ممدانی کو بطور مئیر سب سے بڑا چیلنج کیا در پیش ہو گا ؟

 

یہودیوں کے گڑھ نیویارک میں فلسطین نواز مسلمان سیاست دان ظہران ممدانی کی بطور میئر کامیابی کو ایک تاریخی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، مبصرین کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے بااثر ارب پتی طبقے کی مخالفت کے باعث ممدانی کے لیے نیویارک کے امورِ حکومت چلانا ایک سخت امتحان ہوگا۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہیں مالی بحران، بڑھتی مہنگائی، پولیس اصلاحات، مذہبی تقسیم اور کاروباری طبقے سے تعلقات کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 34 سالہ ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان اور سب سے کم عمر میئر بنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل اور بغیر بڑی جماعت کی حمایت کے یہ کامیابی حاصل کی۔ عالمی سطح پر ممدانی کی جیت کو ترقی پسند سیاست کی فتح اور انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی لہر کے مقابل ایک امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ انہیں صہیونی لابی، قدامت پسند قوتوں اور وفاقی دباؤ جیسے خطرات لاحق ہیں، مگر ان کی کامیابی نے مغربی دنیا میں مسلمانوں اور تارکین وطن کی نمائندگی کے لیے ایک نئی راہ ہموار کر دی ہے۔

مبصرین کے مطابق  بطور میئر کامیابی کے ساتھ ہی ظہران ممدانی کے اقتدار کا اصل امتحان شروع ہو گیا ہے۔ نیویارک جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر میں انہیں بے شمار چیلنجز درپیش ہیں، جن میں کاروباری طبقے سے تعلقات کی بحالی، غزہ پر اپنے مؤقف کے باعث ممکنہ سفارتی دباؤ، ڈیموکریٹک قیادت کے اعتماد کا حصول اور دائیں بازو کی مزاحمت کا مقابلہ کرنا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ممدانی کو بجٹ خسارے، وفاقی فنڈنگ میں کمی اور مالی نظم کے دباؤ سے بھی نمٹنا ہوگا۔ پولیس اصلاحات کے نفاذ میں انہیں عوامی سلامتی اور فورس کے ردعمل کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا پڑے گا۔ اسی طرح جرائم کی بڑھتی شرح، مہنگائی، رہائشی لاگت اور روزگار میں جمود جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں، جب کہ بلدیاتی خدمات کی بہتری اور بیوروکریسی کی سرخ فیتہ پالیسی کا خاتمہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ممدانی کے لیے مذہبی و مالیاتی طبقات کا اعتماد بحال کرنا، نظریاتی تقسیم پر قابو پانا اور قومی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط بنانا ان کے سیاسی سفر کے اہم اہداف ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ظہران ممدانی کا انتخاب نیویارک کی سیاست میں یہودی اثر و رسوخ کے توازن کو بھی چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سی این این اور این بی سی کے ایگزٹ پولز کے مطابق نیویارک کےمئیر کے الیکشن میں یہودی ووٹرز میں گہری تقسیم سامنے آئی ہے 60 فیصد یہودی ووٹرز نے کومو کو ووٹ دیا، جبکہ 31 فیصد یہودیوں  نے ممدانی کی حمایت کی حالانکہ ماضی میں یہودی ووٹرز عام طور پر ڈیموکریٹ امیدواروں کو 70 تا 80 فیصد ووٹ دیتے رہے ہیں۔ممدانی کی جیت نہ صرف امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کی توسیع ہے بلکہ یہ یہودی ووٹ کی یکطرفہ سیاسی وابستگی کے خاتمے کا بھی اشارہ ہے۔34 سالہ ممدانی نہ صرف نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بنے ہیں بلکہ 1892 کے بعد سب سے کم عمر رہنما بھی ہیں جنہوں نے یہ منصب حاصل کیا ہے۔ تاہم ان کی جیت کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ کامیابی کسی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کے بغیر اور محدود وسائل کے ساتھ حاصل کر کے انتخابی تاریخ میں ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔
مبصرین کے مطابق، ظہران ممدانی یکم جنوری 2026 کو نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھالیں گے، جس کے بعد ان پر 116 ارب ڈالر کے بجٹ، تین لاکھ سرکاری ملازمین اور 80 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر کا نظم و نسق سنبھالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم سماجی انصاف، مساوات، تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ، کرایوں کے انجماد، مفت چائلڈ کیئر اور بس سروس، کم از کم 30 ڈالر فی گھنٹہ اجرت، سرکاری گروسری اسٹورز اور نئی کمیونٹی سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے قیام جیسے ترقی پسند وعدوں پر مبنی تھی۔ تاہم، اقتدار کے آغاز پر ہی ممدانی کو مالی، سیاسی، انتظامی اور سماجی دباؤ سے بھرپور ایک مشکل دور کا سامنا ہوگا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ظہران ممدانی کو ریاستی اختیارات کی محدودیت، عوامی توقعات کے دباؤ، کاروباری طبقے سے تعلقات کی بحالی اور اسرائیل۔غزہ تنازع پر اپنے مؤقف کے باعث ممکنہ سفارتی تناؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے جبکہ اندرونی سطح پرممدانی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اعتدال پسند دھڑے کا اعتماد حاصل کرنا، محدود وفاقی فنڈنگ کے باوجود مالی نظم برقرار رکھنا، اور پولیس اصلاحات کے دوران عوامی سلامتی و فورس کے ردعمل کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، بڑھتے جرائم، مہنگائی، رہائشی لاگت میں اضافے، روزگار میں جمود، بیوروکریسی کی پیچیدگیاں اور بلدیاتی خدمات کی زبوں حالی ممدانی کے لیے مسلسل آزمائش بنے رہیں گی۔ ان چیلنجز سے نمٹتے ہوئے ممدانی کے لیے سرمایہ کاروں، مذہبی و مالیاتی طبقات کا اعتماد بحال کرنا اور پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم پر قابو پانا نہایت اہم ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اقتدار کے ابتدائی مہینے ممدانی کی اصل آزمائش ثابت ہوں گے۔ اگر وہ ان میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف نیویارک بلکہ قومی سطح پر بھی ان کی قیادت ایک نئی سیاسی سمت متعین کر سکتی ہے۔

Back to top button