فوجی اسٹیبلشمنٹ آج اپنے کس گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ اب ہمیں گالی گلوچ اور ہاتھا پائی کے لیے پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ٹیلی ویژن سکرین پر تھپڑ اور مکے مارنے کے ماہرین بٹھا دیے ہیں جنہیں کمرہ عدالت میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں عار نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تشدد اور جمہوریت دو الگ دنیاؤں کی کہانی ہے۔ جمہوریت دلیل اور مکالمے کا نام ہے جس میں دستور اور قانون سے سند لی جاتی ہے۔ تشدد دلیل کی نفی ہے۔ اپنے مخالف کو جسمانی اذیت ، خوف ، دھمکی اور زور آوری سے کچلنے کا نام تشدد ہے۔ ایک ہی ریاست میں جمہوریت اور تشدد بیک وقت قابل عمل نہیں ہوتے۔ جمہوریت میں تشدد پر ریاستی اداروں کو امانتاً اجارہ دیا جاتا ہے تاکہ ہر شہری کو دوسرے شہریوں کے تشدد سے تحفظ دیا جا سکے۔ لیکن اگر ریاست ہی عوام کے دیے ہوئے اس اختیار کو شہریوں ہی کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دے تو قانون کی بالادستی ایک کھوکھلے نعرے میں بدل جاتی ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 2018 میں پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم بنوا کر جو غلطی کی تھی، اج وہ اسی کا کفارہ ادا کر رہی ہے۔ اس سے پہلے نواز شریف کی حکومت ختم کروا دی گئی تھی اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے۔ الیکشن 2018 کروانے کے لیے نگران حکومت بنانے کی تیاریاں جاری تھیں۔ اس دوران اوصاف حمیدہ رکھنے والے فیض صاحب یوں پارٹی ٹکٹ بانٹ رہے تھے جیسے کوئی جواری تاش کے پتے پھینٹتا ہے۔ ایسے میں ایک روز خبر آئی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے ملکی سیاست میں بھل صفائی کا ایک صدری نسخہ دریافت کیا ہے۔ اس نسخے کے مطابق ملک بھر میں چھ ہزار کے قریب بدعنوان ، ملک دشمن ، زبان دراز اور پیدائشی فتنہ پرور افراد کو چوراہوں میں پھانسی دے دی جانی تھی ۔ یوں انتخابات میں مرضی کے نتائج بھی حاصل ہو جائیں گے اور ’صادق اور امین‘ کے القابات پانے والے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے لیے راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ باجوا صاحب کی یہ دھمکی سننے والے ہک دک رہ گئے۔ چھ ہزار شہریوں کو پھانسی دینے کی بات کوئی معمولی نہیں تھی؟ الزام، تحقیق، تفتیش، سماعت، فیصلہ، قانون، دستور سب بھاڑ میں گئے۔ یہ نسخہ بظاہر بھنگڑ خانے کی افواہ معلوم ہوتا تھا۔

لیکن وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور عمران خان برسر اقتدار آ گئے۔ اس کے ٹھیک ایک برس بعد 25 جون 2019 کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے فرمایا کہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے، بائیس کروڑ افراد کی قسمت بدلنے نیز قانون کی بالادستی کے لیے پانچ ہزار افراد کو پھانسی دینا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نیک اقدام کی راہ میں ملکی دستور بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ واوڈا ہماری تاریخ میں راجہ غضنفر علی خان ،ستار پیرزادہ، کالا باغ ،رفیع رضا ، سیف الرحمن اور عامر لیاقت حسین کے پائے کے مدبر شمار ہوتے ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ دکھانے والے فیصل واوڈا کا اپنا وجود خود دوہری شہریت کے تسمے سے بندھا تھا۔ ساڑھے تین برس بعد انکے خلاف انتخابی عذرداری کے فیصلے کا وقت آیا تو موصوف مستعفی ہوکر ایوان بالا میں جا بیٹھے۔ واوڈا سینٹ کے غالباً واحد رکن ہیں جن کی جماعتی وابستگی نامعلوم ہے۔ پشتو میں ایسے شخص کے لیے بہت برا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ہماری سیاسی تاریخ میں قتل اور پھانسی کو کلیدی مقام حاصل رہا ہے۔ اہل ترکیہ نے وزیراعظم عدنان مندریس کو 1961 ء میں پھانسی دی تھی۔ چھ دہائیاں گزر گئیں ، ترکیہ میں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکی۔ ہم نے قیام پاکستان سے اب تک تین وزیراعظم قتل کیے ہیں اور دو آئین توڑے ہیں۔ ہم نے ہر عہد میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی ثقافت ہی ختم ہو گئی۔ شیخ رفیق ، ڈاکٹر نذیر احمد ، اسد مینگل اور مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے قتل ہمیشہ صیغہ راز میں رہیں گے۔ یہ کہانی بنے بنائے نمونے پر تھانہ محرر کی لکھی ایف آئی آر نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں جمہوری عمل کی بجائے تشدد کے ذریعے ریاست چلانے کی کوشش کی ہے۔ 26 ستمبر 1957 ء کو ڈھاکہ اسمبلی میں کرسی مار کر ڈپٹی سپیکر شاہد علی کو قتل کیا گیا تھا۔ اب بھی حالات کوئی مختلف نظر نہیں آتے۔ اب ہمیں گالی گلوچ اور ہاتھا پائی کے لیے پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ٹیلی ویژن کی اسکرین پر تھپڑ اور مکے مارنے کے ماہرین بٹھا دیے ہیں جنہیں کمرہ عدالت میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں عار نہیں۔

ماضی کے برعکس پاکستان اور روس ایک دوسرے کے قریب کیوں آنے لگے؟

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ذرا غور کیجئے۔ اگر 2019 میں عظیم مفکر فیصل واوڈا کی تجویز مان لی جاتی تو بلاتفریق پھانسی پانے والے کون لوگ ہوتے۔ 2019 ء میں فیصل واوڈا تحریک انصاف کی حکومت میں تھے۔ ناگزیر طور پر حکومت کے مخالف اس مہم میں مارے جاتے۔ سوال کرنا چاہیے کہ اگر مخالفین کے لاشے پھانسی گھاٹوں پر لٹک جاتے تو 10 اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد میں ووٹ کون دیتا؟ فیصل واوڈا آج ایوان بالا میں حکومتی اراکین کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ واوڈا کے کان میں پانچ ہزار شہریوں کے قتل کا صور پھونکنے والا قمر جاوید باجوہ تو اب ریٹائرمنٹ کے مزے لوٹ رہا ہے۔ اس لیے کہ سرکاری اہلکار کی سیاسی وراثت نہیں ہوتی۔ صرف ذاتی مالی اثاثے ہوتے ہیں ، کہیں کم ، کہیں زیادہ۔ یہ بات آج کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے 16 جون 2015ء کو پشاور میں کہی تھی جس کی پاداش میں انہیں اگلے اٹھارہ مہینے جلاوطن رہنا پڑا۔ زرداری صاحب کو تو بھاڑے کا تجزیہ کار بدعنوان قرار دے چکا، لیکن فیصل واوڈا آج بھی اپنے اس اصولی موقف پر ڈٹا ہوا ہے جو ہر حکومت بدلنے کے ساتھ بدل جاتا ہے۔

Back to top button