قصوری نے بھٹو پر جھوٹا قتل کیس کیوں درج کروایا؟

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اپنے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے احمد رضا قصوری نے باپ کے قتل سے پہلے پیپلزپارٹی چھوڑ دی تھی لیکن پھر قتل کے بعد اپنی والدہ کو بیچ میں ڈال کر منت ترلے سے دوبارہ پارٹی جوائن کر لی تا کہ 1977 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کیا جا سکے۔ لیکن شومئی قسمت کہ احمد رضا قصوری کو پارٹی ٹکٹ نہ مل سکا چنانچہ 1977 کی فوجی بغاوت کے بعد اس نے ضیاء الحق کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنے باپ کے مقدمہ قتل کو دوبارہ سے اٹھایا اور عدالت کے ہاتھوں بھٹو کا جوڈیشل مرڈر کروا دیا۔ 1977 میں ضیا سے ہاتھ ملانے والا احمد رضا قصوری آج 55 برس بعد جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کا حصہ یے لیکن آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت پاکر مفرور ہونے والے اپنے پارٹی سربراہ کی طرح گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے۔

شہباز حکومت چند ہفتوں سے زیادہ کیوں نہیں چل پائے گی؟

یاد رہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو احمد رضا قصوری بھی اس کا حصہ بن گئے لیکن جب 1970 کے الیکشن کے بعد 1973 میں بھٹو نے پاکستان کا متفقہ آئین تشکیل دیا تو احمد رضا قصوری نے پیپلزپارٹی کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا، یوں بھٹو اور قصوری میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ بھٹو نے بطور پارٹی سربراہ قصوری سے استعفی مانگا لیکن اس نے انکار کر دیا اور بھٹو کی مخالفت شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قصوری کی مقبولیت پرکھنے کے لیے 2 مئی 1971 کو قصور میں پیپلز پارٹی کا جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ پھر بھٹو نے معراج خالد، حنیف رامے اور یعقوب خان کے الزامات کی روشنی میں قصوری کو پارٹی رکنیت سے معطل کر دیا۔ اس اعلان کے بعد قصوری نے بھی ایک اجلاس منعقد کیا اور اعلان کیا کہ انہیں پیپلز پارٹی سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ 6 جون 1971 کو پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ نے احمد رضا قصوری کو باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی کی رکنیت سے خارج کر دیا اور یوں بھٹو اور قصوری کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی سے نکالے جانے کے بعد قصوری قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتے اور کسی اور پارٹی کی طرف سے یا آزاد حیثیت میں دوبارہ انتخاب لڑتے مگر پاکستان میں اس قسم کی کوئی جمہوری اقدار موجود ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ 1972 میں جب قومی اسمبلی کے اجلاس شروع ہوئے تو قصوری نے بھٹو مخالف ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ 1973 کا آئین جب منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش ہوا تو قصوری ان تین افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔ اسمبلی میں قصوری کی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔

اس دوران 11 نومبر 1974 کو وہ واقعہ پیش آیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ اس رات احمد رضا قصوری، اپنے والد نواب محمد احمد خان قصوری، اپنی والدہ میمونہ بانو بیگم اور خالہ بیگم آغا مہدی خان کے ہمراہ اپنے ایک دوست سید بشیر شاہ کی دعوت سے گھر واپس لوٹ رہے تھے۔ گاڑی احمد رضا قصوری چلا رہے تھے۔ وہ جب شادمان اور شاہ جمال کے سنگم پر واقع چوک میں پہنچے تو اچانک نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں احمد رضا قصوری تو محفوظ رہے مگر ان کے والد نواب محمد احمد قصوری شدید زخمی ہو گئے۔
احمد رضا قصوری فوراً اپنے والد کو لے کر یونائیٹڈ کرسچین ہسپتال پہنچ گئے، مگر وہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نواب محمد احمد قصوری نے دم توڑ دیا۔ قصوری نے اسی رات قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جس میں اس نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ملزم ٹھہرایا۔ بھٹو نے فوراً اس قتل کی تفتیش کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شفیع الرحمٰن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا۔ اس ٹربیونل نے 26 فروری 1975 میں اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ اکتوبر 1975 میں اس کیس کو عدم سراغ یابی کی بنا پر داخل دفتر کر دیا گیا جس سے ضیا الحق کے مارشل لاء دور میں دوبارہ سے کھولا گیا۔

