اپنا بارود خانہ خالی ہو جانے کے بعد عمران کے پاس کیا آپشن ہے؟

اسوقت عمران خان کی تحریک انصاف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا بارُودخانہ مکمل طورپر خالی ہوچکا ہے۔ اُس کی بیانیہ ساز فیکٹری کو بھی زنگ لگتا جا رہا ہے۔ داخلی محاذ پر پے درپے ناکامیوں اور نامرادیوں کے بعد عمران خان نے بیرونی دنیا کو اپنی امیدوں کا مرکز بنایا تھا۔ وہ پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے دیوانہ پن کی حد تک چلے گئے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے خود آئی ایم ایف کو خطوط لکھے اور اُسکے مرکزی دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کرائے۔ لیکن اس تمام تر وطن دشمنی کے باوجود کی موجودہ سیٹ آپ نے ملک کو سنبھالا جس کے بعد آج پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہے اور امریکہ، چین اور سعودی عرب جیسے ممالک اس کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی تمام تر عمرانی سازشیں ناکام رہیں۔عمران کے منصوبے کے مطابق 9 مئی 2023 کی شام، پاکستان کو شدید بحران میں دھکیلنے کی مذموم سازش ناکام ہوئی۔ اسکے بعد 10مئی 2025 کی شبِ پاکستانی ائیر فورس نے انڈین فضائیہ کو ناکوں چنے چبوا کر نہ صرف دنیا بھر میں اپنی عسکری طاقت منوائی بلکہ خود کو بھارت سے برتر ثابت کر دیا۔
دوسری جانب مسلسل ناکامیوں اور نامرادیوں کے بعد عمران نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 20 مئی کو رات کے 9 بجے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں۔ اِس سے قبل وہ اپنے احتجاجی اور انقلابی عزائم کیلئے قومی تاریخ کے پُرافتخار دِنوں کا انتخاب کرتے رہے ہیں۔ اُنکے کمالِ فن کا تازہ شاہکار یہ ٹھہرا کہ 20 ستمبر کا انتخاب کیا اور اپنے انقلابی مشن کو ’’مشن نور‘‘ کا نام دیدیا۔ پھر معلوم پڑا کہ یہ دِن اور یہ نام تو احمدی جماعت کے متبرکات کا حصّہ ہیں جو ختم نبوت ہی پر ایمان نہیں رکھتی۔ اب اس حوالے سے تاویلات پیش کی جا رہی ہیں۔ اپنی صفوں میں موجود علمائے کرام کے حوالے دے کر وضاحتیں کی جا رہی ہیں۔ پسپائی کے راستے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال صرف ایک ہے۔ اِس احتجاج کیلئے 20 ستمبر کا انتخاب اور احتجاج کو ’مشنِ نور‘ کا نام کس نے دیا؟ اس فیصلے کی منظوری کس نے دی؟ اگر اِس سوال کا واضح جواب نہیں آتا تو پی۔ٹی۔آئی بہت دیر کٹہرے میں رہے گی اور یہ کٹہرا ہمارے ہاں بڑے ٹھوس فولاد میں ڈھلا ہے۔ خلقِ خدا کب تک آپ کی لغویات اور خرافات کو برداشت کرتی رہے گی۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 20 ؍ستمبر کی شب گذر گئی۔ لیکن عمران خان کی ہدایت کے مطابق پاکستان بھر کی کسی چھت، کسی بالکونی، دریچے یا صحن سے ایسی اذان کی آواز سنائی نہ دی جو پاکستان کے دروبام ہلا کر رکھ دیتی۔ حال تو یہ تھا کہ ایک گھر سے دوسرے گھر تک کسی طرح کی ’اذان‘ کی سرگوشی تک نہ پہنچی۔ لیکن 20 ستمبر یہ سوال ضرور چھوڑ گیا ہے کہ پی۔ٹی۔آئی کا قادیانی جماعت کے ’نورِحق‘ سے کیا رشتہ ہے؟ اس وقت عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا بارُودخانہ مکمل طورپر خالی ہوچکا ہے۔ عمران نے ہر طرح کے ہتھکنڈے آزما کر دیکھ کیے۔
