ایران برطانوی تسلط سے کیسے آزاد ہوا؟

تحریر:محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ایران ماضی میں بھی کئی بار سرخرو ہوا ہے۔ آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایران نے برطانوی تسلط سے کس طرح آزادی حاصل کی۔سرزمین ایران تین اطراف سے سمندر میں گھری ہے، شمال میں Caspian Seaہے، جنوب مغرب میں خلیج فارس یعنی Persian Gulfجبکہ جنوب میں گلفِ عمان۔ سائرس اعظم کے دور میں 590قبل مسیح سے529قبل مسیح تک اور بعد ازاں کئی صدیوں تک ایران ایک عظیم الشان سلطنت رہا ۔ظہورِ اسلام کے وقت روم اور ایران دو بڑی طاقتیں تھیں۔جب حضرت محمد ﷺ نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو خطوط لکھے تو ایرانی بادشاہ نے طاقت کے گھمنڈ میں یہ مراسلہ پھاڑ ڈالا۔عمر فاروقؓ کے عہد میں ایران فتح ہوا تو بعد ازاں کئی سو سال تک خلفائے بغداد کے ماتحت رہا۔چنگیز خان اور پھر ہلاکو خان نے خوراسان کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو آگے چل کرامیر تیمور نے سرزمین فارس کو روند ڈالا۔ بعدازاں دجلہ اور فرات کے درمیان Mesopotamiaکی سرزمین سلطنت عثمانیہ میں شامل ہوگئی تو صفوی حکمرانوں نے ایران کے وجود کو کسی حدتک برقرار رکھا۔ شاہ اسماعیل کے پوتے عباس اعظم نے اس خطے کی کھوئی ہوئی شان و شوکت بحال کرنیکی کوشش کی۔انہی کے دور میں پرتگالیوں کوآبنائے ہرمز سے نکالنےکیلئے برطانیہ کی مدد لی گئی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں قدم جمالئے۔ پھر نادر شاہ ایرانی کا دور آیا جسے اہل فارس اپنے خطے کا نپولین مانتے ہیں۔ نادر شاہ نے ایک طرف کابل اور قندھار پر حملہ کیا تودوسری طرف اس نے دہلی کو تاراج کیا اور کوہ نور ہیرا اپنے ساتھ لے گیا۔

نادر شاہ کے بعد ایک بار پھر یہ ملک زوال پذیر ہوا۔ ترک النسل قاجارخاندان کی بادشاہت کےبعد خانہ جنگی پھوٹ پڑی۔1907ء میں روس اوربرطانیہ نے ایران کو تقسیم کردیا۔1919ء کے اینگلو ایران معاہدے نے ایران کو برطانیہ کی کالونی بنادیا۔ان حالات میں جنرل رضا خان نامی ایک فوجی افسر قومی منظرنامے پر اُبھر کر سامنے آیاجو حاکم وقت احمد شاہ کے دور میں سردارِ سپاہ، وزیر جنگ اور پھر وزیراعظم بنا۔بعد ازاں احمد شاہ ملک چھوڑ کر فرانس روانہ ہوگیاتو جنرل رضا خان نے عنان اقتدار سنبھال لی۔ 31اکتوبر 1925ء کو ایران کی پارلیمنٹ نے قاجار خاندان کی بادشاہت کے خاتمے کا اعلان کردیا اور پہلوی خاندان کا دور شروع ہوا۔25اپریل 1926ء کو رسم تاج پوشی کے موقع پر جنرل رضا خان نے اپنے سات سالہ بیٹے محمد رضا پہلوی کو ولیعہد نامزد کر دیا۔ جنرل رضا خان جو، ترکی کے مصطفی ٰکمال پاشا اتا ترک سے متاثر تھے، نے ایران کے حالات بدلنے کی کوشش کی مگر دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج پیش قدمی کرتے ہوئے تہران کے قریب پہنچ گئیں تو 16ستمبر 1941ء کو جنرل رضا خان اپنے بیٹے کے حق میں دستبردار ہوکر جنوبی افریقہ چلے گئے اور جوہانسبرگ میں ہی 1944ء میں ان کا انتقال ہوا۔

