امریکہ ایران امن معاہدے نے عالمی معیشت کو تباہی سے کیسے بچایا؟

مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً سو دن تک جاری رہنے والے تنازعے کے بعد آبنائے ہرمز کی بحالی نے عالمی معیشت کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی عالمی کموڈٹی مارکیٹوں میں استحکام آنا شروع ہوگیا ہے، خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل بھی بتدریج معمول پر واپس آرہی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کے شعبے، صنعتوں اور صارفین پر شدید دباؤ ڈالا۔ تقریباً 100 روزہ بحران کے دوران عالمی معیشت کو 500 ارب سے 900 ارب ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں یہ نقصان کئی گنا بڑھ سکتا تھا۔ اقتصادی تجزیوں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز مزید ایک سال تک بند رہتی تو عالمی معیشت کو سالانہ 20 کھرب ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا تھا، جبکہ بدترین منظرنامے میں یہ خسارہ 30 سے 35 کھرب ڈالر تک جا سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ نقصان دنیا کی بڑی معیشتوں کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے برابر ہوتا اور عالمی سطح پر شدید کساد بازاری، مہنگائی کے نئے طوفان اور تجارتی سرگرمیوں کے تعطل کا باعث بنتا۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے اس بحری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین، پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ مفاہمتی اقدامات اور کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈیوں نے مثبت ردعمل دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ریفائنریوں کی بحالی، بحری ٹریفک کی روانی اور خطے میں سیاسی استحکام برقرار رہا تو 2026 کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 65 سے 70 ڈالر فی بیرل کی سطح تک آ سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف عالمی تجارت بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی خوش آئند ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کا دباؤ کم ہوگا، صنعتی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو مالی ریلیف ملے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا صرف ایک بحری راستے کی بحالی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے امید، استحکام اور بحالی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ اگر خطے میں امن قائم رہا تو دنیا ایک ممکنہ معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے۔
