اپنی سیاست بچانے کیلئے عمران خان مودی کے ساتھ کیوں کھڑے ہو گئے؟

پاک بھارت جنگ کے بعد جہاں دنیا بھر میں پاک فوج کا طوطی بول رہا ہے وہیں دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستانی فتح کو داغدار کرنے کے درپے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران کی ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ جس ملک کے شہری ہیں، اسی ملک کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ عمران خان اپنی ڈوبتی سیاست کی بقا کے لیے اتنے گر جائیں گے یہ تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا۔ بھارت کی خوشنودی اور پاکستان کی ہتک کا سبب بن کر عمران خان دلوں سے ہی نہیں، عوام کی نظروں سے بھی گر چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی عمار مسعود نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ وی نیوز کیلئے اپنی خصوصی تحریر میں عمار مسعود کا مزید کہنا ہے کہ اس بات کو ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ بھارت کو معرکہ حق میں عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ یہ شکست اتنی شدید ہے کہ مودی حکومت کا اقتدار ڈول رہا ہے۔ کانگریس ہرروز لوک سبھا میں سوال کر رہی ہے کہ کتنے طیارے گرے؟ بھارت کے اندر تجزیہ کار اور صحافی اپنی شکست پر پشیمان ہیں۔ گرے ہوئے طیاروں کی تعداد مودی پارٹی کے وزرا کی چھیڑ بن چکی ہے۔ عمار مسعود کے مطابق اس معرکے کی بہت سی چیزوں سے بھارت چشم پوشی کر رہا ہے۔ تاہم وہ اپنے عوام کو تو موذی میڈیا کے ذریعے بے وقوف بنانے کی سر توڑ کوشش تو کر سکتا ہے مگر دنیا کی آنکھوں پر پٹی باندھنے میں یکسر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
عمار مسعود کا مزید کہنا ہے کہ مودی حکومت ایک جانب اپنے تباہ شدہ طیاروں کی تعداد چھپانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے دوسری جانب وہ دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ جنگ بندی کی گزارش امریکی حکومت کے دربار میں انہوں نے نہیں کی تھی۔عمار مسعود کے بقول بھارت کا یہ جھوٹ بھی طشت از بام ہو چکا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر روز اس جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہوئے دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح بھارت ان سے جنگ بندی کے لیے ملتمس ہوا۔ دوسرا وزیر اعظم پاکستان بھی ساری دنیا کو بتا چکے ہیں کس طرح انہیں فیلڈ مارشل کا فون آیا، جس میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست آ رہی ہے۔ اب جبکہ ہم بھارت کو مزا چکھا چکے تھے تو جنگ بندی میں حرج کوئی نہیں تھا کیونکہ بھارتی جنگ بندی کی درخواست پاکستان کی فتح کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ اب تو مودی میڈیا سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کی درخواست کرنے میں پہل بھارت نے کی تھی۔
عمار مسعود کے مطابق مودی حکومت بھارتی میڈیا میں اپنی عبرتناک شکست کو فتح میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے مگر یہ مصالحہ بک نہیں رہا۔ ہر روز مودی حکومت کی ایک نئی طرح سے تذلیل ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ اب مودی حکومت کے پاس دو ہی رستے ہیں۔ یا تو اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کے لیے پاکستان پر پھر حملہ کرنے کی سازش کرے یا پھر شکست تسلیم کرتے ہوئے حکمرانی سے دستبردار ہو جائے۔ عمار مسعود کے مطابق مودی سرکار کیلئے مجوزہ دونوں ہی رستے خود کشی کے رستے ہیں۔ پاکستان پر حملہ کرتے ہیں تو پہلے سے زیادہ ہتک آمیز شکست کا ڈر ہے اور اگر شکست تسلیم کرتے ہیں تو پھر نہ صرف حکومت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے بلکہ گزشتہ دہائی کی ساری محنت اکارت جاتی نظر آتی ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد مودی پارٹی دہائیوں تک سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گی۔ اس بات کا مودی حکومت کو بہت اچھی طرح ادراک ہو چکا ہے۔
عمار مسعود کے مطابق بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا منظر ہی مختلف ہے۔ یہاں فتح کا جشن منایا جا رہا ہے۔ پاک فوج کی شجاعت کے ترانے گائے جا رہے ہیں۔ عوام پرجوش ہیں۔ حکمران اس فتح مبین پر شکرانے کے نفل پڑھ رہے ہیں۔ فتح اتنی بڑی حقیقت ہے کہ حکومت کی خامیاں اب لوگوں کو نظر آنا بند ہو گئی ہیں۔ عوام اب اس حکومت کے گن گا رہے ہیں۔ اب لوگوں کو شہباز شریف بڑے لیڈر نظر آ رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے کا جشن سب سے زیادہ پاکستانی عوام منا رہے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے اچانک ایک مایوس قوم میں توانائی سی آگئی ہے۔ دنیا بھر پاکستان کی معترف ہو رہی ہے۔ عمار مسعود کے مطابق ایسے وقت میں اگر کوئی ہماری فوج کے سپہ سالار کو متنازعہ بنائے، جس شخص نے جنگ جیتی ہو اس پر بہتان لگائے، جس شخص کی شجاعت پر اس کو پاکستان کا سب سے بڑا عہدہ عطا ہوا ہو اس فیلڈ مارشل کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو ایک لمحے کو سوچیں کہ اس پر بھارت کتنا خوش ہو گا۔ اس کے پاکستان دشمن بیانیے کو کتنی تقویت ملے گی۔ بھارت تو پاکستان میں ایسی قابل نفرت قوتوں کو بڑھاوا دے گا۔ اپنی شکست سے توجہ ہٹانے کے لیے دنیا کی نظریں عمران خان کی ٹوئیٹ کی طرف دلائے گا۔ عمار مسعود کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے حالیہ ٹوئیٹ بھارت سے ہماری فتح کو داغدار کرنے کے مترادف ہیں۔ عمران کی ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ جس ملک کے شہری ہیں، اسی ملک کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ ان کے حالیہ ٹوئیٹ سے صرف اور صرف بھارت کا فائدہ اور پاکستان کو نقصان ہوا ہے۔ عمران خان اپنی ڈوبتی سیاست کی بقا کے لیے اتنے گر جائیں گے یہ تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا۔ بھارت کی خوشنودی اور پاکستان کی ہتک کا سبب بن کر عمران خان دلوں سے ہی نہیں، عوام کی نظروں سے بھی گر چکے ہیں۔
