پنجاب کا بجٹ،حکومت کیلئے قانونی امتحان کیوں بن گیا؟

پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری سے قبل ایک نیا آئینی اور قانونی تنازع سامنے آ گیا ہے۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اربوں روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبے متعلقہ فورمز سے منظوری حاصل کیے بغیر بجٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں، جس کے باعث بجٹ کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔اپوزیشن لیڈر رانا آفتاب نے اعلان کیا ہے کہ 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے کئی منصوبے ایکنک (ECNEC) اور دیگر متعلقہ اداروں کی منظوری کے بغیر بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں، جو قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تاکہ بجٹ کے عمل اور ترقیاتی منصوبوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہو سکے۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ کے پورے عمل پر رولنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اٹھایا گیا قانونی نکتہ اہمیت کا حامل ہے اور اس پر قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے درجنوں بڑے ترقیاتی منصوبے شامل کیے ہیں جن کی مجموعی مالیت سینکڑوں ارب روپے بنتی ہے۔ ان میں صنعتی ترقی و برآمدی پروگرام، نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور، وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام، لاہور تا راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ، پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، مریم نواز اسپورٹس سٹی، لاہور ہیریٹیج پراجیکٹ اور کلثوم نواز کینسر اسپتال سمیت متعدد میگا منصوبے شامل ہیں۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان منصوبوں کی منظوری کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی  کے مسلسل اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ 22 جون سے 29 جون تک روزانہ ہونے والے اجلاسوں میں 118 ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نئے مالی سال کے آغاز سے قبل ان کی منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ منصوبے عوامی مفاد کے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا انہیں مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اگر عدالت یا متعلقہ فورمز یہ قرار دیتے ہیں کہ قانونی منظوری کے بغیر منصوبے بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں تو اس سے حکومت کو قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کا عمل جاری ہے اور تمام قانونی تقاضے مقررہ مدت میں پورے کر لیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق پنجاب کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے یہ منصوبے ناگزیر ہیں۔ مبصرین کے بقول موجودہ صورتحال نے پنجاب کے بجٹ کو صرف ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ ایک قانونی اور سیاسی امتحان بنا دیا ہے۔ اب نظریں پنجاب اسمبلی، اسپیکر کی رولنگ اور ممکنہ عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کرے گی کہ بجٹ کی منظوری کا عمل کس سمت جاتا ہے

Back to top button