مودی نے پاکستانی بالادستی کے باوجود جنگ بندی معاہدہ کیوں کیا؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت جنگ بندی معاہدہ کرائے جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار اس معاہدے پر قائم رہے گی۔ اس سوال کی اصل وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے مودی کو ایک ایسے وقت میں سیز فائر پر مجبور کیا جب بظاہر جنگ میں پاکستان کا پلہ بھاری دکھائی دے رہا تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے بیچ چار روزہ کشیدگی میں ایک ڈرامائی موڑ تب آیا جب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ دونوں ملکوں میں ’فوری اور مکمل سیز فائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘ مکمل جنگ کے دہانے پر کھڑی دو ایٹمی طاقتوں کو پیچھے ہٹانے میں پس پردہ امریکی، سعودی اور برطانوی ثالثی اور سفارتی بیک چینل رابطوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم سیز فائر معاہدے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سیز فائر کتنا کمزور ہے۔ دراصل جنگ بندی کے بعد سے مودی سرکار اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہے اور یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ چنانچہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی اپوزیشن کے دباؤ میں آ کر مودی پاکستان کے ساتھ یونے والا جنگ بندی معاہدہ توڑ ڈالے۔

سیز فائر کے اعلان سے قبل لوگوں کو خدشہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان ایک بڑی اور خوفناک نیوکلئیر جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین جنگی صورتحال تب پیدا ہوئی جب انڈیا نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے جو کئی روز تک جاری رہنے والی فضائی جھڑپوں اور گولہ باری کا سبب بنے۔ 10 مئی کی صبح بھارت کی جانب سے پاکستانی ایئر بیسز پر میزائیل حملوں اور پھر پاکستان کی جانب سے خوفناک جوابی حملوں کے بعد معاملہ مکمل جنگ کی طرف جاتا دکھائی دیتا تھا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کا بھاری نقصان کرنے اور حریف کے حملے ناکام بنانے کے دعوے کر رہے تھے۔

اس دوران امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کی پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کی گئی فون کال اہم ترین پیش رفت تھی جو بالاخر جنگ بندی معاہدے پر منتج ہوئی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سیز فائر کے بعد میڈیا کو بتایا کہ سفارت کاری میں ’تین درجن ممالک‘ شامل تھے جن میں ترکی، سعودی عرب اور امریکہ شامل ہیں۔یہ پہلی بار نہیں جب پاکستان اور انڈیا کے بیچ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی ثالثی کام آئی ہو۔

سابق امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انھیں 2019 کی کشیدگی کے دوران ایک انڈین ہم منصب نے نیند سے جگا کر بتایا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ پاکستان نیوکلئیر ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ ایسے ہی خدشات انڈیا کو اب بھی پیدا ہو گے تھے جس کے بعد بھارت نے نیوکلیئر حملوں سے بچنے کے لیے صدر ٹرمپ کو ثالثی پر امادہ کیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکہ ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے ’بنیادی طور پر ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ انھوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ’ہم ان ممالک کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ بنیادی طور پر انڈیا کی پاکستان کے ساتھ لڑائی ہے۔ امریکہ انڈینز کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہتھیار ڈال دو۔ ہم پاکستانیوں کو بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہتھیار ڈال دو۔ اس لیے ہم اس معاملے کو سفارتی چینلز سے ہی دیکھیں گے۔‘

اس دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھق کہ ’میں دونوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ اس بارے خود کوئی راستہ نکالیں۔ یعنی اس مرتبہ امریکہ نے بحران کو ہوتے ہوئے دیکھا لیکن فوری طور پر اس میں نہیں کودنے سے باز رہا۔ لیکن جب اسں نے دیکھا کہ بات نیوکلیئر جنگ کی طرف جا رہی ہے تو وہ صورت حال سنبھالنے کے لیے کھل کر سامنے آ گیا۔

پاکستان میں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا اور صورتحال گھمبیر ہوتی گئی پاکستان نے ’دوہرے سگنلز‘ دینا شروع کیے، پاکستانی ایئر بیسز پر بھارتی میزائل حملوں کے پاس پاکستان نے خوفناک جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ ہم نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلا رہے ہیں جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے فیصلہ کرتی ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی جانب سے اپنی جوہری صلاحیت کی یاد دہانی تھی کیونکہ انڈیا کا یہ خیال تھا کہ اس نے پاکستان پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے اس کی جوہری شیلڈ اڑا دی ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا کہ وہ مداخلت کریں گے۔ پاکستانی فوجی ترجمان نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ امریکہ سے جنگ بندی کے لیے انڈیا نے تب رابطہ کیا جب پاکستان نے 26 بھارتی تنصیبات پر خوفناک جوابی حملے کر دیے۔ ٹرمپ کے ساتھ مودی کے ذاتی تعلقات اور امریکہ کے وسیع تر سٹریٹیجک اور معاشی مفادات نے وہ ماحول پیدا کیا جس کے باعث دونوں جوہری طاقتیں سیزفائر پر رضامند ہوئیں۔

تاہم پاک بھارت سیزفائر کی پائیداری کے حوالے سے خدشات ضرور ہیں کیوں کہ مودی سرکار اس وقت شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے اور اس پر پاکستان کے سامنے سرنڈر کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جو بھارتی میڈیا کل تک مودی سرکار کے کہنے پر جنگی جنون پیدا کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ آور تھا اب وہ واپس مودی پر چڑھ دوڑا ہے۔ ویسے بھی چیونکہ یہ سیز فائر بہت جلدی میں کیا گیا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس میں وہ یقین دہانیاں موجود نہ ہوں جو اسے پائیدار بنا سکیں۔ لہذا یہ خدشہ موجود ہے کہ مودی اپنی حکومت بچانے کی خاطر عوامی دباؤ سے نکلنے کے لیے سیز فائر توڑ ڈالیں۔

Back to top button