عمران خان کی جیل سے رہائی کی امیدیں دم کیوں توڑ رہی ہیں؟

اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی بحالی اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یوتھیے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر آنے والے ہیں تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان کے الزامات پر مبنی بیانات اور جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی جیل یاترا ختم ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یوتھیے رہنماؤں کے منتوں ترلوں کے بعد جیسے ہی تحریک انصاف کو ریلیف کی فراہمی کی کوئی راہ نکلتی ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی ٹوئٹس کے ذریعے ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس سے کسی قسم کی رعایت کی امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔ عمران خان کے جارحانہ طرز سیاست کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی مزید کچھ عرصے تک قید سے رہائی ناممکن ہے۔
سیاسی تجزیہ کار امتیاز عالم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی اگر قانونی اور عدالتی طریقے سے ہوگی تو اس میں وقت لگے گا۔ اتنی جلدی رہائی نظر نہیں آ رہی۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اسٹیبلشمنٹ بھی ڈیل کرنا چاہے گی، لیکن کب اور کن شرائط پر کرنا چاہے گی، یا عمران خان کن شرائط پر بات کرنا چاہیں گے۔ یہ تمام چیزیں ابھی واضح نہیں ہیں۔ اور لگتا ہے کہ بات چیت ہو بھی رہی ہے، جبکہ یہ بات چیت تب ہی عمران خان کے لیے بہتر ثابت ہوگی جب وہ نواز شریف کی طرح اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔نواز شریف بھی ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے تھے تو ان کیلئے آسانیوں کے دروازے کھل گئے تھے اگر اب عمران خان بھی سمجھوتے پر تیار ہو جاتے ہیں تو انھیں بھی رہلیف مل سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عمران خان اپنے دعووں کے مطابق کوئی ڈیل قبول نہیں کرتے تو ان کی جیل یاترا مزید طویل ہونا یقینی ہے۔
کالم نگار حماد حسن کا بھی ماننا ہے کہ عمران خان کی جلد رہائی فی الحال مشکل نظر آ رہی ہے، کیونکہ عسکری قیادت اور عمران خان کے درمیان فاصلہ آ چکا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس وقت سیاسی طور پر تنہا ہیں، ابھی ان کے ساتھ صرف اچکزئی صاحب رہائی گئے ہیں۔انہوں نے بھی 2 دن قبل قومی اسمبلی میں کہا کہ پشاور میں جو میٹنگ ہوئی ہے وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ یعنی اچکزئی صاحب کو بھی ان پر اتنا اعتماد نہیں ہے۔ مطلب کہ وہ اب سیاسی طور پر بھی بہت تنہا ہو چکے ہیں۔حماد حسن کا مزید کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈز کیس کے ثبوت اتنے مضبوط ہیں کہ اتنا آسان نہیں ہوگا کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے اور انھیں فوری طور پر وہاں سے ریلیف مل جائے گا۔ کیونکہ اس کیس میں عمران خان پر کرپشن ثابت ہوئی ہے۔ البتہ سیاسی مذاکرات آگے بڑھیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔ لیکن فی الحال ان کی جانب اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ نظر نہیں آرہا۔
حماد حسن کے مطابق یہ جو پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے عسکری قیادت سے ملاقات کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام افواہیں ہیں۔ انفرادی طور پی ٹی آئی کے کسی رہنما کی عسکری قیادت سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے جس ملاقات کا حوالہ دیا جا رہا ہے اس ملاقات میں تمام سیاسی قیادت موجود تھی۔ جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل تھے۔ پی ٹی آئی بھی شامل تھی، کیونکہ صوبے میں ان کی حکومت ہے۔ اس ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی تھی اس حوالے سے یوتھیوں کے تمام دعوے بے بنیاد ہین۔
اس حوالے سے بعض دیگر مبصرین کا بھی ماننا ہے کہ موجودہ ملکی سیاسی حالات میں عمران خان یا ان کے قریبی ساتھیوں کی جلد جیل سے رہائی ناممکن ہے۔ دوسری جانب یوتھیوں کی جانب سے جو دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سھ رابطوں کی بحالی اور ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کوئی ڈیل ہو جائے گی اور عمران خان رہا ہو جائیں گے۔ زمینی حقائق کے مطابق مقتدر حلقوں کی پی ٹی آئی سے فوری طور پر کسی بھی قسم کی ڈیل کے بھی امکانات نظر نہیں آرہے۔ کیونکہ جس حد تک حالات خود بانی پی ٹی آئی اور باقی قیادت نے خراب کر رکھے ہیں، دوریاں اتنی بڑھ چکی ہیں، وہ اتنی جلدی مذاکرات کر کے یا ایک ملاقات کے نتیجے میں ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ دوسرا اس ڈیل کے اندر جو سب سے بڑی رکاوٹ نظر آ رہی ہے۔ وہ ایک اعتماد اور اعتبار کا رشتہ ہے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتبار اور اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ماضی کی سیاہ۔کاریوں اور وعدہ خلافیوں کی وجہ سے اسٹہبلشمنٹ کسی بھی صورت عمران خان پر یقین اور اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں مبصرین کے مطابق مقتدر حلقوں کو خدشات لاحق ہیں کہ آج اگر عمران خان کسی چیز پر حامی بھرتے ہیں اور کل کہیں یو ٹرن لے کر پھر وہی لب و لہجہ استعمال کرنا نہ شروع ہو جائیں جو وہ ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے کرتے رہے ہیں۔ اس لیے فی الحال کسی بھی ڈیل کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی عمل میں آنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔
