وزیر خزانہ سے امریکی بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات: منصفانہ ٹیکسیشن کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی بزنس کونسل کے وفد نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں اصلاحات اور تمام شعبوں میں منصفانہ ٹیکسیشن کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج وزارتِ خزانہ میں امریکن بزنس کونسل (اے بی سی) کے ایک وفد سے ملاقات کی۔
اعلامیے کے مطابق وفد کی قیادت اے بی سی کےصدرکامران عطا اللہ خان نے کی، جبکہ اس میں پاکستان میں کام کرنے والی معروف امریکی کمپنیوں کے سینئر ایگزیکٹوز شامل تھے،اس موقع پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں حالیہ دورے اور ورلڈ بینک و انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے اسپرنگ اجلاسوں میں شرکت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے اور ان کی ٹیم نے یو ایس-پاکستان بزنس کونسل کے ساتھ مفید بات چیت کی۔
محمد اورنگزیب نےپاکستان کی اقتصادی ترقی میں امریکی کاروباری اداروں کے دیرینہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کا دائرہ اور گہرائی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور ہم اس شراکت کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اے بی سی کےوفد نےمتعدد تجاویز پیش کیں اور مختلف شعبوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا، وزیر خزانہ نے ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئےبجٹ تجاویز بروقت جمع کروانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بات چیت صرف بجٹ سیزن تک محدود نہیں ہونی چاہیےبلکہ اس کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
بھارت نے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے تا حال کوئی ثبوت پیش نہیں کیے ، برطانوی وزیر خارجہ
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ایک بہتر اور قابلِ پیشگوئی پالیسی ماحول قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس کے تحت ٹیکس پالیسی آفس کو مضبوط بنانےاورمستقل مشاورت کے لیے ایک ایڈوائزری پینل تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان میں معاشی استحکام پر روشنی ڈالتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے اعادہ کیا کہ حکومت اصلاحاتی عمل کو مکمل طور پر جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نےمعاشی اتار چڑھاؤ سے نکل کر آئی ایم ایف کے 25ویں پروگرام سے بچنا ہے تو مستقل اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی محصولات میں رسمی شعبے کے اہم کردار کو تسلیم کیا، انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تمام شعبوں میں مؤثر نفاذ یقینی بنانے،اورباقاعدگی سے ٹیکس دینے والوں پر بوجھ کم کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپلائی اور ویلیو چین میں کسی بھی قسم کی لیکیج کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی، ہمارا ہدف معیشت کو مکمل ڈیجیٹائزیشن اور ایف بی آر اصلاحات کےذریعےرسمی بنانا ہےاور اس مقصد کے لیے ایف بی آر کے آئی ٹی وِنگ میں بہترین ماہرین کام کر رہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ اصلاحاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل دستیاب ہیں، اب ضرورت حکمتِ عملی اور تکنیکی مہارت کی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ شعبوں میں ہمیں سرمایہ سے زیادہ مہارت درکار ہے، اور ہم اس سلسلے میں تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
وفد نےکھلے انداز میں بات چیت پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور دونوں فریقین نےاقتصادی چیلنجز سے نمٹنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کےلیےباہمی روابط مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔
