ریکارڈ پیدوار کے باوجود اچانک 10لاکھ ٹن گندم کی درآمد کا فیصلہ کیوں؟

ملک میں گندم کی ریکارڈ پیدوار کے دعوؤں کے بعد اچانک 10لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے اعلان کے بعد حکومت سخت عوام تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور حکومت چند ہفتے پہلے تک ملک میں وافر ذخائر اور قلت نہ ہونے کے دعوے کر رہی تھی، مگر اب اچانک 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ملکی پیداوار گزشتہ برس سے زیادہ رہی تو پھر درآمد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا مسئلہ واقعی پیداوار میں کمی کا ہے یا پھر حکومتی خریداری، ذخیرہ اندوزی، منڈی کے نظام اور ناقص پالیسیوں نے ایک مصنوعی بحران پیدا کر دیا ہے؟ حکومت، فلور ملز، صوبائی انتظامیہ اور کسان اس معاملے پر الگ الگ مؤقف رکھتے ہیں، جس سے گندم بحران کی اصل تصویر مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کی ضروریات پوری کرنے اور مقامی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کے مطابق اس اقدام کا مقصد گندم کی دستیابی یقینی بنانا اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے، جبکہ پاسکو کے ذخائر بھی صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر آٹا میسر آ سکے۔ تاہم اس فیصلے نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ اگر حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق 2025-26 میں تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی، جو گزشتہ سال سے بھی زیادہ ہے، اور چند ہفتے پہلے تک حکومت کسی قلت سے انکار کر رہی تھی، تو پھر اچانک درآمد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

فلور ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ملک میں کم از کم 10 لاکھ ٹن گندم کی کمی موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ درآمد کی سفارش حکومت کو کی گئی۔ ان کے مطابق اگلی فصل آنے میں کئی ماہ باقی ہیں جبکہ گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس حکومت مطلوبہ مقدار میں گندم خریدنے میں ناکام رہی، جس کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔

دوسری جانب سندھ حکومت اس بحران کی ایک مختلف تشریح پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق مسئلہ صرف پیداوار میں کمی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی بھی ہے، جس کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور بڑی مقدار میں گندم برآمد بھی کی جا رہی ہے۔

سرکاری خریداری کا نظام بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق حکومت نے امدادی قیمت نسبتاً کم مقرر کی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ ملنے پر کسانوں نے اپنی پیداوار نجی خریداروں کو فروخت کر دی۔ نتیجتاً سرکاری گودام مطلوبہ مقدار میں گندم حاصل نہ کر سکے اور بعد میں رسد کے مسائل پیدا ہو گئے۔

کسان تنظیمیں بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھاد، ڈیزل، بیج اور دیگر زرعی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر کسان کو اس کے مطابق قیمت نہیں ملی۔ ان کے مطابق اگر حکومت زرعی لاگت کم کرے، کھاد پر سبسڈی دے اور مناسب امدادی قیمت مقرر کرے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں درآمد کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔

زرعی ماہرین کے مطابق موجودہ بحران صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری سپلائی چین، سرکاری منصوبہ بندی، ذخیرہ اندوزی، منڈی کے نظام اور گندم کی نقل و حمل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر بروقت خریداری، شفاف ذخیرہ سازی اور مؤثر نگرانی کا نظام موجود ہو تو پیداوار میں معمولی کمی بھی بحران کی شکل اختیار نہیں کرتی۔

اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ وقتی طور پر قیمتوں میں استحکام لا سکے گا یا یہ اقدام صرف ایک عارضی حل ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک زرعی پالیسی، سرکاری خریداری، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور کسانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات نہیں کی جاتیں، اس نوعیت کے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے۔

Back to top button