ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں پھنس ہوچکے ہیں،امریکی اخبار

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ٹرمپ سمجھتے تھےکہ ان کے اختیارات کی کوئی حد نہیں لیکن اب انہیں کئی حدود کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث وہ مزید مایوس اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہےکہ حالیہ عرصے میں ٹرمپ خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتا دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ ان کی صدارت آہستہ آہستہ ایسی جنگ میں گھرتی جا رہی ہے جس سے نکلنےکا وہ کوئی  راستہ  تلاش نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مکمل جنگی کارروائیاں شروع کیں اور ایران کے جوہری پروگرام کو فوری طور پر ختم کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے اہداف مقرر کیے۔تاہم 5 ماہ بعد بھی یہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے اور ٹرمپ اب ایران کے خلاف  بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے ہچکچا رہے ہیں،کیونکہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اندازہ ہےکہ ایران میں یہ حکمت عملی اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران میں اپنے مقصدکو حاصل کرنےکا کوئی واضح راستہ نہیں، وہ فتح کی حکمت عملی کے بغیر تنازع میں داخل ہوئے تھے اور اب وہ عزت بچاتے ہوئے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق اب ٹرمپ کے سامنے تین بڑے راستے ہیں، فوجی کشیدگی میں اضافہ، معاشی دباؤ بڑھانا یا فتح کا اعلان کرکے نکل جانا۔ ان تمام راستوں پر حالیہ ہفتوں میں غور کیا گیا ہے، لیکن  ہر راستہ مختلف وجوہات کی بنا پر ناقابل قبول دکھائی دیتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق  پورے ہفتے ایران میں بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے اشارے دینے کے بعد جمعہ کے روز ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔

 

Back to top button