شہباز شریف اور ان کی مرضی کی بنائی ٹیم ناکامی کا شکار کیوں ہے؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی آزمودہ ٹیم سے جن حیرت ناک ریفارمز کی توقع تھی وہ متعارف نہیں کروائی جا سکیں اور نہ ہی گورننس کے محاذ پر بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا ماضی اور ان کا محنت و مشقت سے تیارکردہ ورثہ اس قدر تابناک ہے کہ لوگ انکی حکومت سے بہتر پرفارمنس کی توقع رکھتے ہیں۔
سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے لکھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف صرف نام کے ہی شریف نہیں بلکہ کام میں بھی شریف ہیں۔ ریاست کے نظام میں وہ واحد شخصیت ہیں جو چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود ہائبرڈ طرز حکومت کو پیشانی پر بل ڈالے بغیر مسکراتے ہوئے چلاتے چلےجا رہے ہیں۔ انہیں آج سے نہیں چار دہائیوں سے یقین ِکامل ہے کہ محنت اور خلوص سے پاکستان کی تقدیر کو بدلا اور اُجالا جاسکتا ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ سر نیچے کر کے محنت سے کام کریں گے تو ایک دن واقعی سویلین حکمرانی اپنی اصل شکل میں قائم ہو جائیگی۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اہل سیاست کی نااہلی اور بُرے طرز حکمرانی کی وجہ سے ریاست مشکل میں ہے۔
شہباز شریف نون لیگ کے واحد رہنما ہیں جن کا کھلی جنگ کے دوران بھی فوجی قیادت سے دوستی اور تعلق کا رشتہ کبھی کمزور نہیں پڑا۔ وہ روزِ اول سے لیکر آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ فوج ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اہلِ سیاست اور فوج ملکر ہی اس ملک کی نَیّا پار لگا سکتے ہیں۔ اسی نظریے کے تحت وہ فوجی قیادت کے ساتھ شرافت کے ساتھ چلتے آ ریے ہیں۔ شہباز شریف اتنے شریف ہیں کہ پورے ملک کے چیف ایگزیکٹو اور وزیراعظم ہونے کے باوجود بزنس ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر نہ تو ان کیساتھ وزیراعلیٰ پنجاب موجود تھیں، نہ چیف سیکرٹری اور نہ ہی آئی جی پولیس۔
سہیل وڑائچ کے بقول پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم لاہور آئیں تو صوبے کی ٹاپ انتظامیہ ان کے ہم رکاب ہو۔ لیکن پنجاب کی یہی بے اعتنائی ہمیں صدر آصف علی زرداری کے دورے کے دوران بھی نظر آتی ہے، صدر سےتو گویاخیر سگالی ملاقاتوں کی روایت ہی ختم کردی گئی ہے۔ اسے غرور کہیں، تکبّر کا نام دیں یا پھر بے انتہا مصروفیات کا نام دے لیں۔ مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے ڈالی گئی یہ روایت وفاق کے اتحاد کیلئے خطرے کی علامت ہے، اگر یہی کام سندھ اور بلوچستان نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ شروع کر دیا تو پنجاب کے وزیراعظم کی کیا عزت رہ جائے گی۔؟ ماضی میں جب نوازشریف سندھ کے دورے پر گئے تھے تو آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو انکی ہم رکابی اور ہر جگہ جذبہ خیرسگالی ظاہر کرنے کا پیغام دیا تھا، لہذا پنجاب حکومت کی طرف سے یہ تساہل جہاں سے بھی ہو رہی ہے اس کا فوراً تدارک کرنا چاہئے۔ آج کا وزیراعظم تو شریف ہے کل کا وزیراعظم شریف نہ ہوا تو اس کا کوئی منفی ردعمل بھی آسکتا ہے اور پنجاب کے تکبّر پر معنیٰ خیز سوال اُٹھ سکتے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف لاہور میں پیدا ہوئے ہیں ،یہیں پلے بڑھے، یہیں بزنس کیا اور یہیں سے سیاست کا آغاز کرکے اقتدار کی چوٹیوں کو سر کیا۔ پنجاب کی حکمرانی سے انہوں نے گڈ گورننس اور شہباز سپیڈ جیسے اعزازات پائے، جب وہ اقتدار کے شہرِ کوفہ میں مسند افروزہوئے تووہ لاہور اور کوفہ کا فرق و امتیاز پہلے سے جانتے تھے، اس لئے انہوں نے اپنی مرضی کی جو کابینہ بنائی اس میں وفادار اسٹاف افسروں کی اکثریت تھی انہوں نے اپنی آزمودہ ٹیم کے ذریعے کوفہ کو سر کرنے کا عزم باندھا۔ اپنی ٹیم کےجہاندیدہ، آزمودہ کار اور سمجھ دار ترین کھلاڑی توقیر شاہ کو سیاسی عہدہ اور مشاورتی تمغہ دیکر وزیراعظم سیکرٹریٹ کا انچارج بنایا، لاہور کے ادارہ ترقیات کے احد چیمہ کو اپنا معتمد خاص وزیر بنا کر ہر وزیر اور اس کے منصوبوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی، اطلاعات کے حوالے سے اپنے خاندانی تعلق والے عطاء اللہ تارڑ کو ذمہ دار بنایا، قانون کی ذمہ داری اپنے خاندانی راز دار اور ٹاپ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کو سونپی۔
ایسے میں شہباز شریف کی مرضی کی ٹیم کو لاہور سے زیادہ اسلام آباد میں چمکنا چاہئے تھا۔ پنجاب کی کابینہ میں سیاسی عناصر کا غلبہ ہوتا تھا، لیکن وفاقی کابینہ میں سیاسی عناصر آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ لیکن مرضی کی ٹیم منتخب کرنے کے باوجود اقتدار کے شہر کوفہ میں ان کے پسندیدہ اور آزمودہ کھلاڑی پرفارم نہیں کر پا رہے، نہ تو وزیراعظم اور ان کی ٹیم سے سیاست ہو رہی ہے اور نہ دور رس سیاسی فیصلے کی جا رہے ہیں۔ شوگر سکینڈل بھی اسی ٹیم کی موجودگی میں رونما ہوا، آخر کوئی تو ان ناکامیوں کی ذمہ داری لے۔ کرپٹو کرنسی خرید کر اربوں روپے گنوانے کی افواہوں کا تدارک کون کرے گا۔؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شریف وزیراعظم کے دفاع کے طور پر کہتے ہیں کہ وہ چکی کے دو پاٹوں میں پسنے والے دانوں کی طرح ہیں، ایک طرف ریاست کا جبر ہے تو دوسری طرف پارٹی اور خاندان کا دباؤ۔ ایسے میں وہ جائیں تو جائیں کہاں۔ حال ہی میں صنعت کاروں اور تاجروں نے فیلڈ مارشل کے سامنے ایف بی آر کی شکایات کے دفتر کھولے، گویا شوگر اور کرپٹو سکینڈل کے بعد اب ایف بی آر کی اصلاحات پر بھی سوالات اٹھیں گے اور ان میں تبدیلیاں بھی ہوں گی۔
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ان تمام ایشوز کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جو بدنام سکینڈلز ان پر تھوپے جا رہے ہیں ان کا سرے سے ان کیساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ لیکن وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں بھی نہیں کہ ان سکینڈلز کا تعلق دراصل کس کے ساتھ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی آزمودہ ٹیم سے جن حیرت ناک تبدیلیوں کی توقع تھی وہ رونما نہیں ہو رہیں بلکہ انکے رونما ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ شہباز شریف کا ماضی اور ان کا محنت و مشقت سے تیارکردہ ورثہ اس قدر تابناک ہے کہ لوگ کوفہ کو بھی ان کے یاتھوں لاہور کی طرح مسخر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر شریف وزیر اعظم لاہور کی اندھیری گلیوں اور تپتے بازاروں تک کو سر کر سکتے ہیں تو وہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے کوفے کے آثار ختم کرکے اسے واقعی اسلام آباد کیوں نہیں بنا سکتے۔؟
