پاکستان میں جناح کے نظریات کے خلاف کیا کچھ ہو رہا ہے؟

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں وہ کچھ ہو رہا ہے جسکے خلاف محمد علی جناح نے ہمیشہ جدو جہد کی تھی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جب پولیس کو رولٹ ایکٹ کے ذریعے وارنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار دیا گیا تو جناح نے اس ایکٹ کیخلاف اسمبلی سے استعفے دیدیا تھا۔ لیکن افسوس کہ آج پاکستان میں وہی رولٹ ایکٹ واپس آ چکا ہے۔ آج پاکستان میں اداروں کیخلاف گفتگو کریں تو آپکو جیل میں بند کر دیا جاتا ہے اور دس سال قید کی سزا بھی دے دی جاتی ہے، لیکن اگر آپ محمد علی جناح کے خلاف تقریر کریں اور انکے خلاف جھوٹے الزامات پر مبنی کتاب لکھیں تو آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
روزنامہ جنگ کیلئے اپنی تحریر میں حامد میر بتاتے ہیں کہ بانی پاکستان محمد علی جناح اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران ایک مرتبہ بھی گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ جناح آج کے وکلا کی طرح نہیں تھے، وہ قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے 1918 میں رولٹ ایکٹ کی بھرپور مخالفت کی اور بطور احتجاج اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا لیکن انہوں نے آج کے وکلا کی طرح سڑکوں پر آ کر نعرے بازی نہیں کی۔ جناح کو کانگریس میں رہ کر پتہ چل گیا تھا کہ کانگریس کی قیادت نے سرکار برطانیہ کیساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے لہٰذا انہوں نے کانگریس چھوڑ دی۔ کانگریسی لیڈروں نے 1942ء میں سول نافرمانی کی تحریک کا ڈرامہ کیا ۔ سول نافرمانی کے اعلان پر گاندھی اور نہرو گرفتار ہو گئے۔ قائد اعظم نے سول نافرمانی کی حمایت نہیں کی اور جیل نہیں گئے۔ بعد میں ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اعتراف کر لیا تھا کہ انہوں نے محمد علی جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کی آفر کی لیکن انہوں نے قیام پاکستان پر اصرار کیا۔
حامد میر کے مطابق محمد علی جناح ہر قیمت پر پاکستان اس لیے بنانا چاہتے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ کانگریس دراصل ہندو راج قائم کرے گی جس میں مسلمانوں کیساتھ وہی ہونا گا جو آج بھارت میں ہو رہا ہے۔ وقت نے نہ صرف جناح کو سچا ثابت کیا بلکہ کانگریسی لیڈروں کی منافقت بھی بے نقاب کر دی۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ برطانیہ کی فلسطین دشمنی بارے بھی جناح کی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔ جناح نے تقسیم فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کو مسترد کر دیا تھا اور امریکی صدر ٹرومین کے نام دسمبر 1947 میں لکھے خط میں صاف کہا تھا کہ سرزمین فلسطین پر ایک یہودی ریاست کے قیام سے مشرقِ وسطیٰ میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا۔ حامد میر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جناح نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا اور ہم نے اسے سامراجی طاقتوں کے تجربات کی لیبارٹری بنا دیا۔ آج پاکستان میں وہ کچھ ہو رہا ہے جسکے خلاف جناح نے ہمیشہ جدو جہد کی تھی۔ آج پاکستان میں سیکیورٹی اداروں کیخلاف گفتگو کریں تو آپ کو جیل میں بند کر دینگے اور بغیر ثبوت کے دس سال قید کی سزا دیدی جائے گی۔
حامد میر بتاتے ہیں پاکستان میں پہلی سنسر شپ 11 اگست 1947 کو بانی پاکستان جناح کی تقریر کے خلاف جاری ہوئی تھی۔ اس تقریرمیں انہوں نے پاکستان کے غیر مسلم یعنی ہندو سکھ اور عیسائی شہریوں کو مسلمان شہریوں کے برابر قرار دیا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ اب ریاست پاکستان نے محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر کو قبول کر لیا ہے، لہذا اس برس جناح کی اس تقریر کو آئی ایس پی آر کے ایک گانے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
