عمران خان کی رہائی کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی کال اب تک کیوں نہیں آئی؟

سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کی اندرونی سیاسی جنگ کا دائرہ امریکا تک پھیل چکا ہے۔ امریکا میں موجود پاکستانی ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے واشنگٹن کی جانب سے متحرک کردار ادا کرنے اور امریکی حمایت کے حصول کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے ان کی کوششوں میں واضح طور پر تیزی آئی ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جس کال کا بےصبری سے انتظار کیا جارہا ہے وہ ابھی دی نہیں گئی ہے یا شاید وہ کال کبھی دی بھی نہیں جائے گی۔ تاہم پی ٹی آئی کے حامیوں نے ہمت نہیں ہاری ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ امریکی قانون سازوں کی جانب سے پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ضرور ڈالا جائے گا۔
ڈان کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی زاہد حسین کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں کچھ پاکستانی-امریکی گروپس، سینیٹرز اور کانگریس اراکین کے ساتھ روابط میں تیزی لے کر آئے ہیں اور انہوں نے زور ڈالا ہے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کریں۔دورہِ امریکا کے دوران سابق صدر مملکت عارف علوی بھی اس مہم کا حصہ بنے جہاں انہوں نے درجن سے زائد امریکی قانون سازوں کو پاکستان کی سیاسی صورت حال سے متعلق بریفنگ دی۔گمان ہوتا ہے کہ ان کی یہ کوششیں کامیاب ہوگئیں کیونکہ چند کانگریس اراکین نے بیانات جاری کرکے پاکستانی حکومت سے سابق وزیراعظم کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ زاہد حسین کے مطابق زیادہ تر پی ٹی آئی سپورٹرز نےامریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ وہ عمران خان کی اقتدار سے برطرفی میں جوبائیڈن انتظامیہ کے مبینہ کردار بارے پی ٹی آئی الزامات کو بہتر انداز میں سمجھیں گے۔ زاہد حسین کے مطابق بہت سے پی ٹی آئی اراکین اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ عمران خان سے اقتدار چھیننے کی تمام منصوبہ بندی بائیڈن انتظامیہ کی تھی جسے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل تھی۔
زاہد حسین کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی کے حمایتیوں میں بڑے پیمانے پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات میں غیرسیاسی قوتیں ملوث تھیں جنہوں نے پی ٹی آئی کی جیت کو تسلیم نہیں کیا اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو اقتدار دیا۔ زاہد حسین کا مزید کہنا ہے کہ بیروں ملک مقیم عوام میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عمران خان کی رہائی اور پاکستان میں جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے مہم میں متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے لیے وہ واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے سے بھی دریخ نہیں کررہے جنہیں وہ ماضی میں عمران خان کا دشمن قرار دیتے تھے۔
زاہد حسین کا مزید کہنا ہے کہ بہت سے بااثر پاکستانی نژاد امریکی شہری عمران خان کی رہائی کے لیے لابنگ کررہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد پاکستانی-امریکیوں کی سیاسی سرگرمیوں کی کمیٹی میں شامل ہیں جسے پاک پیک کہا جارہا ہے۔ اس کمیٹی نے پاکستان میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورت حال اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن پر کانگریس اور سینیٹ اراکین سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں وہ گروپ جو اپنے آپ کو غیرجانبدار کہتا تھا، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے سب سے طاقتور اور بااثر گروہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں کپیٹل ہل میں کئی میٹنگز کا انعقاد کیا ہے اور چند کانگریس اراکین کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے مطالبے نے انہیں کسی حد تک کامیابی بھی دلوائی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی متزلزل معاشی صورت حال اور ملک کو درپیش دیگر چیلنجز کو بھی امریکی قانون سازوں کے سامنے اٹھایا ہے۔
زاہد حسین کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، ملک میں رائج آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف جتنی مضبوط لابنگ کررہے ہیں، اتنی مضبوط لابنگ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام تر لابنگ کے باوجود بیرون ملک مقیم پی ٹی آئی کے ہمنوااب تک عمران خان کی رہائی بارے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی طرح کا ردعمل حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا رد عمل آنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان بارے پالیسی میں امریکا اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو ترجیح دے گا اس لئے امریکہ کے عمران خان کیلئے پاکستان پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ زاہد حسین کے مطابق اگرچکہ امریکہ آمرانہ حکومتوں میں پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں اپنا کردار ادا کرچکا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملکی اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کو دعوت دینا پاکستان کے مفادات کے حق میں کبھی بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔
