کیا امام حسین کے پاس کربلا جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا؟

اسلامی تاریخ میں اگر کسی ایک واقعے نے حق و باطل، اصول اور مصلحت، اور طاقت و صداقت کے درمیان لکیر کھینچی تو وہ واقعہ کربلا ہے۔ عام طور پر یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ کیا حضرت امام حسینؓ کے پاس کربلا جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا؟ کیا وہ اپنی جان نہیں بچا سکتے تھے؟ کیا حالات سے سمجھوتہ ممکن تھا؟ اور اگر تھا تو پھر انہوں نے وہ راستہ کیوں اختیار نہیں کیا؟
مورخین اور مفکرین کے نزدیک اس سوال کا جواب صرف کربلا کے میدان میں نہیں بلکہ ان فیصلوں میں پوشیدہ ہے جو امام حسینؓ نے مدینہ سے روانگی کے وقت کیے تھے۔ حضرت امیر معاویہؓ کے دور حکومت کو اسلامی تاریخ میں استحکام، نظم و نسق اور مضبوط ریاستی ڈھانچے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تقریباً بیس برس تک ایک وسیع سلطنت کو کامیابی سے چلایا۔ ان کی حکمرانی کا فلسفہ ان کے مشہور قول میں جھلکتا ہے کہ ’’اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک بال بھی ہو تو میں اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔‘‘ سیاسی حکمت، برداشت اور حالات کے مطابق لچک ان کی گورننس کا بنیادی اصول تھا۔ تاہم تاریخ دانوں کے مطابق ان کے دور کا سب سے متنازع فیصلہ اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنا تھا، جس سے خلافت کے انتخابی تصور کی جگہ موروثی حکمرانی کا آغاز ہوا۔
سن 60 ہجری میں یزید اقتدار میں آیا تو اس نے مختلف شخصیات سے بیعت لینے کا عمل شروع کیا۔ امام حسینؓ کے سامنے سب سے آسان اور محفوظ راستہ یہی تھا کہ وہ بیعت کر لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو ان کی جان، اہل خانہ اور ساتھی سب محفوظ رہتے۔ انہیں سیاسی و سماجی طور پر بھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ بعض صحابہ کرامؓ اور ان کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے یہی راستہ اختیار کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیعت کر لی جبکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی امام حسینؓ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ دونوں اپنی دانائی، تقویٰ اور سیاسی بصیرت کے لیے معروف تھے۔ لیکن امام حسینؓ نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔
معروف ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق کربلا دراصل 10 محرم کو شروع نہیں ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک کربلا اس دن شروع ہو گئی تھی جب امام حسینؓ نے مدینہ میں فیصلہ کیا کہ وہ یزید کی بیعت نہیں کریں گے۔ شریعتی کے مطابق اصل سوال میدان جنگ کا نہیں بلکہ انتخاب کا ہے۔ جب ایک انسان کے سامنے ایک محفوظ راستہ اور ایک اصولی راستہ موجود ہو تو وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے؟
امام حسینؓ کے پاس پہلا راستہ یہی تھا کہ وہ یزید کی بیعت کر لیتے اور نظام کا حصہ بن جاتے۔ اس صورت میں نہ کوئی جنگ ہوتی، نہ اہل بیتؓ پر مصائب آتے اور نہ تاریخ کا دھارا اس طرح بدلتا۔ تاہم امام حسینؓ کے نزدیک مسئلہ صرف اقتدار کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نظام کو جواز فراہم کرنے کا تھا جسے وہ اسلامی اصولوں کے مطابق درست نہیں سمجھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مشورہ دیا کہ امام حسینؓ یمن چلے جائیں اور وقتی طور پر سیاسی کشمکش سے دور رہیں۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ تجویز تھی۔ یمن میں ان کے حامی بھی موجود تھے اور وہاں انہیں نسبتاً تحفظ حاصل ہو سکتا تھا۔ یہ حکمت عملی کسی حد تک حضرت علیؓ کے ابتدائی دور کے صبر اور انتظار کی پالیسی سے مشابہ تھی۔ لیکن امام حسینؓ نے یہ راستہ بھی قبول نہ کیا۔ ایک اور راستہ یہ تھا کہ امام حسینؓ مکہ مکرمہ میں رہتے اور حرم کی حرمت کی وجہ سے محفوظ رہتے۔ تاہم جب انہیں اطلاع ملی کہ یزید کے کارندے حاجیوں کے روپ میں مکہ پہنچ چکے ہیں اور انہیں حرم کے اندر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تو انہوں نے مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
