"سب آپ سے تنگ آ چکے ہیں”ٹرمپ نے نیتن یاہو کو کھری کھری سنا دیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک مبینہ سخت اور غیر معمولی ٹیلیفونک گفتگو کے انکشاف نے عالمی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گفتگو غزہ جنگ کے خاتمے اور ایک مجوزہ امن منصوبے کے حوالے سے ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔
رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "سب لوگ آپ سے تنگ آ چکے ہیں” نہ صرف یہودی کمیونٹی بلکہ ان کے قریبی ساتھی بھی اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کال میں ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ امور کے مشیر جیرڈ کشنر اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔
یہ انکشاف ایک نئی کتاب Regime Change میں سامنے آیا ہے، جسے نیویارک ٹائمز کے دو معروف صحافیوں نے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے مطابق یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے ایک 20 نکاتی امن منصوبہ زیر غور تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو باور کرانے کی کوشش کی کہ مجوزہ معاہدہ اسرائیل کے مفاد میں ہے اور اس سے خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اسرائیلی قیادت کے بعض اقدامات، خصوصاً دوحہ میں حماس کے اہداف پر فضائی حملوں، نے مذاکراتی ماحول کو متاثر کیا اور واشنگٹن میں بھی تشویش پیدا کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو یہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں موجود تناؤ کی عکاسی کرتی ہیں کیونکہ ماضی میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قریبی اتحادی تصور کیا جاتا تھا، لیکن حالیہ علاقائی تنازعات اور جنگ بندی کے معاملات نے دونوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں امریکہ کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے، اور اسرائیل و فلسطین تنازع کے حل کے لیے کسی بھی امن منصوبے کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔ ایسے میں اس نوعیت کی مبینہ تلخ گفتگو نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
اگرچہ کتاب میں بیان کردہ دعوؤں پر باضابطہ ردعمل محدود ہے، تاہم ان انکشافات نے ایک بار پھر غزہ جنگ، امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیلی قیادت کے کردار پر عالمی سطح پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔
