امریکہ ایران کشیدگی،کیا پاکستان اور قطر صلح کروا پائیں گے؟

مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جبکہ تہران اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے۔ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کے مطابق قطر کے ذریعے ایرانی شرائط امریکا تک پہنچائی گئی ہیں اور پاکستان سمیت ثالثی میں شامل فریقوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی مطالبات میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران قطر کے ساتھ رابطے میں ہے اور واشنگٹن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں سخت مؤقف برقرار رکھنے کا اشارہ بھی دے رہا ہے۔

اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار بھی اہم ہوگیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں میں شامل رہا ہے، جبکہ قطر بھی ایک اہم ثالث کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کر رہا ہے۔ تازہ صورتحال میں دونوں ممالک کی سفارتی سرگرمیاں اس لیے بھی اہم ہیں کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی میزبانی میں طے پانے والا مفاہمتی عمل مستقل جنگ بندی تک نہیں پہنچ سکا تھا اور اب اسے دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ایران کی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے بھی اسلام آباد مفاہمتی عمل کی طرف واپسی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ فریقِ ثانی پہلے طے پانے والے معاہدے میں کیے گئے وعدوں اور اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات کی بحالی کو صرف نئے سرے سے بات چیت کے بجائے پہلے سے طے شدہ نکات اور باہمی وعدوں کی پاسداری سے بھی جوڑ رہا ہے۔

ادھر پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تازہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور نیویارک میں ملاقات پر اتفاق کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا۔ ایسے میں پاکستان کے لیے سفارتی کوششوں کے ساتھ توانائی اور تجارت سے جڑے عملی مفادات بھی نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔

ایران کی جانب سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ختم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی اس سفارتی تصویر کا ایک اہم پہلو ہے۔ محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے اور ان کے خیال میں حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے خواہش مند ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی نے پہلے ہی علاقائی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے ریاض کی جانب میزائل حملے کی کوشش کی اطلاع بھی دی ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ واشنگٹن تہران کی شرائط پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ ایران نے باضابطہ طور پر اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں اور ثالثی کا عمل دوبارہ فعال دکھائی دے رہا ہے، لیکن جنگ بندی کا راستہ ابھی طے نہیں ہوا۔ امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات، گزشتہ مفاہمتی عمل کی ناکامی اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں سفارتی رابطوں کی سمت انتہائی اہم ہوگی۔

پاکستان کے لیے بھی یہ مرحلہ غیر معمولی سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ براہِ راست سرحد، تجارت اور توانائی کے مفادات ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے اسلام آباد کی موجودہ سفارتی سرگرمی صرف ایران اور امریکا کے درمیان پیغام رسانی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں وسیع تر کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان کے اپنے معاشی و سلامتی کے مفادات کو محفوظ رکھنے سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

یوں ایران کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کا اعلان، قطر کے ذریعے واشنگٹن تک پیغام رسانی، پاکستان کی مسلسل سفارتی سرگرمیاں اور ٹرمپ کے جواب کا انتظار، اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کے ساتھ ساتھ ایک نیا سفارتی مرحلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا ایرانی شرائط کو کس انداز میں دیکھتا ہے اور کیا دونوں فریق کسی ایسے فارمولے پر واپس آسکتے ہیں جو جنگ بندی، بحری راستوں، ایرانی اثاثوں اور باہمی ضمانتوں جیسے بنیادی اختلافات کو ایک ہی فریم ورک میں حل کرسکے۔

Back to top button