ٹرمپ کی جیت کے بعد بھی عمران کی فوری رہائی کا امکان کیوں نہیں؟

امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور صدر کامیابی کے بعد اب اندرون ملک اور بیرون ملک موجود پاکستانی یوتھیوں نے نئے امریکی صدر سے قیدی نمبر 804 کہلانے والے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کر لی ہیں، تاہم بین الاقوامی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ یا ٹرمپ ایسی پوزیشن میں نہیں کہ پاکستانی فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہو سکیں، خصوصا ملکی سیاست کے حوالے سے تو ایسا ہوتا بالکل بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

ٹرمپ کی جیت پرپی ٹی آئی کے دعوے

ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع فتح کے بعد تحریک انصاف کے کئی مرکزی قائدین یہ دعوی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جنوری میں عہدہ سنبھالتے ہی نئے صدر اپنے قریبی دوست عمران خان کی رہائی کیلئے فوری اقدامات کرینگے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر سے ایسی امید وابستہ کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

چونکہ عمران خان کئی قانونی کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی رہائی تب ہی ممکن ہے جب عدالتیں انہیں بری کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی ماضی میں امریکہ نے کبھی کسی سابقہ پاکستانی وزیراعظم کو ریلیف دلوانے کے لیے کردار ادا نہیں کیا۔

نوازشریف کی ڈیل میں سعودیہ نے کرداراداکیاتھا،لکھاری

ماضی میں اگر پاکستان کے کسی سزا یافتہ سابق وزیر اعظم کو رہائی دلوانے کے لیے کسی ملک نے کردار ادا کیا ہے تو وہ سعودی عرب ہے جس نے جنرل مشرف سے ڈیل کرتے ہوئے نواز شریف کو رہا کروا کر جلا وطنی دلوائی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی اور امریکی حکومتوں یا دونوں اطراف کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آپسی تعلقات کی نوعیت ایسی نہیں کہ وہ ذاتی دوستیوں کیلئے کسی ملک سے تعلقات بنائیں یا بگاڑیں۔

ویسے بھی تمام ممالک خارجہ تعلقات کے حوالے سے اپنے ملکی مفادات کو سب سے پہلے دیکھتے ہیں۔ اس لئے یوتھیوں کا ٹرمپ سے عمران کی رہائی کی اُمید لگانا فضول اور بے بنیاد ہے۔

عمران خان کی رہائی کیلئے زلفی بخاری سرگرم

تاہم عمران خان کے لیے ہمدردی رکھنے والے یوتھیے تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے مطابق کپتان کے دوست زلفی بخاری کے ٹرمپ کے داماد سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور دونوں مسلسل رابطے میں ہیں۔ انکے مطابق پی ٹی آئی کی امریکہ میں موجود دو لابنگ فرمز نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے دوران دن رات انکے لیے کام کیا، ایسے میں عمران خان کی رہائی کیلئے ٹرمپ سے اُمیدیں لگانے میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن غیر جانبدار مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امریکی کانگریس اور برطانوی اراکین پارلیمینٹ کی جانب سے عمران کے حق میں خطوط لکھنے کے باوجود پاکستانی حکومت پر رتی بھر اثر نہیں ہوا تھا۔ الٹا پاکستانی پارلیمنٹ نے ان خطوط پر رد عمل دیتے ہوئے انہیں پاکستان کی اندرونی سیاست میں کھلم کھلی مداخلت قرار دے دیا تھا۔

ٹرمپ کی عمران خان کیلئے کوشش خام خیالی قرار

مبصرین کسی حکومت یا صدر سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قیدی کی رہائی کیلئے دباو ڈالے گا، خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئے امریکی صدر اپنی کامیابی کے کم از کم 80 روز بعد عہدہ سنبھالیں گے۔ اسکے بعد بھی نئے صدر ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی فیصلے کرنے کی بجائے ملکی معاملات کی بہتری پر توجہ دینگے، نہ کہ وہ پاکستان اور عمران خان کے بارے میں سوچیں گے۔

ویسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مثالی تعلقات بارے ساری دنیا جانتی ہے اور اسی لیے انڈیا ہمیشہ کی طرح اب بھی امریکہ کی پہلی ترجیح رہے گا۔

Back to top button