علیمہ خان ہی عمران خان کی رہائی میں بڑی رکاوٹ کیوں بن گئیں؟

 

 

 

 

علیمہ خان ہی اپنے سگے بھائی عمران خان کی رہائی میں بڑی رکاوٹ بن گئیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے جب بھی مذاکرات کی کوئی راہ ہموار ہوتی دکھائی دیتی ہے، یا حکومتی حلقوں کی جانب سے لچک کے اشارے ملتے ہیں،عین اسی وقت علیمہ خان کے جارحانہ بیانات سیاسی فضا کا رخ موڑ دیتے ہیں اور کھلتے ہوئے دروازے دوبارہ بند ہو جاتے ہیں اور مفاہمت کی فضا کشیدہ ماحول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ڈی چوک جانے پر اصرار ہو یا سٹریٹ موومنٹ کی حتمی کال، مذاکراتی ٹیم کو عملاً غیر مؤثر بنانے کا اعلان ہو یا علاج و معالجے کے معاملے پر تاخیر،ہر مرحلے پر عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے ایسے غیر سیاسی جارحانہ بیانات سامنے آئے جس سے ممکنہ پیش رفت رک گئی۔ مبصرین کے مطابق عمران خان ڈھائی برس سے قید میں ہیں تاہم علیمہ خان کی بیان بازی کی وجہ سے پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے احتجاج دھرنے مذاکرات سب کچھ ہو جانے کے باوجود عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکی ہے جبکہ اب تو گزشتہ تین ماہ سے عمران خان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی مکمل طور پر رک چکا ہے۔

 

ناقدین کے مطابق مفاہمتی و مذاکراتی عمل کے ہر اہم موڑ پر علیمہ خان کی سخت گیر پوزیشن نے نہ صرف سیاسی منظرنامے کو پیچیدہ بنایا بلکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی امیدوں کو بھی دھندلا دیا۔ اب تو پی ٹی آئی کے اندر سے بھی علیمہ خان کے اس رویے کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں، پی ٹی آئی کے مفاہمت پسند رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اگر علیمہ خان کی جانب سے بیان بازی روکتے ہوئے جارحانہ حکمتِ عملی میں لچک دکھائی جاتی تو شاید نتائج مختلف ہوتے،لیکن ہر بار علیمہ خان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف سخت بیانات اور دو ٹوک مؤقف نے معاملات کو آگے بڑھنے کے بجائے مزید الجھا دیا۔ اب تو حالات یہاں تک خراب ہو گئے ہیں کہ عمران خان کی رہائی تو کجا گزشتہ تین ماہ سے عمران خان کی اپنے وکلا، پارٹی رہنماؤں اور فیملی سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے جس کی بڑی وجہ علیمہ خان ہیں کیونکہ علیمہ خان کا دو ٹوک اور غیر لچکدار مؤقف ہر بار مفاہمت کی راہ کو مسدود کر دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق علیمہ خان نے جذباتی اور سیاسی بیانیے کو اس حد تک غالب رکھا کہ عملی پیش رفت ممکن ہی نہ رہ سکی۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ علیمہ خان کے مسلسل مذاکراتی اور مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا اصل مقصد کیا ہے؟

مبصرین کے مطابق علیمہ خان چاہتی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی جیل میں ہی رہیں کیونکہ جتنا عرصہ عمران خان اور بشری بی بی جیل میں رہیں گے علیمہ خان کو اس کا فائدہ ہوگا،کیونکہ عمران خان اور بشری بی بی کی رہائی علیمہ خان کے سیاسی سفر کا خاتمہ کردے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات کی کوئی راہ ہموار ہونے لگتی ہے تو علیمہ خان اپنی لیڈری اور سیاست کو بچانے کیلئے اس میں روڑے اٹکانا شروع کر دیتی ہیں۔

مبصرین کے مطابق علیمہ خان مسلسل اس کوشش میں سرگرداں دکھائی دیتی ہیں کہ کسی صورت عمران خان کی قید کو مزید دے مزید طویل کیا جائے تاکہ ان کی اپنی لیڈری چمکانے کی خواہش پوری ہو سکے، ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر 2024 کو عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا گیا۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ حکومت کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ اگر احتجاج کو مخصوص مقام تک محدود رکھا جائے توعمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے ڈی چوک جانے پر اصرار اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے اعلانات نے تمام کئے کرائے پر پانی پھیر دیا، متعدد رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگراس وقت  احتجاج کو محدود اور علامتی رکھا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے، مگر علیمہ خان کے سخت مؤقف نے ممکنہ پیش رفت کو روک دیا۔

 

بعد ازاں عمران خان نے مذاکرات کی ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپی۔ پارٹی قیادت نے عندیہ دیا کہ مذاکراتی ٹیم جو فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا۔ یہاں تک کہا گیا کہ اگر وقتی طور پر رہائی کے مطالبے میں لچک لانی پڑی تو اس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ لیکن دسمبر میں علیمہ خان نے بیان داغ دیا کہ جو بھی حکومت سے مذاکرات کی بات کرے گا وہ بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس اعلان نے عملاً مذاکراتی ٹیم کو غیر مؤثر بنا دیا اور مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ اسی طرح گزشتہ برس تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دو روزہ کانفرنس میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنے پر زور دیا۔ تاہم علیمہ خان نے اس کوشش سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان کی رہائی تک کسی سے بات نہیں ہوگی۔ یوں ایک اور ممکنہ راستہ بند ہو گیا۔

گورنر ٹیسوری کو بچانے کے لیے MQM کا صدر زرداری پر حملہ

چند دن قبل عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں آئیں تو حکومت کی جانب سے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ فیملی کی نمائندگی کے لیے کسی مستند شخص یا معالج کو نامزد کر دیا جائے تاکہ طبی معائنہ شفاف انداز میں ہو سکے۔ تاہم اس مرحلے پر بھی علیمہ خان رکاوٹ بن گئیں ذرائع کے مطابق نامزدگی کے معاملے پر تاخیر اور اختلافِ رائے نے نہ صرف علاج کے عمل کو متاثر کیا بلکہ ممکنہ ریلیف کی کوششیں بھی غیر مؤثر بنا دیں۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس تمام صورتحال میں علیمہ خان کا کردار ایک بار پھر رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا۔

 

ناقدین کے مطابق اب علیمہ خان کے خلاف پی ٹی آئی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر علیمہ خان کی جانب سے بیان بازی میں نرمی اور حکمتِ عملی میں لچک دکھائی جاتی تو شاید پیش رفت ممکن تھی۔ ناقدین کے مطابق علیمہ خان کا دو ٹوک اور غیر لچکدار مؤقف ہر بار مفاہمت کی راہ میں دیوار بن جاتا ہے۔ جذباتی بیانیہ عملی سیاست پر غالب آ چکا ہے، جس کا خمیازہ خود عمران خان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

 

Back to top button