ایاز امیر جنرل ایوب کو بہترین فیلڈ مارشل کیوں سمجھتے ہیں؟

فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان دوسرے فوجی حکمرانوں سے اس لیے بہتر تھے کہ انہوں نے منافقت کرنے کی بجائے کھل کر بتا دیا تھا کہ پاکستانی عوام جمہوریت کے قابل نہیں۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل نے قوم سے بالغ رائے دہی کا حق چھین لیا۔

عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کامیاب امریکی دوروں پر تالیاں بجائی جا رہی ہیں اور انہیں عظیم کامیابیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات پہلے بھی ٹھیک رہے‘ ہمارے پاس پیسہ بھی آیا اور ہتھیار بھی ملے۔ اس دوران کئی تخت نشین آئے اور چلے گئے۔ لیکن اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا بس اتنی بات عقل میں آئی ہے کہ ریاست کی پالیسیوں میں ٹھہراؤ اور مستقل مزاجی ہونی چاہیئے۔ لیکن ریاستی معاملات میں مستقل مزاجی تب ہی پیدا ہو سکتی ہے جب حکمرانی اور معاملاتِ ریاست قانون اور قاعدے کے تحت چلائے جائیں۔ ڈنڈے سوٹے والا کام عارضی نتائج دیتا ہے۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ ریاست کی زور زبردستی کی پالیسی سے وقتی طور پر لگتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا‘ اور استحکام نصیب ہو گیا۔ ریاست کو لگتا ہے کہ شرپسندوں کا قلع قمع ہو گیا‘ ناپسندیدہ قوتوں کی بیخ کنی ہو گئی۔ لیکن یہ پالیسی عارضی ثابت ہوتی ہے اور بنیادی مسائل نہ صرف جوں کے توں رہتے ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید گمبھیر ہو جاتے ہیں۔ ڈنڈے سوٹے والی عارضی پالیسیاں اپنانے سے ایک بیماری کے بجائے کئی اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ یہ کتابی باتیں نہیں‘ یہ سب ہم نے دیکھا ہے۔ قوم یہ مشقیں بھگت چکی ہے۔ لہذا دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ پرانی رنجشوں کو بھلا دیا جائے اور ایک نئی شروعات ہو جس میں قانون اور قاعدے کا لحاظ روا رکھا جائے کیونکہ زور زبردستی والے کام زیادہ دیر چل نہیں سکتے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ پاکستان کے وجود کو ہی دیکھ لیجیے۔ پاکستان کوئی زور زبردستی سے معرضِ وجود میں نہیں آیاتھا بلکہ ایک قانونی راستہ اپنایا گیا تھا۔ تب ہمارے حاکم انگریز تھے‘ عالمی حالات نے ان کی حاکمیت کو کمزور کیا اور یہ دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہندوستان سے بوریا بسترا گول کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ اس کے بعد مقامی قوتوں سے مذاکرات ہوئے‘ برطانوی پارلیمنٹ نے آزادی اور تقسیمِ ہند کا قانون پاس کیا اور یوں ہندوستان کو آزادی مل گئی اور اسی عمل سے پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے نمودار ہوا۔ یعنی آزادی کا سارا سلسلہ انگریزی قاعدے اور قانون کے تحت پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

یہ بات بھی بھولی نہ جائے کہ وہی انگریز کا قانون پھر ہمارا قانون بنا۔ ہمارے آئین بعد میں بنے‘ اُن کی بنیاد بہرحال وہی پرانا قانون تھا۔ آج تک ہمارا عدالتی نظام‘ ہمارا فوجداری اور سول قانون‘ مختلف محکموں کے ضابطے اور قاعدے‘ تقریباً سارے کے سارے برطانوی ورثے کا حصہ ہیں۔ انگریز کے پاس طاقت تھی‘ تلوار کے ذریعے انگریز ہندوستان کا حاکم بنا۔ حاکم ہوتے ہوئے بھی انگریز راج نے قانون کی حکمرانی کا تصور رائج کیا۔ لیکن ایاز امیر سوال کرتے ہیں کہ یہ سب باتیں اتنی جلدی کیوں بھلا دی گئیں؟ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایاز امیر کو عمران خان دور میں قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑتی کیوں نظر نہیں آئیں اور تب انہوں نے یہ سوال نہیں کیا۔

عمران دور حکومت میں ہونے والی انتقامی کاروائیوں اور گرفتاریوں پر خاموشی اختیار کرنے والے ایاز امیر کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم کو واشگاف الفاظ میں بتایا جائے کہ قانون کی حکمرانی بکواس ہے اور اس ملک میں نہیں چل سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لحاظ سے تو فیلڈ مارشل ایوب خان دیانتدار انسان تھے‘ ان کا سیدھا سادھا فلسفہ یہ تھا کہ پاکستانی عوام جمہوریت کے قابل نہیں‘ یعنی وہ جمہوریت کیلئے فِٹ نہیں۔ اسی لیے فیلڈ مارشل نے بالغ رائے دہی کا حق قوم سے چھین لیا اور اس کی جگہ بنیادی جمہوریت کا نظام رائج کیا۔ اس نظام کے تحت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان سے 40 40 ہزار بی ڈی ممبران منتخب کیے گئے اور صدارتی الیکشن اور اسمبلیوں کے الیکشنوں کے لیے انہی کا ووٹ معتبر ٹھہرا۔ لہذا اگر صرف من پسند نتائج ہی حاصل کرنے ہیں تو پھر آج کے فیلڈ مارشل کو بھی ایسا ہی نظام لے آنا چاہیے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آذربائیجان کا اعلیٰ ترین عسکری اعزاز پیٹریاٹک وار میڈل عطا کردیا گیا

ایاز امیر کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر آج تک عجیب ترقی ہوئی ہے کہ بات جمہوریت کی اور کرشمات فارم 47 کے سامنے آتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایسی جرأت تو ایوب خان کے الیکشن کمیشن نے نہیں کی۔ تاہم ایاز امیر بھول گئے کہ ایسی جرات 2018 کے الیکشن میں کی گئی تھی جب الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر عمران خان کو جتوایا گیا اور خود ایاز امیر کو بھی ایم این اے منتخب کروایا گیا تھا۔

Back to top button