پاکستان سے جنگ ہارنے والے انڈیا کو شاہد آفریدی سے کیا تکلیف ہے؟

پہلگام حملے کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہو کر ذلت آمیز شکست کا مزہ چکھنے والی بھارتی حکومت اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب ہر معاملے میں پہلگام حملہ لاتی نظر آتی ہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ انڈین کرکٹرز نے انگلینڈ کے شہر برمنگم میں ورلڈ چمپیئن شپ آف لیجنڈز کا پاکستان کے ساتھ طے شدہ میچ یہ کہہ کر کھیلنے سے انکار کر دیا کہ اس کی ٹیم میں شاہد آفریدی بھی موجود ہیں۔ بھارتی کرکٹرز کو آفریدی پر یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے پہلگام حملے کا جھوٹا الزام لگانے پر بھارت پر سخت تنقید کی تھی اور اسے انڈین ایجنسیوں کی اپنی ناکامی قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ ورلڈ چیمپین شپ آف لیجنڈز ہر سال منعقد ہوتی ہے اور اس میں 6 ممالک کے سابق پلیئرز پر مشتمل ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ ان ٹیموں میں پاکستان، انڈیا، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے پہلے پاکستان اور انگلینڈ کا میچ ہوا تھا جس میں پاکستان نے فتح حاصل کی تھی۔ تاہم پاکستان اور انڈیا کے میچ سے چند گھنٹے پہلے 5 بھارتی کرکٹرز کا اچانک یہ مطالبہ سامنے آ گیا کہ اگر شاہد آفریدی پاکستانی ٹیم کا حصہ ہوں گے تو ان کی ٹیم اس میچ میں حصہ نہیں لے گی۔ یاد رہے کہ سٹار پاکستانی آل راونڈر شاہد آفریدی کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوئے ایک زمانہ گزر گیا لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ اس تنازعے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز تو ایک زمانے سے منسوخ ہے لیکن پہلگام حملے اور ’آپریشن سندور‘ کے تحت بھارت کے پاکستان پر حملے کے بعد تلخیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ان کے درمیان کھیلوں کے کسی مقابلے کی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ ایسے میں انگلینڈ میں سابق پاکستانی اور بھارتی کرکٹرز کے مابین میچ کی اجازت ملنا ہی بڑی بات تھی۔ لیکن انڈین میڈیا کے مطابق بات تب خراب ہوئی جب پانچ انڈین کھلاڑیوں نے شاہد آفریدی کی ٹیم میں موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹیم میں ہوں گے تو وہ میچ نہیں کھیلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران شاہد آفریدی نے ایک بیان دیا تھا جسے انڈیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دہشت گرد ایک گھنٹے تک پہلگام میں لوگوں کو مارتے رہے، اور مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں میں سے ایک بھی فوجی سامنے نہیں آیا۔ آفریدی نے مزید کہا تھس کہ ’انڈیا خود دہشت گردی کرتا ہے، وہ اپنے ہی لوگوں کو مارتا ہے اور پھر پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے۔‘
ورلڈ چیمپین شپ آف لیجنڈز منعقد کروانے والے منتظمین نے واضح طور پر پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والا میچ منسوخ کرنے کی وجہ تو نہیں بتائی، لیکن یہ ضرور کہا کہ دونوں کے مابین کشیدگی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی ہاکی ٹیم بھارت بھیجنے سے منع کر دیا ہے جس کی وجہ سے فینز میں کافی مایوسی پھیلی ہے۔ منتظمین نے ایک بیان میں کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے مابین میچ منسوخ ہونے پر دلی معذرت خواہ ہیں، خصوصا اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ سمجھیں گے کہ ہمارا مقصد صرف اور صرف شائقین کے لیے خوشی کے لمحات فراہم کرنا تھا جس کی ہم نے پورے خلوص کے ساتھ کوشش کی۔
یاد رہے کہ انگلینڈ میں ہونے والی چیمپین شپ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی محمد حفیظ جبکہ بھارتی ٹیم کی کپتانی یوراج سنگھ کر رہے ہیں۔ انڈیا کے سابق کرکٹر اور اوپنر شکھر دھون نے پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار بارے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ کوئی میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ ان کے نزدیک ’دیش سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ 11 مئی کو ہی اپنا موقف برمنگم میں ہونے والی ورلڈ چیمپین شپ کی انتظامیہ کو دے چکے تھے۔ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ کوئی میچ نہیں کھیلیں گے۔
یوراج سنگھ نے لکھا کہ وہ آج بھی اپنے 11 مئی کے فیصلے پر قائم ہیں کیوں کہ ’میرا ملک ہی میرے لیے سب کچھ ہے اور ملک سے بڑھ کو کچھ نہیں ہوتا۔‘ بہر حال صرف یوراج سنگھ ہی نہیں بلکہ کئی اور انڈین کھلاڑیوں نے بھی پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت کرنے سے منع کر دیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق ان کھلاڑیوں میں شیکھر دھون، سوریش رائنا، عرفان پٹھان، یوسف پٹھان، اور ہربھجن سنگھ وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ہربھجن سنگھ انڈین پارلیمینٹ کے ایوان بالا کے رکن ہیں جب کہ یوسف پٹھان ایوان زیریں کے رکن ہیں۔
دوسری جانب ورلڈ لیجنڈز چیمپین شپ میں حصہ لینے والی بھارتی ٹیم کے کپتان یوراج سنگھ نے یہ ٹورنامنٹ سپانسر کرنے والی ایک کمپنی ‘ایز مائی ٹرپ” Ease My Trip’ کا ایک بیان شیئر کیا ہے جس میں کمپنی نے کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف میچ کو سپانسر نہیں کر رہی۔ اس سے قبل اس۔کمپنی نے ترکی اور آذربائیجان کی اپنی بکنگ بھی کینسل کر دی تھی کیونکہ ان دونوں ممالک نے انڈیا اور پاکستان کی حالیہ جنگ کے دوران پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے میچ کی منسوخی کے بعد سوشل میڈیا پر حوالے سے بحث جاری ہے۔ آفریدی کے فین کلب ٹیم آفریدی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’انکی ریٹائرمنٹ کے 7 برس بعد بھی شائقین آفریدی کی سٹیڈیم میں موجودگی کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ایک صارف نے لکھا کہ: ’انڈین کھلاڑیوں نے شاہد آفریدی کی وجہ سے میچ نہ کھیلنے کا بہانہ بنایا ہے۔ ریلیکس بھائی، ہم اس مرتبہ آپ کے جیٹ طیاروں کو تباہ کرنے کے لیے اپنی فضائیہ نہیں لائے۔ یہ تو کرکٹ کا میدان ہے لیکن اپ کو یہاں بھی شکست فاش کا خدشہ تھا لہذا فرار ہونے میں ہی بہتری سمجھی’۔
