محکمہ داخلہ سے افغان شہریوں کی واپسی کی نئی ہدایات، ہزاروں افراد سرحد کی جانب روانہ

حکومت پاکستان نے جنوب مغربی علاقوں میں مقیم افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے بعد ہزاروں افغان باشندے وطن واپسی کے لیے سرحد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر مہراللہ نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ افغان شہریوں کی "باعزت اور منظم واپسی” کے لیے ایک نئی مہم شروع کی جائے۔
چمن میں تعینات ایک اور اعلیٰ حکومتی افسر، حبیب بنگلزئی نے بتایا کہ جمعہ کے روز چمن سرحد پر تقریباً 4 سے 5 ہزار افغان شہری وطن واپسی کے منتظر تھے۔
دوسری جانب افغانستان کے صوبہ قندھار میں پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے سربراہ عبداللطیف حکیمی کا کہنا ہے کہ جمعے کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان میں کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان شہری پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں، جن میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو 1979 کے بعد افغانستان میں جاری جنگوں، اور خاص طور پر 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان آئے۔
پاکستان نے 2023 میں افغان شہریوں کی جبری واپسی کی مہم کا آغاز کیا تھا، جسے اپریل 2025 میں دوبارہ تیز کر دیا گیا۔
اس مہم کے تحت ان لاکھوں افغانوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے جو قانونی حیثیت کے بغیر ملک میں مقیم تھے، اور انہیں متنبہ کیا گیا تھا کہ رضاکارانہ طور پر ملک نہ چھوڑنے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں، جن میں صرف اپریل 2025 کے بعد 2 لاکھ سے زائد افغان شہری وطن واپس جا چکے ہیں۔
یہ مہم خاص طور پر ان 8 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جن کے پاس عارضی یا منسوخ شدہ رہائشی اجازت نامے ہیں، اور جن میں سے بعض یہاں پیدا ہوئے یا کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔
9 مئی مقدمات میں شفاف ٹرائل اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں:وفاقی وزیر اطلاعات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانوں کی جبری واپسی کا مقصد طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ سرحدی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر قابو پائے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ملک میں دہشت گرد حملوں میں ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، اور ان حملوں میں ملوث عناصر میں بعض افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی کے علاوہ معاشی دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل کی کمی کے باعث عوامی حلقوں میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مہم عوامی حمایت بھی حاصل کر رہی ہے۔
ادھر ایران نے بھی افغانوں کی واپسی کی ایک بڑی مہم جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے تحت اب تک 15 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔
