ضمنی الیکشن لڑنے پر PTI دو دھڑوں میں کیوں تقسیم ہوئی؟

9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے باعث ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر تحریک انصاف کی قیادت خصوصا عمران خان سخت کنفیوژن کا شکار ہیں اور کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت نے ضمنی انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ شکست کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا جائے تاکہ یہ تاثر نہ بنے کہ تحریک انصاف غیر مقبول ہو گئی ہے۔ لیکن پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اکثریتی اراکین نے ایک حالیہ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حق میں ووٹ دے دیا یے۔

اس اجلاس میں پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے 13 اراکین نے ضمنی الیکشن لڑنے کی حمایت کی جبکہ 9 اراکین نے مخالفت کی جسکے بعد پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ عمران کی غیر موجودگی میں فیصلہ سازی سنبھالنے والی علیمہ خان نے اس معاملے پر پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ساتھ کھلے عام جھگڑا کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ عمران نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا لہذا سلمان راجہ اور 12 دیگر پارٹی رہنماؤں نے الیکشن لڑنے کے حق میں ووٹ کیسے دے دیا۔ علیمہ خان کی بد زبانی کے باعث سلمان اکرم راجہ نے پارٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پہلے سے بحرانوں میں گھری ہوئی تحریک انصاف ایک نئے بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ اس معاملے پر حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی عمران خان سے ملاقات میں متوقع ہے۔

عمران کے موقف کے برعکس پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے بائیکاٹ سے ہٹتے ہوئے اکثریت کے ساتھ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حق میں ووٹ دیا تو اسے عمران کے خلاف بغاوت سے تعبیر کیا گیا۔ علیمہ خان نے سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی ضمنی انتخابات میں اس لیے حصہ نہیں لے گی تاکہ پارٹی انتخابی عمل کو "جائز” قرار دینے والی دکھائی نہ دے۔

تاہم سیاسی کمیٹی کے اکثریتی ارکان نے اپنی میٹنگ کے دوران اس موقف کے برعکس ضمنی الیکشن میں میدان حکومت کے لیے خالی نہ چھوڑنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔ یاد رہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت کئی پارٹی اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستوں سے محرومی کے خلاف حکمِ امتناع لے چکی ہے۔ لیکن اسکے باوجود، قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ ضمنی الیکشن کے لیے امیدوار بھی نامزد کیے جا رہے ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اعلان کیا کہ تمام امیدوار سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے ضمنی الیکشن کے لیے ٹکٹ حاصل کریں گے۔ یہ ایک طرح کی حفاظتی حکمتِ عملی سمجھی جا رہی ہے تاکہ اندرونِ جماعت انتخابات اور انتخابی نشان کے معاملات لٹکے رہنے کے سبب امیدواروں کو "آزاد” قرار دینے کا امکان کم ہو۔ تاہم علیمہ خان نے دوبارہ یہ موقف دہرایا ہے کہ عمران ضمنی انتخابات میں امیدوار کھڑا کرنے کے مخالف ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسا کیا گیا تو یہ نااہل قرار دیے گئے رہنماؤں کی توہین کے مترادف ہوگا۔ یہی پیغام عمران خان کے آفیشل ایکس (X) اکاؤنٹ سے بھی شیئر کیا گیا، اگرچہ وہ ذاتی طور پر سوشل میڈیا تک رسائی نہیں رکھتے۔

 

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کی جانب سے عمران خان سے اس معاملے پر ملاقات کر کے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت لیے جانے کا امکان ہے۔ ضمنی انتخابات لڑنے کے حامی پارٹی رہنماؤں کا موقف ہے کہ پارٹی کو کسی بھی صورت بائیکاٹ کر کے اپنی سیٹیں حکومت کی جھولی میں نہیں ڈالنی چاہیے چونکہ اس سے پی ٹی آئی کی عددی اکثریت مزید کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں کے پی کے کچھ ارکان نااہل ہوگئے اور پی ٹی آئی نے امیدوار نہ کھڑے کیے تو صوبے میں اس کی عددی برتری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسی لیے سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اکثریت حکومتی جماعتوں کے لیے سیاسی میدان خالی چھوڑنے کے خلاف تھی۔

اجلاس میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ کے پی کے ارکان کی ایک بڑی تعداد 26 نومبر  2024 کو اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کے والے کیسز میں نااہل ہو سکتی ہے، جس کے بعد پارٹی کے لیے صوبائی حکومت بچانا مشکل ہو جائے گا۔ کے پی حکومت اگر گھر چلی گئی تو حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں، اس لیے بائیکاٹ کے آپشن پر تو غور کرنا بنتا ہی نہیں۔ سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی قیادت کو یقین تھا کہ کے پی میں انتخابی کامیابی نسبتاً آسان رہے گی۔

تاہم جب شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر پارٹی کی جانب سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کا اعلان شیئر کیا تو سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے سخت تنقید کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔ شیخ وقاص اکرم نے تصدیق کی کہ وہ خود اور چند دیگر رہنما ضمنی الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف تھے، مگر بالآخر انہیں اکثریت کے فیصلے کے ساتھ جانا پڑا کیونکہ جمہوریت اسی کا نام ہے۔

اسی دوران ایک اور ڈرامائی پیش رفت میں سلمان اکرم راجہ نے ایکس (X) پر سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہونے کے ارادے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ عمران سے ملاقات میں باضابطہ درخواست کریں گے کہ ان کا استعفا قبول کر لیا جائے۔ اگرچہ انہوں نے وجہ واضح نہیں کی، مگر ٹویٹ کے وقت سے یہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ جس "واقعے” کی طرف اشارہ تھا وہ غالباً سیاسی کمیٹی کا ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے لکھا کہ: "میں خان صاحب سے درخواست کر کے اپنے عہدے سے استعفا دوں گا۔ میری قانونی خدمات بلا معاوضہ دستیاب رہیں گی۔”

دوسری جانب سابق قائدِ حزبِ اختلاف پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے سے متعلق ابہام اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد دور ہو جائے گا۔ لیکن انہوں نے اس موقف کی تائید کی کہ بائیکاٹ کرنے سے میدان حکومتی جماعتوں کے لیے خالی ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا: "جب تقریباً 14 صوبائی اور قومی نشستوں پر انتخابات کی طرف جائیں گے تو پارٹی وسیع سیاسی سرگرمی کرے گی، جس سے حکومت کی دھاندلی کی کوشش بھی بے نقاب ہو جائے گی۔

Back to top button