اسلام آباد رجسٹرڈ گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں ریکارڈ توڑ اضافہ کیوں؟

یکم جولائی 2026 سے اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں نمایاں اضافہ نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں پر مالکان کو پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

وفاقی بجٹ 2026-27 کے فنانس بل میں شامل نئی تجاویز کے مطابق ٹوکن ٹیکس کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یہ تجاویز اسلام آباد ضلعی انتظامیہ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات پر تیار کی گئی تھیں۔حکام کے مطابق نئے ٹیکس نظام سے وفاقی دارالحکومت کی سالانہ آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور ریونیو 3.9 ارب روپے سے بڑھ کر ساڑھے 5 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر موجودہ سالانہ ٹوکن ٹیکس ختم کرکے 10 ہزار روپے لائف ٹائم فکسڈ ٹیکس مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ 2010 یا اس سے پہلے کے ماڈلز کی گاڑیوں کے لیے یہ رقم 20 ہزار روپے ہوگی۔اسی طرح 1001 سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کا سالانہ ٹوکن ٹیکس گاڑی کی انوائس قیمت کے 0.25 فیصد کے حساب سے وصول کیا جائے گا، جبکہ 2001 سی سی یا اس سے زائد انجن صلاحیت والی گاڑیوں پر یہ شرح 0.35 فیصد ہوگی۔

نئے نظام کے مطابق 1301 سے 1500 سی سی تک کی گاڑیوں پر سالانہ ٹوکن ٹیکس تقریباً 16 ہزار 250 روپے تک پہنچ جائے گا، جبکہ 1501 سے 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو تقریباً 20 ہزار روپے سالانہ ادا کرنا ہوں گے۔اسی طرح 2001 سے 2500 سی سی تک کی گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس قریب 35 ہزار روپے جبکہ 2500 سی سی سے زائد بڑی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر یہ رقم تقریباً 70 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ماضی میں اسلام آباد میں بڑی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر ٹوکن ٹیکس کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً کم تھی، جسے اب نئی پالیسی کے تحت ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔

گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ٹوکن ٹیکس میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کے آٹو ڈیلرز کے مطابق گاڑیوں کی رجسٹریشن پہلے ہی مہنگی ہے اور نئے ٹیکسوں کے باعث گاڑیوں کی مجموعی ملکیتی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکن ٹیکس میں اضافے سے نہ صرف نئی گاڑیوں کی خریداری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی ری سیل ویلیو پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ خریدار اب گاڑی کی قیمت کے ساتھ اس کے سالانہ اخراجات کو بھی اہمیت دیں گے۔ ان کے مطابق نئے ٹیکس ڈھانچے کے باعث بڑی اور مہنگی گاڑیوں کی طلب میں کمی جبکہ کم انجن صلاحیت والی گاڑیوں کی جانب رجحان بڑھنے کا امکان ہے۔

Back to top button