عمران کی رہائی کے لیے ٹرمپ کارڈ کا استعمال PTI کی تباہی کا باعث

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ اپنی حکومت کے خاتمے کے کو امریکی سازش کا نتیجہ قرار دے کر ایبسولیوٹلی ناٹ کے نعرے لگانے والے عمران خان اور انکے ساتھیوں کی تمام تر امیدوں کا مرکز اب نئے امریکی صدر ٹرمپ ہیں جن کے مشیر رچرڈ گرینل بار بار کپتان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم ایک بڑے یو ٹرن ہر مبنی اس مطالبے کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کی ساکھ کو ہی ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ یہ وہی امریکی انتظامیہ ہے جو عافیہ صدیقی کی رہائی کے مطالبے کے جواب میں ہمیشہ سے پاکستان کو یہ بتاتی آئی ہے کہ اسے ایک قانونی عمل کے بعد عدالت کے ذریعے سزا ہوئی ہے۔ کیا اب ٹرمپ کے مشیر بھول گئے کہ پاکستان میں بھی ملزمان کی قسمت کے فیصلے قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد عدالتیں ہی کرتی ہیں۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اب 2025 کی آمد ہے۔ جوتشی اگلے سال کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں کہ حالات کس نہج تک جائیں گے۔ دُنیا کی واحد سُپر پاور امریکہ میں ٹرمپ کی صورت میں آنے والی تبدیلی سے دنیا اور خصوصا پاکستان کو کیا فرق پڑے گا؟ نئے سال میں ابھرتے سوالوں میں یہ جاننا اہم ہو گا کہ پاکستان امریکہ کے لیے بظاہر غیر اہم ہے یا نہیں کیونکہ افغانستان اب امریکہ کی ترجیح نہیں۔ اُن سب دوستوں سے معذرت کے ساتھ جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے لیے پاکستان غیر اہم ہے۔ انہیں نئی انتظامیہ کے تیور اور اشاروں کی زبان سے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ حالات کیا ہو سکتے ہیں۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ ہو یا ٹرمپ کے نو منتخب کابینہ کے ارکان سب ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔ رچرڈ گرینل کو سگنل دینے والا ’بھونپو‘ سمجھ لیں اور سُنیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے والے رچرڈ گرینل کا اصل نشانہ آئی ایم ایف کا پروگرام اور پاکستان کا میزائل پروگرام تو نہیں جو طویل عرصے سے امریکہ کی دکھتی رگ بنا ہوا ہے۔ ایک ہم جنس پرست کے طور پر معروف رچرڈ گرینل آج کل تحریک انصاف کے یوتھیوں کی آنکھوں کا تارا اور امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کا راج دلارا بنا ہوا ہے۔

سینیئر صحافی کہتی ہیں کہ ماضی قریب میں اپنے کپتان کی زیر قیادت ’غلامی نامنظور‘ اور ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کے نعرے لگانے والے یوتھیے امریکہ سے پاکستان تک اب ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو امریکہ کا غلام بنوا کر عمران کو رہائی دلوائی جا سکے۔ ایسے میں سوال یہ یے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ واقعی عمران کی رہائی میں دلچسپی رکھتی ہے یا عمران کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں تقسیم کے ایجنڈے سے اندرونی طور پر پاکستان کو کمزور چاہتی ہے؟

عاصمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے بڑھتا دباؤ کسی صورت تحریک انصاف کے لیے سود مند نہ ہو گا۔ دوسری جانب یہ صورت حال فوج کے لیے بھی امتحان ہے۔ تحریک انصاف کو سمجھنا ہو گا کہ عمران خان کی حمایت ’پاکستان مخالفت‘ سے کیوں جوڑی جا رہی ہے، نیز یہ جو خان سے محبت ہے یہ دراصل کسی ’اور‘ سے نفرت تو نہیں؟ رچرڈ گرینل محض ٹرمپ کا ’بھونپو‘ ہیں مگر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ کی نامزد کابینہ کے اہم اراکین سخت چین مخالف ہیں۔
نئے نامزد کردہ خارجہ سیکریٹری مارکو روبیو ناصرف چین اور پاکستان مخالف بلکہ انڈیا نواز بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی برس یعنی جولائی 2024 میں روبیو نے مشہور زمانہ بل پیش کیا جو چین اور پاکستان کے خلاف انڈیا کو فوجی امداد دینے کی حمایت کرتاہے۔ یاد رہے اسی بل میں انڈیا میں دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کی امداد روکنے کی حمایت بھی شامل ہے۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ 2025 میں امریکہ – چین کشیدگی کس نہج ہو گی یہ تو معلوم نہیں البتہ اس رسہ کشی میں ہمارے پاس کیا کارڈز ہیں؟ ہم اپنے میزائل پروگرام اور معاشی معاہدے کے دفاع کے لیے کیا ’پتے‘ رکھتے ہیں؟ اس بارے میں ہم کیا چینلز استعمال کر سکتے ہیں۔ سوال یہ بھی یے کہ کیا آئندہ سال پاکستان کو کسی ایک ’بلاک‘ میں جانے پر مجبور کیا جائے گا؟ پالیسی سازوں کو اس بارے میں واضح لائحہ عمل بنانا ہو گا اور ایسی پالیسی اختیار کرنا ہو گی جو موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت کے لیے اندرونی اور بیرونی بیانیے کی صورت سود مند ثابت ہو۔

لیکن اہم ترین سوال پھر بھی یہ ہے کہ کیا پاکستان ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کی پالیسی پر عمل درآمد کرے گا یا نہیں؟ دیکھتے ہیں وقت اور حالات کس کو کس طرف کھڑا کرتے ہیں۔

Back to top button