پاکستان میں مقیم افغانی بچوں کیلئے پاکستانی رشتے کیوں ڈھونڈنے لگے؟

 

 

 

پاک افغان کشیدگی میں اضافے کے بعد حکومت پاکستان نے غیر قانونی مقیم افغانوں کی ملک بدری کے عمل میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد پاکستان میں لمبے عرصے سے قیام پذیر افغانوں نے واپس جانے کی بجائے پاکستان میں اپنا قیام بڑھانے کے حوالے سے مختلف حربے تلاش کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کو دی گئی حتمی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بڑے افغان تاجروں اور سرمایہ داروں نے کاروبار وغیرہ سمیٹ کر واپس جانے کی بجائے پاکستان میں اپنے بچوں کیلئے رشتے ڈھونڈنا شروع کر دیئے ہیں کیونکہ قانونی طور پر پاکستان میں شادی ہونے کی صورت میں وہ افغانستان جانے سے بچ سکتے ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین سے شادی کی صورت میں افغان باشندوں کو پاکستان اوریجن کارڈ مل سکتا ہے۔ یہ کارڈ ملنے کے بعد وہ پاکستان میں ہی ٹھہر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑے افغان تاجروں اور سرمایہ کاروں نے اپنے بچوں کیلئے پاکستان میں رشتے تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ تاکہ وہ اپنا تمام کاروبار فروخت کرنے اور جائیدادیں بیچنے سے بچ جائیں کیونکہ کاروبار کی منتقلی اور جائیدادوں کی فروخت میں افغانوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ حکومتی سختیاں بڑھنے کے بعد بہت سے افغان باشندے اپنے کاروبار میں نقصان کرنے کے بعد افغانستان جاچکے ہیں۔ جبکہ متعدد نے اپنی قیمتی جائیدادیں اونے پونے داموں بھی فروخت کی ہیں۔ تاہم ایسے بڑے افغان سرمایہ دار اور تاجر جن کو افغانستان میں دوبارہ سے کاروبار چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انھوں نے پہلے تو پاکستان میں ہی ٹھہر نے کیلئے  حکومت سے مہلت مانگی اور جب حکومت پاکستان نے ان کو مزید وقت دیدیا تو انہوں نے اب مستقل طور پر پاکستان میں ہی رہنے کیلئے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان تاجروں نے پاکستان میں دوست احباب سے درخواست کی ہے کہ ان کے بچوں کا رشتے کرانے میں ان کی مدد کی جائے۔ تا کہ اگر وہ مجبورا افغانستان چلے بھی جائیں تو ان کا کاروبار اور جائیداد سنبھالنے والے پاکستان میں موجود ہوں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کچھ اطلاعات ایسی بھی موصول ہورہی ہیں کہ بہت ساری ایسی افغان خواتین بھی ہیں جو نجی اداروں میں ملازمت کر رہی ہیں اور اچھی خاصی تنخواہ بھی لے رہی ہیں، انہوں نے بھی پاکستان میں ہی رہ کر گھر بسانے کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پشاور میں کام کرنے والی افغانی خواتین کا ماننا ہے کہ افغانستان میں خواتین پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں۔ ایسے میں ان خواتین کو وہ ماحول نہیں ملے گا کہ جس میں وہ ملازمت کر کے گھر کی کفالت کر سکیں۔ ذرائع کے مطابق جیسے جیسے حکومت پاکستان کی جانب سے افغان باشندوں کی ملک بدری کے حوالے سے قانونی کارروائیوں میں شدت آ رہی ہے ویسے ویسے ہی افغان تاجروں اور سرمایہ داروں نے اپنے دوستوں سے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ تا کہ اپنے بچوں کیلئے مناسب رشتہ ڈھونڈ سکیں۔

حکومت پاکستان میں مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

واضح رہے کہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں افغان باشندوں کی بڑی جائیدادیں اور کاروبار موجود ہیں ۔ جو انہوں نے گزشتہ کئی عشروں تک یہاں پر رہ کر بنائی ہیں اور اس کاروبار کو ایک دم سے چھوڑ دیناان کیلئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لئے پہلے مرحلے پر انہوں نے حکومت پاکستان سے مزید وقت مانگا اور جب حکومت نے افغان باشندوں کو واپس جانے کی مہلت دے دی تو اب انہوں نے مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کیلئے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پشاور سے متصل ضلع نوشہرہ کی تحصیل اکبر پورہ سے تعلق رکھنے والے زمان خان نے بتایا کہ وہ باغات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ افغان تاجر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے ان کے ساتھ دو سے تین افغان تاجروں نے رابطے کئے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے بچوں کیلئے کوئی مناسب رشتہ ہو تو بات آگے بڑھائی جائے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے بچوں کا پاکستان میں رشتہ ہو جائے گا تو نہ صرف ان کا کاروبار محفوظ ہو جائے گا بلکہ زمین اور جائیداد جو ان کے بڑوں نے خریدی ہے، وہ بھی کم داموں فروخت سے بچ جائے گی۔

 

 

Back to top button