بعدازاں ایران میں برطانوی سامراج کیخلاف تحریک شروع ہوگئی اور اسکے روح رواں تھے ڈاکٹر محمد مصدق۔ ڈاکٹر مصدق نے قاجار بادشاہ کے زمانے میں شاہی دربار میں آنکھ کھولی۔ ڈاکٹر مصدق کے والد شاہ ناصر الدین قاجار کے وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے جبکہ انکی والدہ شہزادہ عباس مرزا کی پوتی تھیں۔1906ء میں جب ایران میں نئے آئین کے بعد پہلی پارلیمنٹ وجود میں آئی تو ڈاکٹر مصدق اصفہان سے اس کے رُکن منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر مصدق کو کئی بار جلاوطن ہونا پڑا مگر انہوںنے برطانوی استعمار کیخلاف جدوجہد جاری رکھی۔دراصل تیل کی دریافت کے بعد ایران برطانیہ کیلئے سونے کی چڑیا بن چکا تھا۔تیل کی صنعت سے حاصل ہونیوالی 83فیصد آمدن کمپنی سرکار لے جاتی جبکہ باقی 17فیصد میں سے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات نکال کر ایرانی حکومت کے حصے میں بہت کم پیسے آتے۔ اس استحصال پر لوگ سیخ پاتھے اور ڈاکٹر مصدق کی قیادت میں ہر گزرتے دن کیساتھ غم و غصہ بڑھ رہا تھا۔20مارچ1951ء کو ایرانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے تیل کی صنعت کو قومیانے کا قانون منظور کرلیا جسکے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔28اپریل 1951ء کو شاہ ایران نے عوامی دبائو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور ڈاکٹر محمد مصدق کو وزیراعظم نامزد کردیا۔ مصدق کے وزیراعظم بننے کے 2دن بعدپارلیمنٹ نے بل منظور کیا کہ تیل کے تمام ذخائر ،تنصیبات اور مشینری کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ شاہ ایران نے اس مسودہ قانون پر دستخط کردیئے۔ابتدائی طورپر برطانیہ نے جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا،برطانوی فوجوں کی پیشقدمی کا آغاز ہوگیا۔ رائل نیوی کا بحری جنگی جہازCruiser Mauritious ایران کی آبادان پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا اور یوں لگا جیسے برطانیہ ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلے گا۔ مگر بعدازاں برطانیہ کی طرف سے معقولیت کا مظاہرہ کیا گیا۔ اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ امریکہ پہلے سے کوریا کی خوفناک جنگ میں پھنسا ہوا تھا اور امریکی صدر ہیری ٹرومین ایک اور مہم جوئی کے حق میں نہیں تھے۔ اینگلوایرانین آئل کمپنی نے 50فیصد شیئر ایرانی حکومت کو دینے پر رضامندی ظاہر کردی مگر وزیراعظم مصدق نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔معاملات سلجھانے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو برطانوی حکومت نے ایران کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا اور وزیراعظم ڈاکٹر مصدق اس معاملے کو اقوام متحدہ کے فورم پر لے گئے۔

اینگلو ایرانین آئل کمپنی رخصت ہوئی تو حکومتی سطح پر نیشنل ایرانین آئل کمپنی بنائی گئی مگر تیل نکالنے کیلئے مشینری تھی نہ ٹیکنیشن اور اگر خام تیل نکال بھی لیا جاتا تو کوئی خریدار نہ تھا۔ کئی سال تک آئل پلانٹ بند پڑے رہے اور آدھی قیمت کی پیشکش کے باوجود ایک بیرل تیل بھی فروخت نہ کیا جاسکا۔حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے تو مصدق نے مزید اختیارات کا تقاضا کیا اور وزیر جنگ کا قلمدان اپنے پاس رکھنا چاہا۔شاہ ایران نے انکار کیا تو وزیراعظم ڈاکٹر مصدق نے 17جولائی کو بطور احتجاج استعفیٰ دیدیا۔ شاہ ایران نے سابق وزیراعظم احمد غوام کو ایک بار پھر سربراہ حکومت بنا دیا مگر پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔لوگ سڑکوں پر نکل آئے ،پورے ملک میں احتجاج کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالات اس قدر خراب ہوئے کہ فوج نے مظاہرین پر گولی چلانے اسے انکار کردیا اور سول وار کے خدشات سراُٹھانے لگے ۔صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر شاہ ایران کو عوامی دبائو کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑا ۔نہ صرف ڈاکٹر مصدق کو بلا کر وزارت عظمیٰ کا منصب انکے حوالے کیا گیا بلکہ وزارت جنگ سمیت تمام مطالبات مان لیے گئے۔

 

Check Also
Close
Back to top button