ISIبھی ڈالر کی بلیک مارکیٹ کو ختم کرنے میں ناکام کیوں

ڈالر کی قیمت میں مصنوعی اضافے اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے آئی ایس آئی جیسے حساس ادارے کی براہِ راست مداخلت کے باوجود، ڈالر مافیا نہ صرف زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ ہوشیار، منظم اور جدید طریقوں سے فعال ہو چکا ہے۔  آئی ایس آئی کی مداخلت اور ایف آئی اے کے کریک ڈاؤن کے بعد ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی کے بعد بظاہر لگتا ہے کہ  ریاستی اداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، تاہم حقیقت میں اصل کنٹرول اب بھی ان ہاتھوں میں ہے کیونکہ ڈالر مافیا پہلے سے زیادہ منظم اور جدید ہو چکا ہے۔ جو اب واٹس ایپ چیٹ گروپس، کرپٹو ادائیگیوں اور ہوم ڈیلیوری جیسے طریقوں سے حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی محض ایک دکھاوا ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اصل کھیل اب زمین کے اوپر نہیں بلکہ زیرِ زمین واٹس ایپ گروپوں، خفیہ ڈیلز اور ہوم ڈیلیوری کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطاباق پاکستان میں ڈالر کی بلیک مارکیٹ کا گھناؤنا کاروبار اسمارٹ فونز اور ہوم ڈیلیوری تک منتقل ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق 22 جولائی سے کئی غیر لائسنس یافتہ ایکسچینج شاپس بند ہیں جبکہ کرنسی ڈیلرز کے خلاف آئی ایس آئی کی جانب سے شکنجہ کسنے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے چھاپوں کے بعد روپے کی قدر میں بہتری دیکھی گئی، جو 19 جولائی کو اوپن مارکیٹ میں 288.6 روپے فی ڈالر تھی، وہ حالیہ دنوں میں کم ہو کر تقریباً 286 پر آ گئی ہے ۔تاہم بینکرز اور کرنسی ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ ریاستی کارروائیوں کے باوجود ڈالر کی بلیک مارکیٹ کا کاروبار اب بھی جاری ہے  اور خدشہ ہے کہ کریک ڈاؤن کے اثرات عارضی ثابت ہوں گے ۔

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں کے خوف سے شاپس تو بند ہیں، لیکن کچھ ڈیلرز پس پردہ چھوٹے بوتھز میں کام کر رہے ہیں۔ڈالر کی بلیک مارکیٹ میں کاروبار رکا نہیں، بس مافیا نے اپنا کاروبار کرنے کی جگہ بدل لی ہے ۔ اب سارا کاروبار واٹس ایپ پر شفٹ ہو گیا ہے اور مافیا نے جاننے والے کسٹمرز کو ہوم ڈیلیوری بھی شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے بقول ڈالر کی بلیک مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی محفوظ جگہوں پر منتقل ہو چکے ہیں اور کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، بلیک مارکیٹ اور اوپن مارکیٹ کی قیمتوں میں بڑے فرق کی وجہ سے اب تو عام خریدار بھی باضابطہ فارن ایکسچینج مارکیٹ کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سخت کاغذی کارروائی کی وجہ سے وہ فارن ایکسچینج کا غیر روایتی راستہ اختیار کرتے ہوئے فارن ایکسچینج کے ایک چیٹ گروپ کے ذریعے لین دین کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ گروپوں میں ڈالر کی بلیک مارکیٹ عروج پر ہے کیونکہ ان گروپوں میں ‘‘سب لوگ یا تو خریدار ہوتے ہیں یا فروخت کنندہ۔ نہ اس میں کوئی مڈل مین ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو کمیشن دینا پڑتا ہے جبکہ ڈالر کی اکثریتی ڈیلز نقد کیش پر انجام پاتی ہیں جبکہ بینک ٹرانسفر یا کرپٹو کے ذریعے ادائیگی کی سہولت بھی دی جاتی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں سٹیٹ بینک نے مختلف بینکوں کے حکام کو طلب کیا اور ہدایت دی کہ وہ اوپن مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر ڈالر نہ خریدیں کیونکہ اس سے مارکیٹ خراب ہو رہی ہے ۔بینکوں کو کہا گیا ہے کہ وہ صرف برآمدات اور ترسیلات زر سے آنے والی اپنی آمدنی پر انحصار کریں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ذرائع کمزور ہو چکے ہیں کیونکہ برآمد کنندگان ڈالر روک کر بیٹھے ہیں، اس امید میں کہ روپیہ مزید کمزور ہو گا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی کم ہو رہی ہیں کیونکہ بینکوں نے دی جانے والی مراعات ختم کر دی ہیں۔جس کی وجہ سے جہاں ترسیلات زر کے قانونی ذرائع کمزور ہو رہے ہیں وہیں دوسری جانب بلیک مارکیٹ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی نظر آتی ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالرز کی سمگلنگ روکنے کے لیے ائی آیس آئی کی مدد مانگ لی ہے۔ پاکستانی ایکسچینج کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ’ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ کے چیئرمین ملک بوستان نے دعویٰ کیا ہے ان کے ایک وفد نے آئی ایس آئی کے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس میجر جنرل فیصل نصیر سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ڈالر کی سمگنگ روکنے کے لیے ان کی مدد مانگی۔ ایسوسی ایشن کےجاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران آئی ایس آئی کہ سینیئر افسر کو حالیہ ہفتوں میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہاں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی سمگلنگ ہے۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ’ ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس سے ملاقات کے دوران انھیں بتایا گیا کہ آج کل کرنسی مافیا والے امریکی ڈالر سمگل کر کے ایران اور افغانستان لے جا رہے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ تمام بڑے شہروں میں کرنسی ایکسچینج کے دفاتر کے باہر ’کرنسی سمگلرز کے کارندے کرنسی تبدیل کرانے والے کسٹمرز کو زیادہ ریٹ کا لالچ دے کر ڈالر بلیک مارکیٹ کے ریٹ پر خریدتے ہیں جس کی وجہ سے کرنسی تبدیل کرانے والے کسٹمرز لیگل ایکسچینج کمپنیوں کے کاؤنٹرز پر نہیں پہنچ پا رہے۔ چنانچہ بلیک مارکیٹ میں ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی سپلائی دن بہ دن کم ہو رہی ہے۔

Back to top button