بھارتی جنریشن زی کی احتجاجی تحریک، مودی حکومت کیلئے بڑا امتحان کیوں بن گئی؟

بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی نے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی حکمت عملی کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں رہا بلکہ بے روزگاری، معاشی غیر یقینی، نوجوانوں کی نمائندگی اور حکومت سے بڑھتی ہوئی مایوسی جیسے وسیع تر مسائل کی علامت بن چکا ہے۔ احتجاجی تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں وزیر تعلیم کے استعفے نے مودی حکومت کو ایک بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ تجزیہ کار اسے آئندہ ریاستی انتخابات اور 2029 کے عام انتخابات سے قبل بھارتی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نوجوانوں کی احتجاجی تحریک نے ملکی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے معاملے سے شروع ہونے والی تحریک تیزی سے ایک وسیع عوامی مہم میں تبدیل ہو گئی، جس نے نہ صرف حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی غیر معمولی انداز میں نوجوانوں سے براہ راست رابطہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

احتجاج کے آغاز کے تقریباً پانچ ہفتے بعد وزیراعظم مودی نے انسٹاگرام پر ایک سیلفی ویڈیو جاری کرتے ہوئے نوجوانوں کے مسائل پر افسوس کا اظہار کیا اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم یہ پیغام مظاہرین کے غصے کو کم نہ کر سکا اور احتجاج ملک کے مختلف حصوں تک پھیلتا چلا گیا۔ بالآخر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے مظاہرین کا بنیادی مطالبہ پورا کر دیا، جسے حکومت کی ایک بڑی سیاسی پسپائی قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی اصل وجہ صرف امتحانی نظام میں بے ضابطگیاں نہیں بلکہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی دباؤ، مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی اور مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے مواقع کم ہونے کا خوف بھی ہے۔ یہی عوامل نوجوان نسل کو حکومت سے زیادہ سخت سوالات پوچھنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شامل نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پہلے مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حامی سمجھی جاتی تھی، مگر اب یہی طبقہ حکومتی کارکردگی پر کھل کر تنقید کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کو بھارتی سیاست میں ایک اہم موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی تقریباً چالیس فیصد آبادی 18 سے 40 برس کی عمر کے درمیان ہے، لیکن پارلیمنٹ اور حکومتی ڈھانچے میں نوجوانوں کی نمائندگی انتہائی محدود ہے۔ کابینہ کی اوسط عمر ساٹھ برس سے زائد ہونے کے باعث نوجوان خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں، جس سے ان میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔

اس احتجاج نے سوشل میڈیا کی سیاست میں بھی ایک نئی تبدیلی کو نمایاں کیا ہے۔ جہاں بی جے پی گزشتہ کئی برسوں سے ایکس اور فیس بک پر اپنی مضبوط موجودگی رکھتی تھی، وہیں اب انسٹاگرام نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ احتجاجی تحریک نے مختصر عرصے میں کروڑوں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس سے واضح ہوا کہ نئی نسل روایتی سیاسی بیانیوں کے بجائے براہ راست اور غیر رسمی رابطے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نوجوانوں کی یہ ناراضی آئندہ برس اتر پردیش، پنجاب اور گجرات کے ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر احتجاجی تحریک مستقبل میں منظم سیاسی قوت میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات 2029 کے عام انتخابات تک بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھارتی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مذہبی یا ذات پات کی سیاست کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم، معاشی مواقع اور حکومتی جوابدہی جیسے مسائل نوجوان ووٹر کے فیصلے پر زیادہ اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت اب نوجوانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ بڑھانے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا مودی حکومت نوجوان نسل کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پاتی ہے یا جنریشن زی کی یہ سیاسی بیداری بھارتی سیاست میں ایک مستقل تبدیلی کا آغاز ثابت ہوتی ہے۔

Back to top button