے ساتھ ایک ہی سیاسی ایجنڈے پر اکٹھا کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سیاست میں عمران خان کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ جماعت اسلامی اپنے حالیہ احتجاج میں کسی فرد یا مخصوص سیاسی جماعت کے بجائے عوامی اور معاشی مسئلے کو بنیاد بنا رہی ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کرکے ایک ایسا سیاسی نکتہ اٹھایا ہے جس کا براہ راست تعلق عام شہری کی معاشی مشکلات سے بنتا ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت بھی کرسکتی ہے کیونکہ اس مطالبے کو کسی ایک سیاسی رہنما کی رہائی، کسی مخصوص جماعت کے اقتدار یا انتخابی مطالبے تک محدود نہیں کیا گیا۔

یہاں سے اپوزیشن اتحاد کا بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ اگر مختلف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آتی ہیں اور ان کا مشترکہ مطالبہ صرف سیاسی شخصیات یا انتخابی معاملات کے بجائے مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، روزگار، بجلی، ٹیکسوں اور دیگر عوامی مسائل پر مرکوز ہو تو اس اتحاد کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر ہر جماعت اپنی الگ سیاسی ترجیح کو مرکزی ایجنڈا بنائے تو ایک متفقہ سیاسی بیانیہ تشکیل دینا مشکل ہوجاتا ہے۔

جماعت اسلامی کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں میں پٹرولیم لیوی کا معاملہ نمایاں ہے۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کے سیاسی مطالبات میں عمران خان کی رہائی اور سیاسی و انتخابی معاملات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی فرق ممکنہ اپوزیشن اتحاد کے لیے ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے کہ مشترکہ جدوجہد کا محور کسی شخصیت کا معاملہ ہوگا یا براہ راست عوامی مسائل۔ نجم سیٹھی نے بھی اسی فرق کو اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی دشواری سے جوڑا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کی سیاست بھی اپنی مخصوص ترجیحات اور سیاسی حکمت عملی رکھتی ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کے لیے ایک ایسا وسیع اتحاد تشکیل دینا جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ایک ہی مطالبات اور حکمت عملی پر متفق ہوں، محض رابطوں سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے مشترکہ سیاسی نکات پر اتفاق درکار ہوگا۔

اسی تناظر میں بیرون ملک سے سامنے آنے والی سیاسی آوازیں بھی پاکستانی سیاست کے عالمی پہلو کو نمایاں کر رہی ہیں۔ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے 18 ستمبر کو ڈیلی میل میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں عمران خان کی قید اور جیل میں ان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے پاکستان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل کی۔ تاہم ان کے مضمون میں کیے گئے بعض دعوے اور سیاسی محرکات سے متعلق بیانات ان کا اپنا تجزیہ اور مؤقف ہیں، جنہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

بورس جانسن کے مضمون نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے معاملے کو بین الاقوامی سیاسی بحث میں نمایاں کیا ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق بیرون ملک موجود تحریک انصاف کے حامیوں کی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھائے جانے سے پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر گفتگو متاثر ہوتی ہے اور حکومت پر مختلف نوعیت کا سفارتی دباؤ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ ایک تجزیاتی رائے ہے، جبکہ اس دباؤ کے عملی اثرات کا اندازہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔

یوں موجودہ سیاسی منظرنامے میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوتی ہیں تو ان کا مشترکہ ایجنڈا کیا ہوگا۔ عمران خان کی رہائی اور انتخابی معاملات ایک طرف، جبکہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور عوامی معاشی مسائل دوسری طرف ہیں۔ ان مختلف ترجیحات کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہی کسی بھی وسیع اپوزیشن اتحاد کے لیے بنیادی سیاسی چیلنج ہوگا۔

آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے، جماعت اسلامی کے احتجاج اور پٹرولیم لیوی سے متعلق مذاکرات، تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور عمران خان کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر جاری بحث اس پورے سیاسی منظرنامے کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔ فی الحال مختلف جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی بات ضرور موجود ہے، لیکن ایک متفقہ ایجنڈے اور مشترکہ حکمت عملی کی شکل ابھی واضح نہیں ہوئی۔

Back to top button