کیا واقعی ایرانی صدر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں؟

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی مستعفی ہونے کی خبروں نے پورے ملک میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ ایران میں جاری کشیدہ سیاسی صورتحال سے متعلق ایک نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنا استعفیٰ سپریم لیڈر کے دفتر کو بھجوا دیا ہے۔ تاہم ایرانی حکومت اور صدارتی دفتر نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر پزشکیان نے مبینہ طور پر اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ اہم ریاستی فیصلوں میں نہ صرف انہیں بلکہ دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل اختیارات پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر کمانڈرز کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔بعض غیر ملکی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ صدر پزشکیان نے خط میں لکھا کہ موجودہ حالات میں وہ مؤثر انداز میں حکومت چلانے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں، اسی لیے انہوں نے استعفیٰ پیش کیا۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کے درمیان اختلافات کی بڑی وجوہات حالیہ جنگی حکمتِ عملی، اس کے معاشی اثرات اور عوام کو درپیش مشکلات ہیں۔ مبصرین کے مطابق جنگ کے بعد ایران کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس نے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر اور سرکاری میڈیا نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور استعفے سے متعلق خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔سرکاری مؤقف کے مطابق صدر اپنے معمول کے سرکاری اور سفارتی امور میں مصروف ہیں، جبکہ استعفے کی خبروں کو ایران کے خلاف منظم پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے کسی استعفے یا اقتدار سے متعلق غیر معمولی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی گئی، جس کے باعث یہ معاملہ دعوؤں اور تردیدوں تک محدود ہے۔

Back to top button