امریکہ اور مغربی ممالک پاکستان کو رگڑا کیوں دے رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ہے کہ چین کا بی آر آئی پراجیکٹ چونکہ عالمی منصوبہ بن چکا ہے اور پاکستان اس کے فلیگ شپ پروجیکٹ یعنی سی پیک کا پرچم بردار ملک ہے اس لئے اچین مخالف قوتوں کی طرف سے پہلی فرصت میں رگڑا پاکستان کو مل رہا ہے ۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی طرف سے پاکستان پر مختلف حوالوں سے دبائو اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کی سخت شرائط اس کی چند مثالیں ہیں جن کے ذریعے پاکستان کو سی پیک سے تائب کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں. اب چین کو قابو کرنے کی مغربی پالیسی کا پہلا نشانہ پاکستان بن رہا ہے بلکہ وہ اس عمل میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا ہے. اپنے ایک کالم میں سلیم صافی بتاتے ہیں کہ چین نے آج سے دس سال قبل بی آر آئی نامی عظیم منصوبے کو لانچ کیا جس کے تحت وہ چھ اکنامک کاریڈور بنارہا ہے جو جنوبی اور وسطی ایشیا سے لے کر یورپ تک اور دوسری طرف مشرق بعید تک کے ایک سو پچاس ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا ہے ۔ یوں بی آر آئی اب ایک علاقائی نہیں بلکہ عالمی منصوبہ ہے جو معاشی کے ساتھ ساتھ تزویراتی بھی بن گیا ہے اور انہی پہلوئوں کو دیکھ کر امریکہ کی قیادت میں اسے ناکام بنانے کیلئے جی سیون کے ممالک نے چھ سو ارب ڈالر پر مشتمل ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت مغربی دنیا اور چین کے درمیان سینڈوچ بنتا جارہاہے اگر چین نے بھرپور ساتھ نہ دیا اور خدانخواستہ پاکستان اقتصادی یا کسی اور حوالے سے ناکام ریاست بن گیا تو یہ نہ صرف پاکستان کی بلکہ سی پیک اور بی آر آئی کی بھی ناکامی ہوگی ۔ اس لئے پاکستانی قوم بجا طور پر توقع کررہی ہے کہ چینی دوست پاکستان کی اس مخصوص پوزیشن کو مدنظر رکھ کر اسے کسی بھی حوالے سے ناکام ہونے نہیں دیں گے ۔ اسی طرح چینی قیادت یقیناً اس حقیقت سے بھی آشنا ہے کہ اگر بی آر آئی کے فلیگ شپ پروجیکٹ یعنی سی پیک یا پھر فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت پاکستان کے حصے میں آئی ہے تو مغربی ممالک نے چین کو قابو کرنے کی پالیسی کیلئے اس خطے میں اپنا اتحادی اور فرنٹ لائن اسٹیٹ انڈیا کو منتخب کرلیا ہے ۔یوں اگر انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کسی بھی حوالے سے ناکام ہوتا ہے تو اس کا اثر بی آر آئی پر بھی پڑے گا ۔ یوں پاکستانی بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ چین کسی بھی حوالے سے پاکستان کو انڈیا کے مقابلے میں کمزور نہیں ہونے دے گا۔ سی پیک کے تحت پاکستان میں انفراسٹرکچر کی مد میں کافی سارا کام ہوگیا ہے اور مزید ہورہا ہے لیکن اس کے ساتھ اگر انڈسٹریل بیس نہ بنے اور اسی تناسب سے ایکسپورٹ نہ بڑھی تو یہ انفراسٹرکچر غنیمت کی بجائے پاکستان کے لئے مصیبت بن سکتا ہے ۔ یوں اب پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے اور اس کی برآمدات بڑھانے کی مد میں چین کو پاکستان کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔ بی آر آئی کا ایک اہم مقصد فری ٹریڈ ہے اور پاکستان کے ساتھ بھی فری ٹریڈ جاری ہے لیکن انڈسٹریل بیس نہ ہونے سے تجارتی عدم توازن کی وجہ سے پاکستان مشکلات کی طرف جارہا ہے ۔ سلیم صافی لکھتے ہیں کہ اس وقت اگر پاکستان چین کو ایک ارب ڈالر کی برآمدات کررہا ہے تو دوسری طرف چین سے درآمدات کا حجم پندرہ سولہ ارب ڈالر ہے ۔ اس عدم توازن کی وجہ سے ایک تو چین سے آنے والی سستی اشیا کی وجہ سے پاکستان میں مقامی صنعتیں ترقی نہیں کرسکتیں بلکہ بڑے پیمانے پر ڈالر بھی اس کے ہاں سے نکل رہا ہے ۔ اس لئے چین سے توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنےکیلئے وہ پاکستان کو یورپ کے جی ایس ٹی پلس یا امریکہ کی طرز پر خصوصی تجارتی مراعات دے گا ۔ اگر چین پاکستانی درآمدات پر ڈیوٹی کم یا صفر کردے تو یہاں کی مقامی صنعتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا ۔ نہیں تو صنعتی ترقی اور برآمدات کم ہونے کی وجہ سے سی پیک کے تحت لگایا گیا انفراسٹرکچر اس کی معیشت کیلئے گلے کا طوق بن جائے گا۔ اس تناظر میں سی پیک کے تحت پاکستان کیلئےایک انڈسٹریل ڈیولپمنٹ پلان بھی ہونا چاہئے ۔اسی طرح عظیم چین کی عظیم فوج کیلئے بہت ساری درآمدات کرنی پڑتی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے لحاظ سے تو چین بہت آگے ہے لیکن شاید چھوٹی اشیا کی ایک تعداد ایسی ہے جو پاکستان سے درآمد کی جاسکتی ہے ۔ بی آر آئی چونکہ اب دنیا کے ایک سو پچپن ملکوں تک پھیلا ہوا ایک منصوبہ ہےاس لئے چینی قیادت کو اب اس کیلئے عالمی سطح پر اپیل کرنے والا ایک بیانیہ بھی ترتیب دینا چاہئے ۔ امریکہ اور یورپ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ میڈیا اور پروپیگنڈے پر بہت زیادہ پیسہ لگاتے ہیںلیکن چین اس میدان میں ان سے بہت پیچھے ہے ۔ دنیا کواپنا ہمنوا بنانے کیلئے چین کو اس طرف خصوصی توجہ دینا ہوگی اور بی آر آئی پر خرچ ہونے والے سرمایے کا ایک حصہ اس طرف منتقل کرنا ہوگا۔

Back to top button