کیا شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ واقعی دہشت گردوں نے کیا؟

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں ایک ڈرون حملے میں چار بچوں کی ہلاکت معمہ بن گئی ہے چونکہ پاکستانی سیکیورٹی حکام نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، حکام کا کہنا ہے کے حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ طالبان دہشت گرد اس حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب مرنے والے بچوں کے والد شاہ فہد نے لاشوں سمیت پشاور میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

شاہ فہد اپنے بیٹوں کی میتوں کے ہمراہ میر علی میں اس دھرنے میں موجود ہیں جو ڈرون حملے میں ہلاکتوں کے بعد بطور احتجاج شروع کیا گیا تھا اور چھٹے روز بھی جاری ہے۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات فی الحال کامیاب نہیں ہو سکے۔ شاہ فہد کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل صحن میں موجود بچوں نے اپنے گھر کے اوپر اڑتا ڈرون نا صرف دیکھا تھا بلکہ چلا کر اپنے والدین کو اس بارے میں آگاہ بھی کیا تھا۔ شاہ فہد کا کہنا ہے کہ جب دھماکے کے بعد وہ کمرے سے نکل کر صحن میں پہنچے تو حملہ آور ڈرون تب بھی فضا میں موجود تھا۔ فہد شاہ اب مقامی قبائل کے ہمراہ دھرنے میں یہ مطالبہ لیے بیٹھا ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حملے میں ان کی اہلیہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

 

ضلعی پولیس افسر وقار احمد نے اس واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ ڈرون حملہ کس نے کیا اور ڈرون کہاں سے آیا۔ ڈرون حملے کے بعد میر علی میں دھرنے کا آغاز چار بچوں کی میتوں کے ہمراہ کیا گیا تاہم دو بچوں کی تدفین کر دی گئی جبکہ دیگر دو کی میتیں مقامی مسجد میں تابوت میں رکھی گئی ہیں۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات فی الحال کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس دھرنے میں مقامی قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ بھی موجود ہیں۔

 

اتمانزئی قبیلے کے ترجمان اور حکام کے ساتھ مذاکرات میں شامل مولانا بیت اللہ نے بتایا کہ میرانشاہ کے گورنر کاٹیج میں حکام کے ساتھ مذاکرات میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی جس میں اس حملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے جو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گا۔مولانا بیت اللہ نے بتایا کہ بچوں کی میتیں اب بھی مسجد میں پڑی ہیں اور اگر قوم نے فیصلہ کیا تو وہ احتجاج کے لیے میتیں لے کر اسلام آباد یا پشاور جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑیوں کا انتظام کر لیا گیا ہے جبکہ بنوں، کرک، کوہاٹ اور پشاور میں متعلقہ اقوام کو سفر کا بندوبست کرنے کو کہہ دیا گیا ہے۔

شکست کھانے کے بعد انڈین RAW اور BLA کی دہشتگرد کارروائیاں تیز

 

مذاکرات میں شامل سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے قبائلی رہنماؤں کو آگاہ کیا ہے کہ یہ ڈرون حملہ سکیورٹی حکام کی جانب سے نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو بھی ملوث پایا گیا وہ سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گذشتہ چند ماہ سے شمالی وزیرستان میں طالبان دہشت گرد بھی ڈرون اور کواڈ کاپٹرز استعمال کر رہے ہیں لہذا عین ممکن ہے کہ یہ حملہ شدت پسندوں کی جانب سے کیا گیا ہو۔

 

اس ڈرون حملے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف طرح کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کی جانب سے اس واقعے بارے ایک بیان میں کہا گیا کہ جامع تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ’ابتدائی نتائج سے ثابت ہوا کہ اس گھناؤنے حملے کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامع انڈیا کی پشت پناہی سے فتنہ الخوارج یعنی طالبان نے پہنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ 19 مئی کو میر علی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

 

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور اُس گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد شدت پسندی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو نقصان پہنچانا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ اس غیر انسانی فعل میں ملوث تمام مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ میر علی تحصیل کے گاؤں ہرمز میں ہونے والے ڈرون حملے پر مقامی سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نینشل ڈیموکرٹیک موومنٹ کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بتایا ک شمالی وزیرستان سمیت بیشتر جنوبی اضلاع میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں مسلح شدت پسند موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ یہاں جدید اسلحہ بھی عام ہے۔

Back to top button