ایران اور بادشاہتوں میں فرق تو سمجھنا چاہیے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ:روزنامہ دنیا
برادر بادشاہت کو انصاراللہ کے مقابلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہوا تو وائٹ ہاؤس کو فون کھڑکایا‘ دوبار۔ مدد کی مانگ کی کہ امریکی طیارے آئیں اور انصاراللہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے راکٹ اور بم برسائیں۔ صدر ٹرمپ دنیا کے تمام بیوپاریوں کے باپ ہیں۔ ایران کی دلدل کو دیکھتے ہوئے‘ جہاں دنیا کی طاقتور ترین ریاست سات ماہ سے پھنسی ہوئی ہے‘ صدر ٹرمپ نے بادشاہت کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ کیا کیفیت طاری ہوئی ہوگی شاہی محلات میں۔
اِس کے برعکس دیکھیے کہ دو نیوکلیئر طاقتیں‘ امریکہ اور اسرائیل‘ ایران پر 28فروری کو حملہ کرتی ہیں۔ رہبراعلیٰ اور قیاد ت کے کتنے ہی لوگ مارے جاتے ہیں‘ ایران پر وسیع پیمانے پر بمباری شروع ہو جاتی ہے اور تھمنے کا نام نہیں لیتی لیکن ایران کی قیادت سنبھلی رہتی ہے اور ٹوٹنے کے بجائے امریکی اڈوں اور اسرائیل پر جوابی حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ تہران سے کوئی روس‘ چین کو فون نہیں جاتا۔ کسی کی مدد نہیں مانگی جاتی۔ اقوام متحدہ کی طرف کوئی رجوع نہیں کیا جاتا۔ رونے پیٹنے سے اجتناب ہوتا ہے۔ اور جہاں جارحیت کرنے والے سمجھے بیٹھے تھے کہ ایرانی قیادت اور حکومت کا ختم ہونا چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں کی بات ہے‘ سات مہینے پورے ہو رہے ہیں اور امریکہ دانت پیسنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہا۔
امریکہ نے ایران کی ایئرفورس کیا تباہ کرنی تھی‘ایران تو پرانے جہاز اڑا رہا تھا‘ نیوی بھی اُس کی واجبی سی تھی۔ ایران نے زیادہ زور میزائل اور ڈرونوں پر دیا اور ڈرون ٹیکنالوجی میں تو کہیں امریکہ سے آگے نکل گیا۔ میزائلوں کی تنصیبات ایران نے گرینائٹ کے پہاڑوں کے 300‘400 میٹر نیچے تیار کیں۔ یہ تیاریاں ایسی تھیں کہ امریکی اور اسرائیلی جاسوس ادارے ایران کی صلاحیت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے۔ یہ سب کچھ ایران نے خود کیا‘ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
موازنے میں دیکھیے کہ بادشاہتوں نے اپنا کیا حال کیا۔ تیل کی دولت تو قدرت سے عطا ہوئی لیکن بادشاہتیں خود انحصاری نہ پیدا کر سکیں۔ سارا تکیہ امریکہ پر تھا‘ تیل کی قیمتوں کا تعین ڈالروں میں ہوتا اور پھر تیل کی دولت سے ایک تو امریکہ سے اسلحہ خریدا جاتا اور دوسرا امریکہ کے ہی خزانے کے بانڈوں میں انویسٹمنٹ کی جاتی یعنی تیل کا پیسہ اسلحہ اور بانڈوں کی خریداری کے ذریعے امریکی اکانومی میں ہی جاتا۔ پچاس پچپن سال سے یہی بندوبست چلا آ رہا تھا اور بادشاہتوں کو ایک تو اپنی دولت پہ ناز تھا اور دوسرا امریکہ دفاعی حفاظت پہ فخرکہ امریکی دفاعی ضمانتوں کے ہوتے ہوئے کون اُن پرمیلی نظر ڈال سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسلحہ خریدنے کے ساتھ پورے اس خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا ایک جال بچھ گیا۔
اس کے علاوہ کون سی فضول خرچی ہے جس سے بادشاہتوں نے اجتناب کیا۔ کنسٹرکشن ہو رہی ہے تو مغربی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ لگژری سامان کی درآمد ہو رہی ہے تو زیادہ تر مغربی دنیا سے۔ مہنگے ترین داموں پر مغرب سے فٹبال کھلاڑی خریدے جا رہے ہیں اپنی ٹیموں کیلئے۔ ورلڈ کپ کا انعقاد 2022ء میں قطر میں کیا جاتا ہے اس خیال سے کہ قطر کی شناخت بنے گی ‘اس کا عالمی پروفائل اونچا ہوگا۔ایران جنگ کی وجہ سے جو گلف ممالک کا حشر ہوا ہے اُس میں اعلیٰ شناخت کیا کام آئی اور عالمی پروفائل سے کیا حاصل ہوا؟امریکہ نے اتنی زحمت بھی نہ کی کہ ایران پر حملے سے پہلے اپنے اتحادیوں سے کچھ صلاح مشورہ کر لے۔ ایران کی بہت تباہی ہوئی ہے اس سے کوئی انکار نہیں لیکن عبرتناک نقصان امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا بھی ہوا ہے۔
