سپریم کورٹ کے ججز کی کھلی جنگ کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے؟

ملک کی اعلی ترین عدالت دو حصوں میں بٹ گئی۔ سپریم کورٹ کے ججز کے مابین گروپنگ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ کے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کام کرنیوالی 3 رکنی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت اور کمیٹی کی جانب سے تشکیل دئیے گئے بینچز میں بیٹھنے سے انکار نے عدالتی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جس کے بعد سیاسی تقسیم کا شکار ملک اب بڑے آئینی بحران کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم دیکھنا ہے کہ اس آئینی بحران کا انجام کیا ہو گا؟ کیا جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں عمراندار ججز کی اجارہ داری برقرار رکھنے میں کامیاب ہونگے یا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم کورٹ میں قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں گے۔
خیال رہے کہ یکم اکتوبر کے روز عمراندار ججز کے ٹولے کے اہم رکن جسٹس منب اختر کے بعد گروپ کے سرغنہ جسٹس منصور شاہ نے بھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق فیصلے پر نظرثانی درخواست کی سماعت کیلیے قائم لارجر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس نعیم اختر افغان کو لارجر بینچ میں شامل کر لیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اب یہ بات کوئی راز نہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز کے 2 سینئر ترین ججوں منصور شاہ اور جسٹس منیب اختر کیساتھ روابط مخصوص نشستوں پر 12 جولائی کے حکم کے بعد سے کشیدہ ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترامیم سے متعلق آرڈننس کے نفاذ نے سپریم کورٹ کے اندر کی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ کیونکہ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ججز کے عمرانی ٹولے کی کیسز کی سماعت کیلئے بینچز کی تشکیل میں اجارہ داری ختم ہو گئی ہے اور اس صورتحال میں عمراندار ججز غصے سے پاگل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ میں آرڈیننس کے خلاف درخواستیں بھی دائر ہو چکی ہیں،اس صورتحال میں چیف جسٹس ہم خیال ججوں پر انحصار کی اپنے پیشرو کے روایت پر عمل پیرا ہیں۔ ان حالات میں سب کی نظریں عمراندار ججز کے ٹولے پر ہیں کہ آیا وہ خاموش رہتے ہیں یا پھر موجودہ صورتحال میں کوئی مشترکہ حکمت عملی وضع کرتے ہیں، تاکہ قانون پسند، آزاد خیال ججوں پر داخلی اور خارجی عناصر کا دباؤ بڑھایا جا سکے۔۔یہ بھی دیکھنا ہے کہ عمراندار جج چیف جسٹس سے فل کورٹ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں یا نہیں اور اس اجلاس کا رزلٹ کیا نکلتا ہے۔
دوسری جانب اعلی عدلیہ کے ججز کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں جس سے ان کے بہت سارے پہلو سامنے آرہے ہیں اور ہر پہلو میں سے ایک نئی آئینی بحث کا دروازہ کھل رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملک میں آئینی بحران پہلے ہی سے موجود ہے اب جوڈیشل بحران بھی ہمارے سامنے آ چکا ہے جس کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔یہ بحران جس تیزی سے شدت اختیار کرتا جارہا ہے خدشہ ہے کہ جس طرح سجاد علی شاہ کے دور میں ہوا تھا کہ وہی نہ ہوجائے کہ تین ممبر بینچ ایک طرف اور باقی سپریم کورٹ دوسری طرف تھی جس کا نتیجہ کیا نکلا وہ سب کو ہی معلوم ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ جوڈیشل بحران میں بھی شدت بڑھتی نظر آرہی ہے سماعت کے دوران بھی ججز کی لڑائی چل رہی ہوتی ہے۔
آئینی عدالتوں کے قیام سے تیرا جج میرا جج کا کلچر ختم ہونے بارے سوال کے جواب میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے جج جج کھیلا جارہا ہے جب حق میں فیصلہ آئے تو وہ جج بہت اچھا لگنے لگتا ہے اور خلاف آئے تو وہی جج برا لگنے لگتا ہے اور یہ ایک ماحول بن گیا ہے اور اس میں ذمہ دار ایک سائیڈ نہیں ہوسکتی ہے اس میں سارے ہی ایک ہی لائن کے پیچھے چلتے ہیں ۔تاہم عوام کو جج کو چھوڑ کر ان کے فیصلے پر تنقید کا حق ہے باقی جج نے غلطی کی نہیں کی اس کا فیصلہ تاریخ کو کرنے دینا چاہیے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اعلی عدلیہ کے ججز کے مابین گروپنگ صرف آئینی کورٹ بننے سے ختم نہیں ہوسکتی۔ صرف آئینی کورٹ اس کا حل نہیں ہے۔ حل یہ ہے کہ ہم سب کو بھلے وہ سیاستدان ہوں ججز حضرات ہوں میڈیا ہو یا عوام ہم سب کو اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا ۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے یکم اکتوبر کو سپریم کورٹ میں ججز کے مابین اختلافات کا اظہار کھل کر کیا سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے دائرصدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں سے متعلق فیصلے کیخلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دورا ن چیف جسٹس ریمارکس دئیے کہ آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہو رہا،سب عوام کے سامنے ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے بتایاہے کہ نئے بینچ کی تشکیل کے حوالے سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی کے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کیا گیا لیکن انکے اجلاس میں شرکت سے انکار کے بعد ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچاتھا ، اس لئے جسٹس منیب اختر کی جگہ پر جسٹس نعیم اختر افغان کو بنچ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کو کل کی سماعت کے بعد بینچ میں شمولیت کی درخواست بھیجی گئی تھی مگر انہوں نے اپنی پرانی پوزیشن برقرار رکھی، کیس کی فائل میرے پاس آئی تھی تو میں نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام بنچ میں شامل کرنے کی تجویزدی تھی۔ انکی جانب سے انکار کے بعد ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں بچا تھا ، میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی دوسرے بنچ کو ڈسٹرب کیاجائے ، تاہم ہم نے جسٹس نعیم اختر افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیا ہے۔
