کیا شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا؟

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ دعوی سننے میں آ رہا ہے کہ جس عوامی تحریک کے نتیجے میں وہ فارغ ہوئیں اس میں پاکستانی انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کا بھی اہم کردار تھا۔ شاید یہی وجہ یے کہ وہاں حکومت کی تبدیلی کے بعد ڈھاکہ اور اسلام آباد کے تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، سفارتی اور کاروباری سطح پر رابطے بڑھے ہیں۔ جہاں ایک جانب حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش پاکستان کے قریب آ رہا ہے وہیں دوسری طرف اسکے بھارت سے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ کی ایک وجہ یہ بھی ہے یے شیخ حسینہ نے فرار کے بعد بھارت میں پناہ لے رکھی ہے اور ڈھاکہ میں چیف ایگزیکٹو محمد یونس کی عبوری حکومت چاہتی ہے کہ نئی دہلی شیخ حسینہ کو ملک بدر کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے حوالے کر دے، تاہم بھارت ابھی تک ایسا کرنے سے انکاری ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے بعد اگست 2024 میں شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت نکل گئی تھیں۔ اس کے بعد 8 اگست 2024 کو نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔
بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔ حال ہی میں قاہرہ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کی ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد شہباز شریف نے محمد یونس کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی بھی دعوت دی تھی۔
اس سے پہلے شیخ حسینہ کے گزشتہ پندرہ سالہ دورِ حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں سرد مہری کا عنصر نمایاں تھا۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں جنہیں پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کے نزدیک اس سرد مہری کی دوسری وجہ شیخ حسینہ کا بھارت کی طرف جھکاؤ تھا اور یہ وہی بھارت ہے جس نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور 90 ہزار پاکستانی فوجیوں کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر رہنے والے افراسیاب مہدی ہاشمی سمجھتے ہیں کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا ہے جب کہ بنگلہ دیش عوامی پارٹی پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کے بھارت نواز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 1971 میں نئی دہلی نے فوجی مداخلت کے ذریعے بنگلہ دیش کی آزادی میں مدد کی تھی۔ ان کے بقول یہ علیحدگی چوں کہ کسی عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں نہیں ہوئی تھی، اس لیے بنگلہ دیش کے عوام کی اکثریت پاکستان کو پسند کرتی ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام پاکستان کے بارے میں اس لیے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی مسلم شناخت کو بہت قریب رکھتے ہیں۔ اس لیے دونوں ملکوں کے عوام کبھی ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہوئے۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ڈھاکہ میں آنے والی تبدیلی کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا بھارت اور پاکستان سے متعلق نظریہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کی علاقائی اور خارجہ پالیسی میں خاصی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو طرفہ تعلقات کو ہر سطح پر مضبوط بنایا جائے۔ انکے مطابق بنگلہ دیش کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے دوستانہ اور سٹرٹیجک تعلقات مزید گہرے ہونے چاہئیں۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ویزا فری کر دیں تاکہ سیاحت، کاروباری اور ثقافتی تعلقات کو فروغ ملے۔ ان کے بقول پاکستان کے سرمایہ کاروں کی پہلے سے بنگلہ دیش میں صنعتیں موجود ہیں اور جی ایس پی پلس کی سہولت کی وجہ سے بہت سے سرمایہ کار بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مسلم نیشنل ازم کے تناظر میں بنگلہ دیش کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب بھارت سے اس کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ انکے مطابق بنگال کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان سے الگ ہو کر بھارت کے زیرِ اثر چلا گیا جو اس کی مسلم تشخص کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کے بقول دونوں ملکوں میں تعلقات کو وسیع بنانے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ تاہم اسلام آباد کو یہ بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ ڈھاکہ میں اسوقت ایک عبوری حکومت ہے جو بظاہر بنگلہ دیش میں پاکستانی انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی ہے۔
قاہرہ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی اور آزادی کے واقعات سے جڑی ہوئی تمام رنجشوں اور شکایات کو بھی حل کیا جائے۔ انہوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم سے کہا تھا کہ ”یہ مسائل اور موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ آئیے مل کر ان مسائل کو حل کریں تاکہ ہم آگے بڑھ سکیں۔”
تاہم پاکستانی سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ 1971 کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے، لہازا اسے اب دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ 1971 میں ہونے والی زیادتیوں کا معاملہ تو اس وقت ختم ہو گیا تھا جب پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت نے 1974 میں ایک معاہدے کے ذریعے تعلقات استوار کیے۔ ان کے بقول اس معاہدے میں پاکستان نے 1971 کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور شیخ مجیب نے کہا تھا کہ بنگالی معاف کرنا اور آگے بڑھنا جانتے ہیں۔اسکے بعد شیخ مجیب نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا اسلیے ماضی میں حل ہو چکے معاملے کو اب دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہیے۔ ویسے بھی جنرل یحیٰی خان اور جنرل اے کے نیازی نیازی کو پاکستان میں کوئی اپنا ہیرو نہیں مانتا لہذا سیاسی مبصرین کے مطابق 1971 کے گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
