’اسٹیرائیڈ‘ ادویات کے استعمال سے کون سی بیماری لاحق ہوسکتی ہے؟

برطانیہ میں کی جانےوالی ایک طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ مختلف بڑی بیماریوں کے علاج میں استعمال کی جانےوالی ’اسٹیرائیڈ‘ ادویات سے ذیابیطس ہونےکے امکانات بڑھ جاتےہیں۔

’اسٹیرائیڈ‘ادویات کی ایسی ہی ایک قسم ہے،جیسے اینٹی بائیوٹک ادویات ہوتی ہیں۔’اسٹیرائیڈ‘ ادویات کو خود کارمدافعتی نظام کی بیماریوں جنہیں ’آٹو امیون ڈیزیز‘ کہاجاتاہے،ان کے علاج سمیت کینسر کےعلاج میں بھی استعمال کیاجاتاہے۔

’اسٹیرائیڈ‘ادویات فالج،استھما،آرتھرائٹس سمیت دیگر شدید بیماری میں مبتلا مریضوں کوبھی دی جاتی ہیں اور یہ ادویات ایسےمریضوں کو کافی فائدہ بھی دیتی ہیں۔تاہم ساتھ ہی ’اسٹیرائیڈ‘کی ادویات کوایتھلیٹس سمیت باڈی بلڈرز بھی طاقت سمیت دیگر مقاصد کےلیے استعمال کرتےہیں۔

اب برطانیہ میں ہونےوالی ایک تحقیق سےمعلوم ہواہےکہ ’اسٹیرائیڈ‘ادویات سے ذیابیطس ہونے کےامکانات دگنےہوجاتےہیں۔ماہرین نےمجموعی طور پر ساڑھےچار لاکھ سےزائد مریضوں کاجائزہ لیا،جس میں سے 17 ہزار سےزائد ایسےمریض تھے، جنہیں دوران علاج ’اسٹیرائیڈ‘ ادویات دی گئیں۔جن مریضوں کودوران علاج ’اسٹیرائیڈ‘ دی گئی تھیں،ان میں پہلےذیابیطس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

ہائی بلڈپریشر کو کیسے کنٹرول کیاجائے؟ڈاکٹرز نے بتادیا

ماہرین نےبعد ازاں پایا کہ جن 17 ہزار 200 مریضوں کو ’اسٹیرائیڈ‘ ادویات دی گئی تھی، ان میں سے316 مریض ذیابیطس کا شکار ہو گئے۔نتائج سےمعلوم ہواکہ جو مریض ’اسٹیرائیڈ‘ ادویات کےانہیلر اور ڈراپس استعمال کرتےہیں ان کےمقابلے مذکورہ ادویات کی گولیاں اور انجکشن استعمال کرنےوالے مریضوں میں ذیابیطس ہونے کےامکانات دگنےہوجاتے ہیں۔

ماہرین نے ’اسٹیرائیڈ‘ گولیوں اور انجکشن کےاستعمال اور ذیابیطس پرمزید تحقیق کی ضرورت پر زوربھی دیا۔

Back to top button