امام حسینؓ کا موقف تھا کہ ان کی وجہ سے بیت اللہ کی حرمت پامال نہیں ہونی چاہیے۔ راستے میں حر بن یزید ریاحی کے لشکر سے ملاقات کے بعد بھی واپسی کا ایک امکان موجود تھا۔ لیکن اس وقت تک مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور کوفے کی سیاسی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ امام حسینؓ جانتے تھے کہ واپسی کا مطلب بالآخر یزید کے اقتدار کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہو سکتا ہے۔ کربلا پہنچنے کے بعد عمر بن سعد نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ معاملہ جنگ کے بغیر حل ہو جائے۔ تاریخی روایات کے مطابق دونوں جانب سے مذاکرات ہوئے اور مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ امام حسینؓ نے بعض تجاویز میں مدینہ واپسی یا کسی سرحدی علاقے میں عام مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی بات کی، تاہم غیر مشروط بیعت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ بالآخر سیاسی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا۔
ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق امام حسینؓ نے مستقبل کی تاریخ کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا۔ ان کے نزدیک اگر امام حسینؓ بیعت کر لیتے تو بعد میں آنے والے ہر حکمران کے پاس یہ دلیل موجود ہوتی کہ جب نواسۂ رسول ﷺ نے بیعت کر لی تھی تو دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ شریعتی کے مطابق امام حسینؓ کی قربانی نے ظلم کے خلاف مزاحمت کی ایک دائمی مثال قائم کی۔
کربلا کا ایک اہم پہلو کوفے کے لوگوں کا کردار بھی ہے۔ ہزاروں خطوط لکھ امام حسین کو بلانے والے یہی لوگ بعد میں خوف، مصلحت اور ریاستی دباؤ کے باعث خاموش ہو گئے۔ بہت سے افراد حق کو پہچانتے تھے لیکن اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسی لیے بعض مفکرین کے نزدیک کربلا صرف یزید اور حسینؓ کی داستان نہیں بلکہ خاموش تماشائیوں کی کہانی بھی ہے۔ سانحہ کربلا کے بعد حالات نے تیزی سے رخ بدلا۔ مختار ثقفی کی تحریک کے دوران ابن زیاد، شمر اور عمر بن سعد جیسے اہم کردار اپنے انجام کو پہنچے۔ دوسری طرف یزید بھی چند برس بعد وفات پا گیا اور چند دہائیوں کے اندر اموی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔
یہاں وہ سوال دوبارہ سامنے آتا ہے جو آج بھی اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا امام حسینؓ کے پاس کربلا کے علاوہ کوئی راستہ تھا؟ تاریخی اعتبار سے جواب ہاں میں ہے۔ امام حسینؓ کے پاس بیعت کرنے، یمن چلے جانے، مکہ میں قیام کرنے، سیاسی خاموشی اختیار کرنے یا مختلف سطح کے سمجھوتے کرنے سمیت کئی راستے موجود تھے۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ کیا ان کے پاس ایسا کوئی راستہ تھا جس میں وہ اپنے اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے یزید کی حکمرانی کو مذہبی جواز بھی نہ دیتے اور مکمل تصادم سے بھی بچ جاتے، تو اس بارے میں مورخین اور مفکرین کی آراء مختلف ہیں۔ البتہ ایک بات پر تقریباً سب متفق ہیں کہ امام حسینؓ نے جو راستہ اختیار کیا وہ طاقت، مصلحت اور ذاتی تحفظ کے بجائے اپنے ضمیر، اصول اور حق کے تصور کے مطابق اختیار کیا تھا۔ اسی لیے کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ اصول اور مصلحت کے درمیان انتخاب کی دائمی علامت بن چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں بعد بھی یہ سوال زندہ ہے کہ ’محفوظ راستہ بہتر تھا یا درست راستہ؟‘
