پاکستان میں مقیم افغانی دھڑادھڑبینک اکاؤنٹ کیوں خالی کرنے لگے؟

افغانیوں کی پاکستان سے بے دخلی کے فیصلے کے بعد ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ افغان باشندوں نے پاکستان سے واپس جانے کی تاریخ ملنے کے بعد اپنے بینک اکاؤنٹ خالی کرتے ہوئے بینکوں سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر پردباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق دور حکومت میں سٹیزن کارڈ ہولڈر اور رجسٹریشن کرنے والے افغان باشندوں کو بینکوں میں اکائونٹ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ جس کے بعد پشاور سمیت ملک بھر میں چھوٹے بڑے افغان تاجروں نے بینکوں میں اپنے اکائونٹ کھول رکھے ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے موجود ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے 31 مارچ 2025ء تک کی ڈیڈ لائن ملنے کے بعد سے افغانوں نے بینکوں سے دھڑا دھڑ پیسے نکالنا شروع کر دیے ہیں جبکہ متعدد افغانوں کی جانب سے اپنے بینک اکائونٹ بند کرنے کی بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔جبکہ پشاور سمیت مختلف شہروں میں اس وقت اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھی افغانیوں کا رش لگا ہوا ہے۔ اندرون شہر سمیت دیگر علاقوں میں افغان باشندے اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے بھی اپنے پیسے نکلوا کر اکائونٹ خالی کر رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پشاور سمیت صوبہ بھر میں مقیم افغان باشندوں نے اپنا کاروبار بھی سمیٹنا شروع کر دیا ہے اور کرائے پر لی گئی دکانوں کے بقایاجات سمیت بجلی بلوں کی مد میں پیسے مالکان کو ادا کر کے چابیاں حوالے کر دی ہیں۔ پشاور کے کارخانو مارکیٹ اور پیپل منڈی سمیت دیگر تجارتی مراکز میں متعدد دکانوں کو تالے لگ گئے ہیں اور دکانوں کے اوپر کرائے کیلئے دستیابی کے پوسٹرز بھی آویزاں کردیے گئے ہیں۔یہ دکانیں انہی افغان باشندوں کی ہیں جو وطن واپس جانے کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں افغان باشندوں کی وطن واپسی کے بعد کچھ تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔ جس میں بعض علاقوں میں محنت کشوں کی تعداد کم ہوئی ہے اور خاص کر پشاور میں بڑے افغان ہوٹلوں کے مالکان کے علاوہ عملہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ اسی طرح پشاور کے خیبر بازار سمیت شعبہ بازار اور نمک منڈی میں چائے کے بڑے تاجروں کی دکانیں بھی بند ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، پاکستانی فیصلہ سازوں میں یہ تاثر مستحکم ہوچکا ہے کہ ملک میں جاری شرپسندانہ کارروائیوں کو روکنے کیلئے افغانوں کواپنے ملک واپس بھیجنے کا وقت آگیا ہے، مبصرین کے مطابق افغانوں کی بے دخلی سے جہاں پاکستان پر معاشی دباؤ میں کمی آئے گی وہیں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوگی۔تجزیہ کاروں کے مطابق  امریکا اور یورپ میں جس طرح غیر قانونی مہاجرین کے خلاف فضا بنی ہوئی ہے، یہ مناسب موقع سمجھا جارہا ہے کہ پاکستان بھی افغان مہاجرین سے جان چھڑا لے تاکہ مغربی ممالک انسانی ہمدردی کے نام پر پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے باز رہیں۔ مبصرین کے مطابق ملکی سیکیورٹی صورتحال، افغان حکومت کے ساتھ تناؤ، ٹی ٹی پی کے خلاف افغان طالبان کے عملی کارروائی سے گریز کے علاوہ پاکستان میں شرپسندانہ کارروائیاں کرنے والے عناصر کی مکمل سرپرستی کی وجہ سے پاکستانی حکام نے افغانیوں سے فوری جان چھڑوانے کا فیصلہ کیاہے۔ تجزیہ۔کاروں کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد جہاں امن و امان میں بہتری آئے گی وہیں دوسری جانب افغان مہاجرین کی واپسی سے غیر دستاویزی معیشت کے  سکڑنےکا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں چار قسم کے افغان مہاجرین رہتے ہیں، پہلی قسم وہ ہے جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں ان کی بڑی تعداد کو پاکستان سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے دوسرے افغانی اے سی سی کارڈ ہولڈر ہیں، ان کی تعداد 9 لاکھ ہے جبکہ پی او آر یعنی وہ افغان جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن ہے ان کی تعداد 14 لاکھ ہے۔ چوتھی قسم وہ ہے جو افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد پاکستان آئے تھے، یہ لوگ امریکا اور یورپ جانے کے لیے ویزا پراسیس مکمل ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ تاہم 29 جنوری کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے اجلاس میں تمام اقسام کے افغان مہاجرین کو 31 مارچ تک اسلام آباد اور راولپنڈی کی حدود سے نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ اے سی سی کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک کی مہلت دی گئی، جبکہ پی او آر کارڈ ہولڈرز کے حوالے سے کہا گیا کہ انہیں 30 جون 2025 تک پہلے ہی مہلت دی جا چکی ہے، انہیں دوسرے مرحلے میں نکالا جائےگا۔اپنے ویزوں کے لیے انتظار میں بیٹھے افغان مہاجرین کو اسلام آباد راولپنڈی سے 31 مارچ تک نکالنے کا فیصلہ ہوا، وزارت خارجہ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بیرونی سفارتخانوں سے رابطہ کرکے تفصیلات حاصل کرے کہ جن افغان مہاجرین کے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں یا جن کو نئی امریکی پالیسی کی وجہ سے ویزے نہیں ملنے ان سب کو واپس افغانستان بھجوا دیا جائے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان نے اکتوبر 2023 سے افغان مہاجرین کو نکالنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 8 لاکھ 42 ہزار افغان پاکستان سے جا چکے ہیں، ان میں سے 40 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔افغان طالبان کے خلاف کارروائی صرف پاکستان میں ہی نہیں ہورہی، انہیں یورپ، ترکیہ اور ایران سے بھی واپس بھجوایا جارہا ہے۔ جرمنی کے متوقع حکومتی اتحاد نے بھی افغان مہاجرین کو قبول کرنے کے پروگرام روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Back to top button