عاصم منیر پاکستانی تاریخ کے خوش قسمت ترین جرنیل کیوں؟

2025 کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے بے پناہ دنیاوی کامیابیوں کا سال قرار دینا بے جا نہ ہوگا، کیونکہ اس برس وہ نہ صرف انڈیا کیخلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے پر فیلڈ مارشل بنا دیے گئے، بلکہ انہیں چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں۔ یوں وہ پاکستانی تاریخ کے طاقتور اور بااختیار ترین فوجی سربراہ بن گے، جنہیں نہ صرف امریکی صدر ٹرمپ بلکہ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، کی حمایت بھی حاصل ہے۔
2025 کی اہم ترین ڈویلپمینٹ یہ تھی کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بناتے وقت تاحیات استسنیٰ بھی دے دیا گیا، یعنی اب اپنی سروس کے دوران یا اس کے بعد عاصم منیر کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ ویسے بھی اب عاصم منیر طویل ترین عرصے تک آرمی چیف رہیں گے۔بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کے بعد عاصم منیر کی مدتِ ملازمت 2030 میں ختم ہو گی، جس میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔ 4 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ پانچ سال تک بیک وقت پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس طرح وہ بیک وقت تین طاقتور ترین عسکری عہدوں پر تعینات رہیں گے۔
ایوانِ صدر کے مطابق ان کی مدتِ ملازمت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ جنرل عاصم منیر نومبر 2022 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوسری مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد آرمی چیف مقرر کیے گئے تھے۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی تھی، جس کے تحت جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت 2027 میں مکمل ہونا تھی۔ تاہم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفینس فورسز کا اضافی آئینی عہدہ بھی ہے اور نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق وہ اگلے پانچ برس کے لیے دونوں مناصب پر برقرار رہیں گے۔
دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں حکومتیں ہمیشہ اپنی پسند کا آرمی چیف لانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں، لیکن اکثر یہ تعلق اختلاف پر منتج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ آئینی ترمیم سے بظاہر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو سیاسی فائدہ ہوا ہے، مگر اس کا نتیجہ اداروں کی مزید کمزوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بعد تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان کھلی سیاسی جنگ کا تاثر مضبوط ہوا ہے، کیونکہ سابق وزیر اعظم عمران خان مسلسل جنرل عاصم منیر پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ حامد میر کے مطابق جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے ملک میں فوری سیاسی استحکام آنے کی امید نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ لڑائی دنیا کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ میں موجود پاکستان مخالف لابی تحریک انصاف کی قیادت کے مقدمات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دے رہی ہے اور امریکی سینیٹرز کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔
تاہم حامد میر کے مطابق فوج اور سکیورٹی اداروں میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کو اب بھی بھارت کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کا احساس ہے، اسی لیے عاصم منیر کو چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ دیا گیا اور ائیر چیف کی مدتِ ملازمت میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ اس اہم اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی عاصم منیر سے متعلق بحث جاری ہے۔ ایکس پر صارفین اس فیصلے کے سیاسی اور عسکری اثرات پر تبصرے کر رہے ہیں۔ صارف عمر اظہر نے عاصم منیر کی 2030 تک توسیع شدہ مدت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی تاریخ میں اس سے قبل کبھی کسی حاضر سروس آرمی چیف کو ایسی آئینی حیثیت یا مدتِ ملازمت میں اتنی بڑی توسیع نہیں ملی، اور یہ فیصلہ انہیں پاکستان کا تاریخ کا طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والا آرمی چیف بناتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفینس فورسز تقرری نے ملکی سیاست میں تحریک انصاف کی رہی سہی امیدیں بھی ختم کر دی ہیں۔