موصوف نے کبھی تو سمندر پار پاکستانیوں کو اُکسایا۔ کبھی لندن اور کبھی واشنگٹن کے چندہ بٹور سیاست کاروں سے اپنے حق میں بیانات دلوائے۔ کبھی اپنے بیٹوں کو خصوصی مہم پر روانہ کیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ سارے انڈے ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کی ٹوکری میں رکھ دیے۔ لیکن انہوں نے ایک ٹھوکر میں خان کے سارے انڈے توڑ دیے۔ یعنی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی عمرانی حربہ کارگر نہ پڑا۔ رسوائی مسلسل ان کا مقدّر بنی ہوئی ہے۔ 9 مئی کے فوراً بعد خان نے اپنی ساری امیدیں، عدلیہ سے وابستہ کرلی تھیں جو پہلے بھی اُس کیلئے آغوشِ مادر بنی ہوئی تھی اور جس کے منہ سے 9 مئی کی غارت گری کے فوراً بعد، عمران کیلئے ’’گُڈ ٹو سی یو۔‘‘ والا تاریخی فقرہ ادا ہوا تھا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں عمران کیلئے، دیرپا خوشبو کی طرح، ’گُڈ ٹو سی یو‘ کی مہک آج بھی جاری ہے۔ کم از کم، اس قافلے میں شامل کچھ عمراندار ججز کی ثاقب قدمی پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ وہ اپنا اپنا ’مشنِ نور‘، جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 9 مئی کے بعد عمران خان کو عدالتوں سے ایسی ایسی رعایتیں ملیں جو تصوّر میں نہیں آسکتیں۔ جب پی ٹی آئی اِس بیانیے کا ڈھول پیٹ رہی تھی کہ ایجنسیاں، ہمارے خلاف فیصلوں کے لئے ججوں پر دبائو ڈال رہی ہیں تو 26 مارچ 2024کی شب، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معزز ججز نے، ایک ہی خواب دیکھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایجنسیاں اپنے پسندیدہ فیصلوں کے لئے کسی نہ کسی طورپر اُن پر دبائو ڈال رہی ہیں۔
علی الصبح ریٹائرنگ روم میں انہوں نے ایک دوسرے کواپنا خواب سنایا۔ اپنے سینئر ترین رفیق کار، جسٹس محسن اختر کیانی کی مشاورت سے چھ جج صاحبان نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک مشترکہ خط بھیج کر پوچھا کہ ایجنسیاں ہمیں ڈراتی ہیں لہذا ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ یاد رہے کہ جسٹس محسن کیانی 2018 میں تب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کا معتبر حصّہ تھے جب اُنکے ایک سینئر رفیق، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو جنرل فیض حمید نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ نہ سنانے پر گھر بھیج دیا تھا۔ تب کسی نے قلم اٹھانا یا زبان ہلانا تو دُور کی بات ہے، گھر جاتے سینئر رفیقِ کار کو پُرسا دینا بھی گوارا نہ کیا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں، شرم کی بات یہ ہے کہ اب یہی چھ عمراندار ججز اپنے ہر خط میں جسٹس شوکت صدیقی کی بات کو حرفِ حق قرار دیتے ہوئے، سند کے طورپر پیش کرتے ہیں۔ جو بات کل تک شوکت صدیقی کا جرم تھی، آج انصافیے ججز اُسے اپنے فائدے کے لیے بیان کر رہے ہیں۔ لیکن نہ تو عمران کی چل پا رہی ہے اور نہ ہی عمران ججز کی۔ سچ تو یہ ہے کہ 10 مئی 2025 کے معرکۂِ حق نے سارا منظر نامہ ہی بدل ڈالا ہے۔ پاکستان عالمی افق پر روشن ستارے کی طرح چمکنے لگا ہے۔ پی ٹی آئی کی امیدوں پر اوس پڑ چکی ہے۔ خان کو اب ڈر یہ ہے کہ اگر پاکستان داخلی طور پر ایک مستحکم قوت بن گیا تو اس کا کیا بنے گا۔
صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اشتراکِ فکر و عمل سے تاریخ ساز نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان تیزی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی اُس کی اُڑان کے پَر کاٹنے کیلئے، ایک بار پھر انصافیے ججز سے امیدیں لگا رہی ہے۔ لیکن وہ دِن دیوار پر لکھا دکھائی دے رہا ہے جب پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے ایوانوں کو داغِ مفارقت دے جائے گی۔ شاید عمراندار ججز بھی اسی راستے پر چلنے کا فیصلہ کریں۔ انہیں اپنے اپنے اہداف کیلئے ایک بحران کی تلاش ہے جبکہ معرکۂِ حق اُن کے ’’سیندور‘‘ کے سامنے ’’ بُنیانُ مَّرصُوص‘‘ بن کر کھڑا ہے۔