مصنف اور لکھاری عقیل عباس جعفری کی تحقیق کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی سے چند ماہ قبل چھوٹی چھوٹی چٹوں پر اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب افواہ اور حقیقت میں اس مقدمۂ قتل پر کئی جگہ روشنی ڈالی ہے۔ ان کے بقول نہ احمد رضا قصوری نے اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد نے 1970 سے قبل قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخاب جیتا۔ احمد رضا قصوری کو 1970 میں محض اس لیے کامیابی حاصل ہوئی کہ اسے پیپلزپارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔
بھٹو کے بقول دسمبر 1971 میں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو یہ راز ظاہر ہو گیا تھا کہ قصوری خفیہ ایجنسیوں کا تنخواہ دار ملازم تھا جو جنرل یحییٰ کی فوجی حکومت سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرتا رہا۔ بعد میں انہوں نے جنرل ضیا الحق کا آلہ کار بننا منظور کر لیا۔ بھٹو نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے کہ ابھی محمد احمد قصوری کا لہو بھی خشک نہ ہوا تھا کہ ان کا بیٹا چیختا چلاتا، بھٹو مخالفین کے پاس گیا اور ان سے مشورہ کیا کہ وہ اپنے باپ کی موت سے کیسے فائدہ اٹھائیں۔ چوہدری ظہور الٰہی بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے برامدوں میں سازش ہوئی کہ اس افسوس ناک واقعے کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ چنانچہ بھٹو پر قتل کی سازش کا الزام عائد کردیا گیا۔ بھٹو کے بقول قصوری انہیں نیچا دکھانے کے لیے موقع کی تلاش میں تھا جو اسے اپنے باپ کی موت کی شکل میں مل گیا۔

عقیل عباس جعفری کا کہنا ہے کہ قصوری نے ہر ممکن حد تک جذبات انگیز ڈرامائی صورت اختیار کی اور اس نے جتنے بھی ناشائستہ الزامات لگائے وہ انتہائی ڈرامائی تھے۔ قصوری اور اس کے ساتھی ظہور الٰہی نے فیصلہ کیا کہ مقدمے میں وزیراعظم کا نام یہ کہہ کر ملوث کر دیا جائے کہ قصوری کی صرف انہی کے ساتھ دشمنی ہے۔ اس طرح انہوں نے ایک سکینڈل کو ہوا دی اور وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ بھٹو نے محمد احمد قصوری کی موت کی تحقیقات کے لیے ٹربیونل قائم کر دیا۔ مولوی مشتاق کے ایک قریبی دوست جسٹس شفیع الرحمٰن کو اس کی سربراہی کے لیے چنا گیا۔ چونکہ یہ بات ہر کسی کو معلوم تھی کہ جسٹس شفیع الرحمٰن وزیراعظم کو پسند نہیں کرتے، اس لیے قصوری کو ٹربیونل پر مکمل اعتماد تھا اور وہ ان کے سامنے پیش ہوئے۔ ٹربیونل نے اس واقعے کی پوری تحقیقات کی۔ قصوری نے ٹربیونل میں بیان حلفی میں تسلیم کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ حملہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی دشمنی کے نتیجے میں ہوا ہو۔ انہوں نے چار قسموں کے لوگوں کے بارے میں بتایا جو ان کے بارے میں بری نیت رکھتے تھے۔

انہوں نے قادیانیوں کا ذکر کیا جن پر انہوں نے اس وقت شدید حملے کیے تھے جب قادیانی مسئلہ اپنی انتہائوں کو چھو رہا تھا۔ انہوں نے قصور میں اپنے ان مخالفین کا ذکر کیا جن کے ساتھ ان کی دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی۔ انہوں نے حزب اختلاف کے چند ارکان اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا ذکر کیا جن کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ ٹربیونل کی رپورٹ کے اختتام پر قصوری نے ٹربیونل کے اخذ کیے ہوئے نتائج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

جونہی ٹربیونل کی رپورٹ مکمل ہوئی، قصوری نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ بھٹو نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ قصوری نے وزیراعظم کو رقت آمیز خطوط لکھے۔ وزیراعظم نے آخر کار قصوری کو پارٹی کی صفوں واپس لینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ پیپلز پارٹی میں واپسی کے لیے احمد رضا قصوری کی بے چینی کا مقصد واضح تھا۔ وہ آنے والے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کا سہارا لے کر دوبارہ ایم این اے بننا چاہتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ قصور پیپلزپارٹی کا مضبوط گڑھ ہے اور وہ پیپلزپارٹی کی مدد کے بغیر انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ قصوری نے دھوم دھڑکے کے ساتھ پیپلزپارٹی میں واپس آنے کا اہتمام کیا۔