ایران جنگ کی سنگینی کافی نہ تھی کہ ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہوتا؟لیکن یمن میں آگ کے شعلوں کے بھڑکنے سے معاملہ مزید گمبھیر ہو گیا ہے۔ مغربی میڈیا میں انصاراللہ کا ذکر کچھ حقیر طریقے سے ہوتاہے۔ کہ چپل پہنے اور کندھوں پر کلاشنکوف ڈالے ایک باغی گروہ ہے۔ انصاراللہ کی پیش قدمی شروع ہوئی تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ یمن میں سعودی اتحادی بھی ہیں جن کو سالوں سے سعودیہ نے پالا پوسا ۔ لیکن انصار اللہ کا حملہ شروع ہوا تو سعودی اتحادی ایسے غائب ہوئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ کہیں بھی جم کے دفاع نہ کر سکے۔ انصاراللہ یا حوثیوں نے صرف جنوب میں حملہ نہیں کیا بلکہ سعودی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جس سے وہاں کی ساری تیل پروڈکشن اور برآمد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسی صورتحال میں امریکی صدر سے مدد مانگی گئی اور آگے سے انکار ملا۔ اب امریکہ سے اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کو F-35 طیارے مہیا کرنے کی منظوری مل رہی ہے ۔ جب سعودیوں کو مدد کی ضرورت تھی مدد نہ ملی۔ اب مستقبل بعید میں یہ طیارے سعودیہ کے کس کام آئیں گے؟ ویسے بھی سعودی عرب کو جدید طیاروں کی تو کوئی کمی نہیں۔ یمن کی جنگ میں فقدان تھا تو جذبے اور ایثار کا۔ حوثی تو جذبے سے سرشار لگتے ہیں‘ دوسری طرف حالت کرائے کے سپاہیوں والی لگتی ہے۔
صدر ٹرمپ سے مدد مانگنا تو ایک طرف رہا۔ تمام جی سی سی کے ممالک جو تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہیں‘ جن کی دولت کا کوئی حساب نہیں‘ سب کے سب کا بھروسہ امریکہ پر تھا۔ یہ بات سمجھ بھی آتی ہے کیونکہ یہ سارے ممالک نقشۂ عالم پر پہلی جنگ عظیم کے بعد آئے۔ ان علاقوں پر حکمرانی سلطنتِ عثمانیہ کی تھی۔ جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس خطے کے نقشے پر لکیریں کھینچیں اور کہیں عراق معرض وجود میں آ یاکہیں کویت کہیں اردن اور کہیں شام اور لبنان۔ بڑی بادشاہت بھی اسی ہنگامی اور تغیر والے دور کی پیداوار ہے۔ مغربی تسلط تو ایران پر بھی رہا۔ شاہ ایران کس کا بنایا ہو ابادشاہ تھا؟برطانیہ اور امریکہ اُس کے محافظ تھے۔ تیل کی دولت آئی تو شاہ ایران کسی سے کم اِتراتے نہیں تھے۔ میڈیا میں کبھی مغرب کو لیکچر سنا دیتے۔ یہ تو ایرانی انقلاب ہے جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اور پھر جب شاہ ایران کو ایران سے فرار ہونا پڑا وہ روداد پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئی ملک حتیٰ کہ امریکہ بھی شاہ ایران کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ اب جو ایرانی قوم ہے یہ جو امریکہ کے سامنے کھڑی ہے اور جھکنے کے لیے تیار نہیں یہ اُس انقلاب کی بھٹی میں پیدا ہوئی۔
ہمارے عرب بھائیوں کا ایران سے جھگڑا کیا ہے؟ کوئی زمینی تنازع نہیں‘ کوئی اس قسم کا مسئلہ نہیں۔ خلش ہے تو صرف یہ کہ جب ہم امریکہ کے اتحادی ہیں تو ایران امریکہ اور اسرائیل کو کیوں للکارتا ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں کیوں بات کرتا ہے۔ حزب اللہ کا ساتھ کیوں دیتا ہے۔ حماس کیساتھ کیوں کھڑا تھا ۔ انصار اللہ کے حق میں کیوں ہے۔ یہ لڑائی ہے اور تو کچھ نہیں۔ عرب تیل تنصیبات اور امریکی اڈوں پر حملے تو اب ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں جہاں امریکی اڈے بھرپور طریقے سے اِن حملوں میں استعمال ہوئے۔ اس کے علاوہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ کویت پر حملہ عراق نے کیا تھا ایران نے نہیں۔ اور ایران پر حملہ 1980ء میں عراق نے کیا جب بیشتر جی سی سی ممالک نے ایران کے خلاف عراق کی بھرپور حمایت کی۔
سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نوازی عرب بھائیوں نے دیکھ لی۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کریں تو یہ جنگ فورا ًختم ہو جائے۔ حوثیوں کی کیا مذمت کرنی‘ کرنی ہے تو اصل مجرم کی کریں۔
