امریکا ایران تنازع، پاکستان پھر میدان میں، نیویارک میں کیا ہونے والا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تہران کی جانب سے اسلام آباد سے مسلسل رابطے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو اور پھر نیویارک میں دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات پر اتفاق نے سفارتی حلقوں کی توجہ ایک بار پھر پاکستان کی طرف مبذول کردی ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ رابطے کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی تک پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ روز عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفون پر علاقائی صورتحال پر گفتگو کی، جس کے بعد انہوں نے اسحاق ڈار سے بھی رابطہ کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے تازہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات طے کی۔ اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

نیویارک میں ہونے والی یہ ملاقات اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اسی دوران دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ ایک ہی جگہ موجود ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، جبکہ اسحاق ڈار پہلے ہی نیویارک پہنچ کر سفارتی مشاورت کا آغاز کریں گے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی معاملات کے ساتھ مکالمے، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت اجاگر کریں گے۔

پاکستان اس تنازع میں پہلے ہی سفارتی کردار ادا کرچکا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اسحاق ڈار اور دیگر پاکستانی حکام نے بھی ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ بھی پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کا حصہ تھا جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کے لیے راستہ پیدا کرنا تھا۔ اسلام آباد نے اس دوران واضح کیا ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا راستہ ہے۔

اس سفارتی عمل میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستانی حکام اسے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپسی کے لیے ایک قابل عمل فریم ورک قرار دیتے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں اس معاہدے پر واپسی اور فریقین کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری کی بات سامنے آئی ہے۔ اسحاق ڈار نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے گفتگو میں بھی اسلام آباد مفاہمتی عمل پر عمل درآمد کو کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم راستہ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی مذاکرات سے جوڑ رکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکا کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق ذمہ داریوں کی واپسی سے وابستہ ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی جانب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور توانائی کی مسلسل فراہمی پر زور دینا بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی اور رسد کے نظام پر بھی پڑتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس سفارتی مرحلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ بیک وقت ایران، خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ کسی ایک فریق کے ساتھ تعلقات کو دوسرے فریق کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے اور خطے میں ایسا سفارتی راستہ تلاش کیا جائے جس سے جنگ کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکے۔

اب نظریں نیویارک پر ہیں۔ اگر اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی ملاقات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رسانی میں کوئی واضح پیش رفت ہوتی ہے تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس وسیع تر سفارتی سرگرمیوں کے لیے اہم موقع بن سکتا ہے۔ تاہم فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی حتمی ’’بریک تھرو‘‘ کا اعلان نہیں ہوا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ نیویارک میں ہونے والی ملاقاتیں پہلے سے موجود رابطوں کو کسی قابل عمل مذاکراتی فارمولے میں تبدیل کر پاتی ہیں یا نہیں۔

یوں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ تیز ہوگئی ہیں۔ ایک طرف تہران اسلام آباد کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے، دوسری طرف پاکستان واشنگٹن، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی فریقوں کے ساتھ بھی سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں نیویارک کی ملاقاتیں یہ واضح کرسکتی ہیں کہ موجودہ سفارتی رابطے محض مشاورت تک محدود رہتے ہیں یا واقعی جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف کوئی نیا راستہ کھولتے ہیں۔

Back to top button