6 اپریل 1976 کو انہوں نے بیگم نصرت بھٹو سے ملاقات کی اور چار برس بعد دوبارہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے بیگم نصرت بھٹو سے درخواست کی کہ وہ پارٹی میں اس کی واپسی کے موقعے پر اپنی موجودگی سے عزت بخشیں۔
اگلے دن انہوں نے اپنی ماڈل ٹاؤن لاہور کی قیام گاہ پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی میں اپنی دوبارہ شمولیت کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔ اس استقبالیے میں انہوں نے وزیراعظم کی بے حد تعریف کی۔ ان کی ماں بیگم نواب محمد احمد خان قصوری نے سر عام اعلان کیا کہ وہ بھٹو پر اپنے تمام بیٹے قربان کر دیں گی کیونکہ وزیراعظم بھٹو کے بغیر پاکستان باقی نہیں رہے گا۔احمد رضا قصوری آئندہ انتخابات میں پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کی خواہش میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ جنوری 1977 میں اس نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی زرعی اصلاحات کی دبا کر تعریف کی۔

قصوری کو احساس تھا کہ لوگ ان کی باتوں پر حیران ہوں گے اس لیے انہوں نے مزید کہا: ’میں راست باز اور کھرے آدمی کی شہرت رکھتا ہوں۔ میں ایوان کے اس طرف سے اس حکومت کا سخت نکتہ چین تھا، اس لیے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ جب میں اس حکومت کی تعریف کرتا ہوں تو یہ چاپلوسی ہے۔ اس ملک میں بہت سے وزرائے اعظم آئے لیکن موجودہ وزیراعظم جو اس ملک کے ناؤ کو کھے رہے ہیں، ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔‘

لیکن شومئی قسمت کہ مارچ 1977 کے انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی نے احمد رضا قصوری کو ٹکٹ نہیں دیا۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ان کو متلون مزاج قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے دوست بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ بھٹو نے اپنی کتاب افواہ اور حقیقت میں لکھا ہے کہ قصوری کے باپ کے قتل کے حوالے سے اگر انہیں کوئی احساس جرم ہوتا تو وہ ان کا منہ ٹکٹ دے کر بند کر دیتے جس کے لیے وہ ’بھیک مانگ رہے تھے۔‘ انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ انہیں اس جھوٹے کیس پر کوئی احساس جرم نہیں تھا۔ اسی دوران 5 جولائی1977 کو جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور یوں چند ہی ہفتے بعد فوجی حکومت کی آشیرباد پر، احمد رضا قصوری کو بھٹو دوبارہ اپنے باپ کا قاتل نظر آنے لگے۔ محمد احمد قصوری کی بیوہ نے، جس نے بھٹو پر اپنے تمام بیٹے قربان کر دینے کا اعلان کیا تھا، ضیا کو درخواست دی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سابق وزیراعظم کے خلاف اسکے شوہر کا مقدمہ قتل دوبارہ شروع کیا جائے۔ اس دوران احمد رضا قصوری نے ضیا کے ساتھ اپنے تعلقات پر اتراتے ہوئے بتایا کہ انہیں اگلے انتخابات کے بعد جنرل ضیا نے وزیر بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے نتیجے میں بھٹو کو اس قتل کیس میں پھانسی دے دی گئی جسے تاریخ میں جوڈیشل مردر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ضیاء کے ہاتھوں استعمال ہوکر بھٹو کو تختہ دار پر پہنچانے والا احمد رضا قصوری اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک سیاست کے میدان سے دور رہا۔ بعد ازاں 1990، 1993 اور1997 کے عام انتخابات میں اس نے بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑا مگر ہر مرتبہ بری طرح ہارا۔

2002 کے انتخابات سے قبل وہ تحریک انصاف میں شامل ہونے میں کامیاب ہوا۔ 2002 میں اس نے قصور اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا مگر دونوں حلقوں سے اس کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ آج احمد رضا قصوری آئین شکنی پر سزائے موت پانے کے بعد مفرور ہو جانے والے مشرف کی قائم کردہ آل پاکستان مسلم لیگ سے وابستہ ہے۔ تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ میں احمد رضا قصوری کو ایک ولن کے طور پر پر یاد رکھا جائے گا۔

Back to top button